Preloader
Who is the winner of Israeli elections

اہم نکات (خلاصہ)

  • انتخابی نتائج کا تعطل: 90 فیصد سے زائد ووٹوں کی گنتی کے بعد بھی اسرائیل کی 120 نشستوں والی پارلیمان (کنیسیٹ) میں کوئی بھی سیاسی اتحاد حکومت بنانے کے لیے درکار 61 نشستوں کی حد عبور نہیں کر سکا ہے۔
  • نشستوں کی صورتحال: وزیراعظم بنیامین نتنیاہو کا دائیں بازو کا اتحاد 53 نشستوں کے ساتھ پیش پیش ہے، جبکہ گادی آئزنکوٹ کی قیادت میں مخالف اتحاد 48 نشستیں حاصل کرنے کی طرف گامزن ہے۔
  • عرب جماعتوں کی بڑی کامیابی: پیشگوئیوں کے مطابق عرب جماعتوں کے اتحاد نے تاریخی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مجموعی طور پر 19 نشستیں حاصل کرنے کی صلاحیت دکھائی ہے۔
  • مستقبل کی غیر یقینی صورتحال: پانچ لاکھ سے زائد خصوصی ووٹوں کی گنتی باقی ہے، جس کے بعد صدر اسحاق ہرزوگ اگلے ہفتے حکومت سازی کے لیے سیاسی جماعتوں کے سربراہان سے مشاورت کا آغاز کریں گے۔

تعارف

اسرائیل میں ہونے والے حالیہ پارلیمانی انتخابات کے غیر حتمی نتائج نے ملک کی سیاست کو ایک بار پھر گہرے سیاسی تعطل اور غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ مرکزی انتخابی کمیٹی کی جانب سے 90 فیصد سے زائد ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد بھی کوئی بھی بڑا سیاسی دھڑا حکومت بنانے کے لیے درکار سادہ اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ 7 اکتوبر 2023 کے واقعات اور غزہ پر ہونے والی پیش رفت کے بعد ہونے والے ان پہلے عام انتخابات کو موجودہ وزیراعظم بنیامین نتنیاہو کی طویل مدتی حکمرانی پر ایک فیصلہ کن عوامی رائے دہی (ریفرنڈم) کے طور پر دیکھا جا رہا تھا۔ تاہم، نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ اسرائیلی عوام سیاسی طور پر شدید تقسیم کا شکار ہیں اور کوئی بھی فریق واضح فتح حاصل نہیں کر سکا ہے۔

ووٹوں کی موجودہ صورتحال اور پارٹیوں کی نشستیں

اسرائیلی مرکزی انتخابی کمیٹی کے مطابق اب تک 50 لاکھ سے زائد ووٹوں کی گنتی کی جا چکی ہے۔ پارلیمان کی کل 120 نشستوں میں سے حکومت بنانے کے لیے کم از کم 61 نشستوں کی حمایت درکار ہوتی ہے، لیکن دونوں بڑے سیاسی بلاک اس جادوئی ہندسے سے دور ہیں۔

موجودہ گنتی کے مطابق نشستوں کی صورتحال درج ذیل ہے:

  • بنیامین نتنیاہو کا بلاک: موجودہ وزیراعظم اور ان کے اتحادی دائیں بازو کے دھڑے کے بارے میں پیشگوئی ہے کہ وہ 53 نشستیں حاصل کر لیں گے۔
  • اپوزیشن بلاک (گادی آئزنکوٹ): سابق فوجی سربراہ گادی آئزنکوٹ کی قیادت میں قائم مخالف اتحاد 48 نشستیں حاصل کرنے کی پوزیشن میں ہے۔
  • عرب جماعتیں: عرب جماعتوں کے دو اہم دھڑوں (“جوائنٹ لسٹ” اور “راعم”) نے خلاف توقع شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اور ان کے ملا کر ریکارڈ 19 نشستیں جیتنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

اس صورتحال میں دونوں مرکزی سیاسی دھڑوں میں سے کوئی بھی فی الحال تنہا یا اپنے روایتی اتحادیوں کے ساتھ مل کر حکومت بنانے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔

خصوصی ووٹوں کی گنتی اور حتمی نتائج کا انتظار

اگرچہ عام پولنگ کے نتائج سامنے آ چکے ہیں، لیکن ابھی بھی 5 لاکھ سے زائد خصوصی ووٹوں کی گنتی باقی ہے جنہیں “دوہرے لفافے والے ووٹ” کہا جاتا ہے۔ ان ووٹوں کے نتائج کسی بھی وقت نشستوں کی حتمی تقسیم میں معمولی لیکن انتہائی اہم تبدیلی لا سکتے ہیں۔

