Preloader
University of Baltistan Sakardu

اہم نکات (Key Highlights)

  • دیرینہ مسئلہ: یونیورسٹی آف بلتستان سکردو کو جانے والی 4 سے 5 کلومیٹر طویل سڑک کی خستہ حالی کے باعث گلگت بلتستان کے 10 اضلاع سے آنے والے ہزاروں طلبہ روزانہ شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
  • حکومتی وعدے و تاخیر: انتخابات اور نئی حکومت کے قیام کے باوجود ٹینڈرنگ اور تعمیراتی کام کا عمل تعطل کا شکار ہے، جس پر تعلیمی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
  • صحت و تعلیم پر اثرات: سڑک پر اڑنے والے گرد و غبار اور مسلسل کھڈوں کی وجہ سے طلبہ اور اساتذہ کی صحت متاثر ہو رہی ہے جبکہ سفری صعوبتوں کے باعث تدریسی اوقات بھی ضائع ہو رہے ہیں۔
  • حکام سے مطالبہ: طلبہ اور شہری تنظیموں نے حکومتِ گلگت بلتستان اور ضلعی انتظامیہ سے کسی بھی مزید تاخیر کے بغیر فوری عملی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

خصوصی رپورٹ (نیوز ڈیسک):

اعلیٰ تعلیم کا حصول ہر شہری کا بنیادی اور آئینی حق ہے، لیکن جب تعلیمی اداروں تک پہنچنے کے راستے ہی کھنڈر بن جائیں تو علم کی شمع روشن رکھنا ایک کٹھن امتحان بن جاتا ہے۔ گلگت بلتستان کے سب سے بڑے تعلیمی مرکز یونیورسٹی آف بلتستان، سکردو کے ہزاروں طلبہ اور اساتذہ ان دنوں کچھ اسی قسم کی صورتحال سے دوچار ہیں۔

یونیورسٹی کی جانب جانے والی محض 4 سے 5 کلومیٹر طویل سڑک کی عدم تعمیر اور شدید خستہ حالی نے نہ صرف طلبہ کے روزمرہ کے سفر کو وبالِ جان بنا دیا ہے، بلکہ علاقائی سطح پر انتظامی غفلت اور سیاسی وعدوں کی قلعی بھی کھول کر رکھ دی ہے۔ بارہا مطالبوں اور احتجاجی آوازوں کے باوجود اس مختصر شاہراہ کی تعمیر پر تاحال کوئی عملی پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔

پس منظر: وعدے، امیدیں اور مسلسل لیت و لعل

یونیورسٹی آف بلتستان سکردو کی سڑک کی تعمیر کا مسئلہ نیا نہیں ہے۔ ماضی میں جب بھی طلبہ یا مقامی شہریوں کی جانب سے اس مسئلے پر آواز اٹھائی گئی، تو متعلقہ حکام اور انتظامیہ کی جانب سے تسلی بخش جوابات دیئے گئے۔

پہلے مرحلے میں طلبہ کو یہ کہہ کر خاموش کرایا گیا کہ خطے میں عام انتخابات کا عمل قریب ہے اور انتخابات کے بعد جیسے ہی نئی حکومت قائم ہوگی، سڑک کا باقاعدہ ٹینڈر جاری کر کے تعمیراتی کام کا آغاز کر دیا جائے گا۔

تاہم، انتخابات مکمل ہوئے، نئی حکومت نے حلف اٹھایا اور انتظامی ڈھانچہ بھی فعال ہو گیا، لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ یونیورسٹی روڈ کی حالتِ زار میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ کاغذات کی حد تک تو منصوبے بنتے رہے، لیکن زمین پر عملی کام کا نام و نشان تک نظر نہیں آتا، جس سے طلبہ اور اساتذہ میں شدید مایوسی پھیل چکی ہے۔

پورے گلگت بلتستان کا تعلیمی محور: سفر کی صعوبتیں اور چیلنجز

یونیورسٹی آف بلتستان صرف سکردو شہر کے طلبہ تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ پورا خطہ گلگت بلتستان کے لیے ایک کلیدی تعلیمی ادارے کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہاں خطے کے تمام 10 اضلاع سے تعلق رکھنے والے طلبہ علم کی پیاس بجھانے آتے ہیں۔

اگر جغرافیائی اعتبار سے دیکھا جائے تو اس ادارے میں درج ذیل دور دراز علاقوں سے طلبہ روزانہ یا مسلسل قیام کر کے تعلیم حاصل کرتے ہیں:

  1. ضلع شگر: اسکولی اور وادیِ شگر کے دور افتادہ دیہات۔
  2. ضلع گانچھے: خپلو، سلتورو اور سرحد کے قریب واقع دیگر وادیاں۔
  3. ضلع کھرمنگ: اولڈنگ اور پاکستان انڈیا سرحد کے قریبی دیہات۔
  4. ضلع روندو: شنگوس اور کھٹانہ جیسے دور دراز علاقے جہاں سے سڑکوں کا سفر پہلے ہی انتہائی دشوار ہے۔
  5. دیگر اضلاع: گلگت، نہر، غذر، ہنزہ، نگر اور استور سے آئے ہوئے طلبہ۔

