google-site-verification=aZNfMycu8K7oF6lNUgjpjoa8ZAyM0qfHriwatL8flQ4
West supporting terrorist in Middle East

کیا آپ جانتے ہیں کہ امریکہ، برطانیہ اور فرانس نے اربوں ڈالر کا اسلحہ یمن لبنان لیبیا سوڈان شام میں دہشتگردوں میں بانٹا تھا؟ یہ ایک خفیہ امریکی پروگرام ٹمبر سائیکامور کے تحت کیا گیا تھا۔ صرف ایک سال میں اس پر ایک ارب ڈالرز سے زیادہ خرچ کیا گیا تھا۔
9/11 کے واقعہ کے بعد عراق افغانستان لیبیا پر اتحادی افواج کا کنٹرول ہوا، اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کی جانب سے انسانی حقوق کے تناظر میں پابندیوں کی پالیسیوں کا اطلاق ہوا۔۔۔۔۔
یہ وہ زمانہ تھا جب میزائل اور ہتھیار ایک محاذ سے دوسرے محاذ شفٹ ہو رہے تھے اور دنیا حیران تھی کہ اچانک یہ دہشتگرد تنظیمیں کہاں سے نکل آئی ہیں اور اس قدر مضبوط کیسے ہو گئی ہیں۔ القاعدہ بوکو حرام داعش کا ظہور کوئی اتفاقی حادثہ نہیں تھا۔ مغرب نے جنہیں دہشتگرد قرار دیا انہیں ہی حمایت بھی فراہم کیں۔

اس کہانی کو سمجھنے کے لیے آپ کو سنہ 2012ء کے آس پاس(عرب بہار ) جانا پڑتا ہے۔ یمن لبنان سوڈان عراق لیبیا صومالیہ کے ساتھ ساتھ شام میں خانہ جنگی شروع کروا دی گئی تھی۔ مغربی ممالک شام کی حکومت کو بھی ہٹانا چاہتے تھے۔ انہوں نے حکومت مخالف گروہوں کو “معتدل باغی” قرار دیا اور ان کی دہشتگردی اور شام میں حکومت مخالفت کو جائز تسلیم کیا۔۔۔

دنیا کو بتایا گیا کہ یہ ساری مدد بہت سخت کنٹرول میں دی جا رہی ہے۔ امریکی سی آئی اے اور برطانوی ایم آئی سکس مختلف گروہوں کا بایومیٹرک ڈیٹا لے رہی تھیں ۔ ہمنوا کمانڈروں کی بیک گراؤنڈ چیکنگ ہو رہی تھی۔ انٹرویوز ہو رہے تھے۔ دنیا کو مختلف طریقوں سے عالمی فورمز اور میڈیا کے ذریعے یہ یقین دہانیاں کروائی جا رہی تھیں کہ ہتھیار صرف درست لوگوں کو ملیں گے۔ مشرق وسطی کے مختلف ممالک میں خفیہ تربیتی کیمپ قائم کیے گئے۔ برطانوی ایجنسی ایم آئی سکس نے ڈرونز، مواصلاتی سامان، ادویات اور مالی مدد فراہم کی، طبی مدد کا سب سے زیادہ پروپیگنڈہ کیا گیا۔ فرانس نے انٹیلی جنس اور ٹریننگ میں کردار ادا کیا۔ لیکن میدان جنگ کی حقیقت اس سے بالکل مختلف تھی۔ لیبیا سوڈان یمن و شام میں سینکڑوں چھوٹے بڑے مسلح گروہ تیار کئے گئے تھے۔ ان گروہوں میں اتحاد بدلتے رہتے تھے۔ اور پھر اچانک دنیا نے نیٹو امریکی اسلحہ دہشتگردوں کے ہاتھوں میں دیکھا۔ غیر جانبدار عالمی میڈیا نے “ہیلری کلنٹن” کی سینکڑوں ای میلز اور وکی لیکس بورڈ نے امریکہ، برطانیہ اور فرانس کی دہشتگردوں کو مدد کے ثبوت ساری دنیا کے سامنے رکھ دیئے ۔