یہ خصوصی ووٹ درج ذیل طبقوں کی طرف سے ڈالے گئے ہیں:

  1. ڈیوٹی پر مامور مسلح افواج کے اہلکار اور فوجی۔
  2. بیرونِ ملک تعينات سفارت کار اور سرکاری عملہ۔
  3. مریض، معذور افراد اور وہ شہری جنہوں نے اپنے رجسٹرڈ پولنگ اسٹیشنوں سے دور ووٹ کاسٹ کیا۔

ان تمام ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد ہی حتمی سرکاری نتائج کا باضابطہ اعلان سامنے آئے گا۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ان ووٹوں سے بھی کسی ایک فریق کو واضح اکثریت ملنے کا امکان انتہائی کم ہے۔

نتنیاہو کا مستقبلا اور قائم مقام حکومت

77 سالہ بنیامین نتنیاہو، جو اسرائیل کی تاریخ میں سب سے طویل عرصے تک وزیراعظم رہنے کا اعزاز رکھتے ہیں، اس انتخابی تعطل کے باوجود اپنے سیاسی وجود کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ اگرچہ ان کا دھڑا 61 نشستوں کا ہدف حاصل نہیں کر سکا، لیکن وہ سیاسی منظرنامے سے باہر نہیں ہوئے ہیں۔

جب تک کوئی نیا اتحاد یا حکومت تشکیل نہیں پا جاتی، نتنیاہو قانون کے مطابق قائم مقام وزیراعظم کے طور پر اپنے فرائض سرانجام دیتے رہیں گے۔ اسرائیل کی سیاسی تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ وہاں کبھی بھی کسی ایک سیاسی جماعت نے اکیلے سادہ اکثریت حاصل نہیں کی، اور ہمیشہ مخلوط حکومتیں ہی قائم ہوئی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان تمام تر مشکلات کے باوجود نتنیاہو ایک بار پھر دیگر چھوٹی جماعتوں یا آزاد اراکین کو اپنے ساتھ ملانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

حکومت سازی کے چیلنجز اور ممکنہ تحالفات

اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ نے تمام سیاسی جماعتوں پر زور دیا ہے کہ وہ باہمی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایک مستحکم حکومت کی تشکیل پر غور کریں تاکہ ملک کو بار بار ہونے والے مہنگے اور غیر یقینی انتخابات سے بچایا جا سکے۔ صدر اگلے ہفتے سے باضابطہ طور پر سیاسی رہنماؤں کو حکومت سازی کی دعوت اور مشاورت کا سلسلہ شروع کریں گے۔

تاہم، مخلوط حکومت کی راہ میں درج ذیل شدید سیاسی رکاوٹیں موجود ہیں:

  • عرب جماعتوں سے تحالف کا انکار: اپوزیشن رہنما گادی آئزنکوٹ نے انتخاب سے قبل ہی واضح کر دیا تھا کہ وہ عرب جماعتوں کی حمایت سے اقلیتی حکومت تشکیل نہیں دیں گے۔
  • نتنیاہو کا موقف: بنیامین نتنیاہو نے بھی عرب دھڑوں کے ساتھ کسی بھی قسم کے سیاسی سمجھوتے یا اتحادی حکومت کو پہلے ہی مسترد کر دیا ہے۔
  • دائیں اور بائیں بازو کی نظریاتی خلیج: دائیں بازو کے سخت گیر عناصر اور لبرل اپوزیشن کے درمیان خلیج اتنی بڑی ہے کہ کسی بڑی قومی حکومت کا قیام فی الحال انتہائی مشکل نظر آتا ہے۔

نتیجہ

اسرائیل کے یہ حتمی نتائج اس بات کا روشن ثبوت ہیں کہ ملک ایک شدید سیاسی دلدل میں گھرا ہوا ہے۔ ایک طرف جہاں غزہ کے حالات اور بیرونی چیلنجز سامنے ہیں، وہیں اندرونی طور پر قیادت کا بحران شدت اختیار کر چکا ہے۔ اگر اگلے چند ہفتوں میں سیاسی جماعتیں کسی نقطے پر متفق نہ ہو سکیں اور صدر کی کوششیں ناکام رہیں تو اسرائیل کو ایک بار پھر ناگزیر طور پر دوبارہ وقت سے پہلے انتخابات کی طرف جانا پڑ سکتا ہے، جس سے نہ صرف سیاسی عدم استحکام بڑھے گا بلکہ معاشی اور انتظامی معاملات بھی تعطل کا شکار رہیں گے۔

Hina Khan

By حنا خان

حنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