google-site-verification=aZNfMycu8K7oF6lNUgjpjoa8ZAyM0qfHriwatL8flQ4
1549984_054715_updates.jpg


Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!
فوٹو: اے ایف پی
فوٹو: اے ایف پی

افغان انسانی حقوق تنظیم نے افغان عدالتوں کے لیے طالبان کے نئے فوجداری ضابطے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

افغان جریدے کے مطابق طالبان کے سربراہ ہیبت اللّٰہ اخوندزادہ نے حال ہی میں طالبان عدالتوں کے نئے فوجداری طریقہ کار کے ضابطوں کی منظوری دی ہے، طالبان کا یہ فوجداری ضابطہ افغان عدالتی اداروں میں نافذ کرنے کے لیے جاری کر دیا گیا ہے۔

افغان انسانی حقوق گروپ رواداری کا کہنا ہے کہ طالبان کا فوجداری ضابطہ اقلیتوں کے خلاف امتیازی سلوک کے مترادف ہے، یہ فوجداری ضابطہ بنیادی آزادی کو محدود کرتا ہے۔

انسانی حقوق گروپ نے کہا ہے کہ طالبان کا فوجداری ضابطہ من مانی گرفتاریوں اور سزاؤں کی اجازت دیتا ہے، یہ فوجداری ضابطہ بین الاقوامی انسانی حقوق سے متصادم ہے۔

افغان انسانی حقوق گروپ رواداری نے کہا ہے کہ طالبان فوجداری ضابطے میں وکیلِ صفائی رکھنے، خاموش رہنے، یا ہرجانے کے حق کی ضمانت نہیں دی گئی، منصفانہ مقدمے کے لیے دیگر بنیادی تحفظات بھی فراہم نہیں کیے گئے۔

انسانی حقوق گروپ نے کہا ہے کہ طالبان فوجداری ضابطے کی کچھ شقیں مخالفین کے خلاف ماورائے عدالت قتل کی راہ ہموار کر سکتی ہیں، یہ فوجداری ضابطہ طالبان پر تنقید کو جرم قرار دیتا ہے۔

افغان انسانی حقوق گروپ رواداری کے مطابق طالبان فوجداری ضابطہ سماجی درجہ بندی اور غلامی کی حمایت کرتا ہے، اس فوجداری ضابطے میں خواتین اور بچوں کے خلاف نفسیاتی اور جنسی تشدد کو نظر انداز کیا گیا ہے۔

انسانی حقوق گروپ نے مطالبہ کیا ہے کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرتے فوجداری ضابطے کو فوری معطل کیا جائے، امتیازی دفعات افغانستان میں اقلیتوں کو نشانہ بناتی ہیں۔

دوسری جانب افغان جریدے کا کہنا ہے کہ طالبان نے اس رپورٹ پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔





Source link

About The Author

Glimpse of Cricket بشیر بلور پشاور جلسہ Ambani showing Vantra to Messi Pakistan U-19 The Asian Champion Jobs 14 Dec 2025