ایک قصہ بہت مشہور ہوا تھا کہ امریکہ نے ایک خاص گروہ کو تربیت اور اسلحہ دیا جسے ڈویژن تھرٹی(Division 30) کہا جاتا تھا۔ القاعدہ سے وابستہ النصرہ فرنٹ نے ہتھیاروں کے حصول کیلئے ان پر حملہ کیا تو ڈویژن تھرٹی کے جنگجووں نے وہی امریکی اسلحہ النصرہ کے حوالے کر دیا۔ اس خبر کو واشنگٹن پوسٹ(Washington Post) نے بہت مشہور کیا۔ آج دیکھیں تو صاف نظر آتا ہے کہ القاعدہ، بوکو حرام، داعش، النصرہ اور درجنوں دیگر دہشتگرد گروہوں کو امریکہ اور اتحادیوں کی خوب مدد میسر تھی۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اسٹیبلشمنٹ مشترکہ طور پر میڈیا کے ذریعے پروپیگنڈہ کیا جا رہا تھا امریکہ و اتحادی دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں ۔ جبکہ ان ہی مسلم خطوں میں دہشتگرد گروہوں کے خلاف روس اور اتحادی لڑ رہے تھے۔ داعش اور القاعدہ کو انہی طاقتوں نے شکست دی تھی مگر امریکہ اور اتحادیوں نے داعش اور القاعدہ کو محفوظ رکھا اور پھر موقع ملتے ہی ان دہشتگردوں میں نئی روح پھونک دی۔ اور پھر دنیا نے یہ تماشہ بھی دیکھا کہ جنہیں دہشتگرد قرار دے رکھا تھا انہی کو شام کی حکومت سونپ دی گئی اور آج وہ مغرب(یورپ امریکہ) کے اہم اسٹریٹیجک پارٹنر قرار دیئے جا چکے ہیں۔

جسے معتدل قرار دے کر اسلحہ دیتے رہے وہ بھی انتہا پسند ہی ثابت کئے گئے ۔ ایک مثال نورالدین الزنکی موومنٹ کی تھی، کہا گیا کہ یہ ایک معتدل ہے۔ 2016 میں اس گروپ کے ایک دہشتگرد نے ایک قیدی کا سر قلم کرتے ہوئے ویڈیو جاری کر دی۔ اس کے بعد امریکہ اور یورپی اتحادیوں کو بہت شرمندگی اٹھانا پڑی اور اس گروہ کی مدد بظاہر روک دی گئی تھی ۔ یہ سب کرنے کی ضرورت اس لئے پیش آئی کیونکہ ایسے واقعات نے مغربی ممالک کے اندر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے تھے۔ مغربی عوام کو تو یہ خبر نہیں تھی ان کی حکومتیں ایک طرف تو دہشتگردی کے خلاف جنگ کا پروپیگنڈہ کرتی رہی ہیں اور دوسری طرف انہی گروہوں کو ہر ممکن مدد فراہم کر رہی ہیں۔ یورپ امریکہ کو مجبوراً عالمی برادری کے سامنے تربیتی پروگراموں کی ناکامی کا اعتراف کرنا پڑا۔۔