ان تمام اضلاع کے طلبہ جب سکردو پہنچ کر یونیورسٹی کا رخ کرتے ہیں تو انہیں آخری 5 کلومیٹر کا سفر زندگی کا سب سے مشکل مرحلہ محسوس ہوتا ہے۔ گرد و غبار کے بادل، سڑک میں موجود گہرے کھڈے اور گاڑیوں کی زبوں حالی نہ صرف وقت کے ضیاع کا باعث بنتی ہے بلکہ طلبہ کی ذہنی اور جسمانی توانائیاں بھی نچوڑ لیتی ہے۔

طلبہ کی صحت اور تعلیمی معیار پر اثرات

محض سڑک نہ ہونے کا اثر صرف گاڑیوں کی خرابی تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس کے اثرات براہِ راست طلبہ کی صحت اور تعلیمی کارکردگی پر مرتب ہو رہے ہیں:

  • طبی مسائل: سڑک پر اڑنے والی گرد و غبار کی وجہ سے طلبہ، اساتذہ اور ڈرائیوروں میں سانس، گلے کی خرابیاں اور آنکھوں کے امراض عام ہو رہے ہیں۔
  • جسمانی تھکاوٹ: 5 کلومیٹر کے اس کھنڈر راستے پر روزانہ سفر کی وجہ سے طلبہ شدید جسمانی درد اور تھکن کا شکار رہتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ کلاس رومز میں پوری توجہ سے تعلیم حاصل نہیں کر پاتے۔
  • وقت کا ضیاع: جو سفر محض 10 سے 15 منٹ میں طے ہونا چاہیے، اس پر کھڈوں اور خستہ حالی کے باعث 45 منٹ سے ایک گھنٹہ لگ جاتا ہے، جس سے قیمتی تدریسی وقت ضائع ہوتا ہے۔
   [ سفر کا دورانیہ اور مشکلات ]
   طے شدہ وقت (بہتر سڑک): 10 - 15 منٹ
   موجودہ وقت (خستہ حال سڑک): 45 - 60 منٹ
   نتیجہ: روزانہ وقت اور توانائی کا شدید ضیاع

حکومتی ذمے داری اور انتظامی غفلت پر سوالات

تعلیمی ماہرین اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ ریاست کی پہلی ترجیح تعلیمی اداروں کو بنیادی سہولیات فراہم کرنا ہونی چاہیے۔ جب حکومت اربوں روپے کے دیگر ترقیاتی منصوبوں پر کام کر سکتی ہے، تو 4 سے 5 کلومیٹر طویل ایک تعلیمی شاہراہ کی تعمیر کے لیے فنڈز کی عدم فراہمی یا عملدرآمد میں تاخیر سمجھ سے باہر ہے۔

ضلعی انتظامیہ، محکمہ مواصلات و تعمیرات (PWD) اور حکومتِ گلگت بلتستان سے یہ سوال پوچھا جا رہا ہے کہ:

  • کیا ایک تعلیمی ادارے کی سڑک کی تعمیر کے لیے بھی طلبہ کو سڑکوں پر نکل کر احتجاج کرنا پڑے گا؟
  • انتخابات کے وقت کیے گئے وعدوں پر عملدرآمد میں کون سی رکاوٹیں حائل ہیں؟
  • تعلیمی اداروں کے ارد گرد کے انفراسٹرکچر کو ترجیحی بنیادوں پر کیوں حل نہیں کیا جاتا؟

طلبہ کا مطالبہ: “ہمیں وعدے نہیں، عمل چاہیے!”

یونیورسٹی آف بلتستان کے طلبہ، اساتذہ اور مقامی شہریوں نے اجتماعی طور پر حکومتِ گلگت بلتستان، ضلعی انتظامیہ سکردو اور محکمہ مواصلات سے پرزور اپیل کی ہے کہ یونیورسٹی روڈ کی تعمیر کا کام بغیر کسی مزید تاخیر کے فوری طور پر شروع کیا جائے۔

طلبہ کا کہنا ہے کہ وہ کھوکھلے وعدوں اور تسلیوں سے تنگ آ چکے ہیں۔ اب انہیں کاغذوں پر منصوبے نہیں بلکہ سڑک پر عملی کام (مشینری اور تعمیراتی عمل) نظر آنا چاہیے۔ اگر اس دیرینہ اور اہم مسئلے کو فوری طور پر حل نہ کیا گیا تو طلبہ کے پاس اپنے آئینی و جمہوری حق کے تحت سڑکوں پر نکلنے اور احتجاج کرنے کے علاوہ کوئی راستہ باقی نہیں بچے گا۔

تعلیمی اور سماجی حلقوں نے امید ظاہر کی ہے کہ حکومتِ گلگت بلتستان اور متعلقہ ادارے طلبہ کی اس جائز تشویش اور مسئلے کی سنگینی کو محسوس کرتے ہوئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کا اعلان کریں گے تاکہ گلگت بلتستان کے روشن مستقبل کی ضامن اس یونیورسٹی کے طلبہ سکون کے ساتھ اپنی تعلیم پر توجہ مرکوز کر سکیں۔