یمن لبنان شام سوڈان میں دہشتگردی کی حمایت سے ملک مکمل طور پر تباہی کے دلدل میں دھنس گیا لیکن حکومتیں ختم نہ ہو سکی اور مستقبل کنٹرول ممکن نہ ہوا۔ وجہ یہ تھی کہ مغرب دہشتگردوں کی کھل کر مدد نہیں کر سکتا تھا کیونکہ وہ پوری دنیا میں کھل کر (دہشتگردی کے خلاف جنگ اور انسانی حقوق عورتوں کی مادر پدر آزادئ) پروپیگنڈہ مہمات چلا رہے تھے اور جب انکا اپنا تعلق ان دہشتگردوں سے دنیا کو پتہ چلتا تو ایک عجیب و غریب صورتحال ابھرتی تھی۔ اس لئے یہ پورا عمل 2017ء میں بند کرنا پڑا۔ ٹرمپ نے ٹمبر سائیکامور پروگرام ختم کرنے کے حکمنامے پر دستخط کئے۔ سچ یہ ہے کہ روس اور حمایتیوں نے مخالفت دہشتگردوں کو شکست دے دی تھی اور امریکہ کے پاس اسلحہ دینے کیلئے کوئی بچا ہی نہیں تھا۔ ٹرمپ نے اپنے مخصوص انداز میں کہا کہ یہ پیسے کا ضیاع(کرپشن ہوئی) ہے اور اسلحہ غلط ہاتھوں میں جا سکتا ہے وغیرہ وغیرہ ۔ برطانیہ اور فرانس نے بھی تا حکم ثانی اپنی سرگرمیاں محدود کر دیں۔ شام کو وقتی طور پر سکون کا سانس ملا۔
لیکن پھر اکیلے امریکہ نے ایک نئی پالیسی اختیار کرنا شروع کی۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ بند کر کے دوبارہ سے مسلمانوں کے اندر شدت پسندی کو حمایت فراہم کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا۔ جو دہشتگرد یمن سوڈان عراق لیبیا کے بعد شام میں استعمال ہوئے تھے انہیں افغانستان میں جمع کیا جانے لگا۔ افغانستان سے انخلاء کے وقت وہاں جان بوجھ کر بیشمار اسلحہ چھوڑا گیا۔ مقصد یہ تھا کہ دہشتگردوں کو چین اور ایران کے خلاف لڑوایا جائے۔ پاکستان کو ایک بار پھر وہی کردار ادا کرنے کا کہا گیا جو اس نے سوویت یونین کے خلاف کیا تھا۔ لیکن علاقائی حالات نے پلٹا کھایا اور پاکستان نے چین، روس اور ایران کے خلاف آلہ کار بننے سے انکار کر دیا۔ اس لئے اب وہی دہشتگرد پاکستان پر چھوڑ دئے گئے ہیں۔ ان دہشتگردوں کے پاس وہی ہتھیار ہیں جو امریکہ، افغانستان سے نکلتے وقت بہت conveniently چھوڑ گیا تھا۔ پاکستان نے ان دہشتگردوں کی سرپرستی سے انکار کیا ہے تو یہ کام انڈیا کو (چین پاکستان ایران کے خلاف) سونپا گیا ہے۔

مسلمانوں کے خلاف دہشتگردی کے نام پر جنگ اس لئے موخر کی گئی ہے کیونکہ چین ایک بہت بڑا خطرہ بن کر ابھرا ہے اور امریکہ ٹیرف کی جنگ برداشت کر جکا۔ دوسری طرف روس کی جنگ بھی توقعات کے برعکس بیحد پیچیدہ ہو چکی ہے۔
اگر روس اور چین ہار جاتے ہیں تو مسلمانوں کے خلاف دہشتگردی کی جنگ وہیں سے شروع کی جائے گی جہاں اسے روکا گیا ہے۔
ایران قطر حملوں کے بعد مشرقِ وسطیٰ کے عرب ممالک میں یہ تاثر پختہ ہوا ہے کہ مغرب یورپ امریکہ کے “انسانیت اور دہشت گردی کے خلاف جنگ” کے نعرے صرف سیاسی مفادات کے تابع ہیں۔ اس لیے اب یہ ممالک (مثلاً ترکیہ سعودی عرب اور ایران) چین اور روس کی طرف جھکاؤ دکھا رہے ہیں، جو ان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے بجائے تجارت کو ترجیح دیتے ہیں۔
​مشرق وسطی میں دہشتگردی کے خلاف جنگ کی غیر حقیقت پسندانہ پالیسیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام اب عالمی امن کے لیے خطرہ بن چکا ہے، جو رواداری اور انسانیت کے ساتھ ساتھ وسائل کے ضیاع اور ماحولیاتی اثرات کا سبب بن رہا ہے۔
​جبکہ دنیا کو ماحولیاتی تبدیلی اور غربت کے لیے کھربوں ڈالرز کی ضرورت ہے، جنگوں پر ہونے والے اخراجات ان عالمی مسائل کو حل کرنے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔

دوستو زیادہ سے زیادہ شئیر کیجئے۔ سب کو بتائیے کہ مسلمان ممالک تقسیم ہوئے، استعمال ہوئے، تباہ ہوئے اور بدنام ہوئے۔۔

About The Author

Glimpse of Cricket بشیر بلور پشاور جلسہ Ambani showing Vantra to Messi Pakistan U-19 The Asian Champion Jobs 14 Dec 2025