اہم نکات (خلاصہ) مسلسل پیش رفت: ضلع ہری پور میں انتظامیہ کا تجاوزات مخالف گرینڈ آپریشن مسلسل آٹھویں روز بھی کامیابی سے جاری ہے۔ سرکاری اراضی کی واگزاری: مین بازار، موچی بازار، لنڈا بازار اور جی ٹی روڈ سے برسوں پرانی پختہ و عارضی تجاوزات مسمار کر کے کروڑوں روپے کی اراضی واگزار کرا لی گئی۔ مشترکہ کارروائی: ضلعی انتظامیہ، تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن (ٹی ایم اے) اور پولیس کی بھاری نفری بھاری مشینری کے ساتھ آپریشن میں مصروف عمل ہے۔ عوامی سہولت اور انتظامی عزم: ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر بشارت بی بی کے مطابق آپریشن ضلع بھر سے تمام عارضی و پختہ تجاوزات کے مکمل خاتمے تک بغیر کسی وقفے کے جاری رہے گا۔ ابتدائیہ اور موجودہ صورتحال پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے اہم تجارتی و تاریخی شہر ہری پور میں ضلعی انتظامیہ نے قانون کی بالادستی اور شہری نظام کی بہتری کے لیے ایک نان اسٹاپ گرینڈ آپریشن کا آغاز کر رکھا ہے، جو اپنے آٹھویں روز میں داخل ہو چکا ہے۔ شہر کے گنجان آباد اور مرکزی تجارتی مراکز میں دہائیوں سے قائم غیر قانونی عارضی اور پختہ تجاوزات کے خلاف یہ اب تک کی سب سے بڑی اور مؤثر انتظامی کارروائی قرار دی جا رہی ہے۔ اس گرینڈ آپریشن کا بنیادی مقصد شہر کے مرکزی راستوں کو واگزار کرانا، ٹریفک کے سنگین مسائل کو حل کرنا اور سرکاری نالوں و گزرگاہوں پر قائم غیر قانونی قبضے ختم کرنا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے شروع کی گئی اس مہم سے جہاں برسوں سے قائم قبضہ مافیا کا خاتمہ ممکن ہو رہا ہے، وہیں عام شہریوں کو درپیش سفری مشکلات میں بھی نمایاں کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ متاثرہ علاقے اور آپریشن کی تفصیلات آٹھویں روز کی کارروائیوں کے دوران ضلعی انتظامیہ کی ٹیموں نے شہر کے سب سے اہم اور مصروف تجارتی نقاط کو نشانہ بنایا۔ جن اہم علاقوں میں بھاری مشینری کا استعمال کرتے ہوئے تجاوزات کو مسمار کیا گیا، ان میں درج ذیل شامل ہیں: مین بازار ہری پور: شہر کا مرکزی تجارتی مرکز جہاں دکانوں کے آگے قائم پختہ تھڑے اور غیر قانونی توسیع مسمار کی گئی۔ موچی بازار: تنگ گلیوں اور قدیم تجارتی مراکز پر مشتمل اس بازار میں سڑک کے کنارے قائم تمام غیر قانونی ساختیں ختم کر دی گئیں۔ لنڈا بازار: عارضی سٹالز اور پختہ دکانوں کی سڑک پر تجاوزات کو ہٹا کر راستہ مکمل صاف کر دیا گیا۔ جی ٹی روڈ: قومی شاہراہ کے اطراف قائم غیر قانونی ہتھ ریڑھیاں، تھڑے اور سائن بورڈز بھاری کرینوں کی مدد سے ہٹا دیے گئے۔ ان تمام کارروائیوں کے نتیجے میں تجارتی راستوں پر دہائیوں سے قائم وہ تجاوزات جن کی وجہ سے پیدل چلنے والوں اور گاڑیوں کی آمدورفت انتہائی دشوار تھی، اب مکمل طور پر ختم کی جا چکی ہیں۔ اربوں و کروڑوں روپے کی سرکاری اراضی کی واگزاری اس گرینڈ آپریشن کا سب سے بڑا حاصل وہ گرانقدر سرکاری اراضی ہے جو دہائیوں سے مختلف افراد اور تاجروں کے زیرِ تسلط تھی۔ ابتدائی تخمینوں کے مطابق، اب تک کی کارروائیوں میں ہری پور کے مختلف بازاروں میں واقع کروڑوں روپے مالیت کی تجارتی اراضی کو کامیابی سے واگزار کرا لیا گیا ہے۔ سرکاری املاک، بارش کے پانی کی نقاسی کے نالوں اور عام گزرگاہوں پر تعمیر کیے گئے پختہ کمرے، تھڑے اور شیڈز جن کی وجہ سے نہ صرف سڑکیں تنگ ہو چکی تھیں بلکہ بارشوں کے موسم میں نالے بند ہونے سے شدید شہری سیلاب کا خدشہ بھی رہتا تھا، ان تمام خطرات کا باب اب بند کر دیا گیا ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ واگزار کرائی گئی تمام اراضی کو دوبارہ قبضہ ہونے سے بچانے کے لیے جامع حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے۔ انتظامی قیادت اور حکام کا مؤقف اس وسیع پیمانے پر جاری آپریشن کی قیادت ضلعی انتظامیہ کی اعلیٰ افسران کر رہی ہیں۔ کارروائی کے موقع پر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ہری پور، محترمہ بشارت بی بی نے انتظامیہ کے سخت عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے گفتگو کرتے ہوئے درج ذیل اہم نکات پر روشنی ڈالی: آمدورفت میں سہولت: تجاوزات کے خاتمے سے سڑکیں کشادہ ہو گئی ہیں جس سے شہریوں کو روزمرہ آمدورفت میں درپیش شدید مشکلات کا خاتمہ ہو رہا ہے۔ سرکاری املاک کا تحفظ: سرکاری زمین، عمومی گزرگاہوں اور خاص طور پر نالوں پر سے تمام پختہ اور عارضی تجاوزات کا بلا امتیاز خاتمہ کیا جائے گا۔ آپریشن کا دائرہ کار: مین بازار، لنڈا بازار اور موچی بازار کے ساتھ ساتھ تمام ملحقہ گلیوں اور بازاروں تک اس آپریشن کا دائرہ وسیع کیا جائے گا۔ بلا تعطل تسلسل: جب تک ہری پور کے پورے ضلع سے آخری غیر قانونی تجاوز کا خاتمہ نہیں ہو جاتا، یہ آپریشن اسی تسلسل اور سختی کے ساتھ جاری رہے گا۔ مشترکہ انتظامی حکمت عملی اور اداروں کا کردار اس گرینڈ آپریشن کی کامیابی کی سب سے بڑی وجہ تمام متعلقہ اداروں کے درمیان بہترین ربط اور پیشگی منصوبہ بندی ہے۔ آپریشن کی میدان میں قیادت اور عمل درآمد کے لیے تین بنیادی ادارے مل کر کام کر رہے ہیں: ضلعی انتظامیہ: آپریشن کی مجموعی نگرانی، قانونی امور کی دیکھ بھال اور ہدایات جاری کرنے کی ذمہ دار ہے۔ تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن (ٹی ایم اے): ٹی ایم اے کے اہلکار اور بھاری مشینری (بلڈوزر، کرینیں اور ٹرک) تجاوزات کو مسمار کرنے اور ملبہ ہٹانے کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ ہری پور پولیس: کسی بھی ممکنہ انتظامی یا عوامی مزاحمت سے نمٹنے، امن و امان برقرار رکھنے اور آپریشن کی جگہوں پر ٹریفک کو متبادل راستوں پر ڈائریکٹ کرنے کے لیے پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے۔ ان اداروں کی مشترکہ پیش قدمی نے ثابت کیا ہے کہ قانون کی حاکمیت کے لیے تمام محکمے ایک ہی صفحے پر ہیں۔ پس منظر اور شہری مسائل کا جائزہ ہری پور میں تجاوزات کا مسئلہ کوئی نیا نہیں بلکہ یہ گزشتہ کئی دہائیوں سے پروان چڑھ رہا تھا۔ شہر کی آبادی میں اضافے اور تجارتی سرگرمیوں کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ تاجروں اور ریڑھی بانوں کی جانب سے سڑکوں اور پیادہ رو راستوں پر تجاوزات کا سلسلہ بڑھتا چلا گیا۔ اس کے نتیجے میں شہر کو درج ذیل سنگین مسائل کا سامنا تھا: شدید ٹریفک جام: مین بازار اور جی ٹی روڈ پر معمولی فاصلہ طے کرنے کے لیے گھنٹوں ٹریفک میں پھنسنا روزمرہ کا معمول بن چکا تھا۔ ایمرجنسی سروسز میں رکاوٹ: سڑکیں تنگ ہونے کی وجہ سے مریضوں کو ہسپتال منتقل کرنے والی امدادی گاڑیوں (ایمبولینس) اور فائر برگیڈ کی گاڑیوں کو شدید دشواری کا سامنا تھا۔ شہری خوبصورتی کی تباہی: غیر قانونی تعمیرات اور بے ترتیب سٹالز کی وجہ سے شہر کا تاریخی اور تجارتی حسن مانند پڑ گیا تھا۔ نکاسی آب کے مسائل: نالوں پر تعمیرات کے باعث نالے بلاک ہو جاتے تھے اور تھوڑی سی بارش سے ہی پانی سڑکوں اور دکانوں میں داخل ہو جاتا تھا۔ اس تناظر میں، انتظامیہ کا موجودہ قدم وقت کی اہم ترین ضرورت اور شہریوں کا دیرینہ مطالبہ تھا۔ عوامی ردعمل اور معاشی اثرات اس گرینڈ آپریشن پر شہریوں اور تاجر برادری کی جانب سے ملا جلا ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔ عام شہریوں، خاص طور پر پیدل چلنے والوں، طلبہ اور روزانہ سفر کرنے والے افراد نے ضلعی انتظامیہ اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر بشارت بی بی کے اس اقدام کو انتہائی سراہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بازاروں میں اب سکون سے چلنا اور خریداری کرنا ممکن ہو گیا ہے۔ دوسری جانب، کچھ مقامی تاجروں اور عارضی ریڑھی بانوں نے اپنے روزگار کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ تاجر برادری کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ وہ تجاوزات کے خاتمے کے خلاف نہیں ہیں، تاہم انتظامیہ کو چاہیے کہ عارضی محنت کشوں کے لیے متبادل جگہ کا بھی بندوبست کرے تاکہ ان کا روزگار متاثر نہ ہو۔ مستقبل کے خدشات اور انتظامی چیلنجز ہری پور میں اس سے قبل بھی مختلف اوقات میں تجاوزات کے خلاف مہمات چلائی گئی ہیں، لیکن اکثر دیکھا گیا ہے کہ آپریشن ختم ہوتے ہی تجاوزات دوبارہ قائم ہو جاتی ہیں۔ اس لیے ضلعی انتظامیہ کے لیے سب سے بڑا چیلنج آپریشن کے بعد ان علاقوں کو دوبارہ تجاوزات سے پاک رکھنا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس گرینڈ آپریشن کے اثرات کو برقرار رکھنے کے لیے انتظامیہ کو درج ذیل اقدامات کرنا ہوں گے: واگزار کرائی گئی جگہوں پر مسلسل مانیٹرنگ اور پولیس گشت قائم رکھنا۔ نالوں کی صفائی اور سڑکوں کی دوبارہ تعمیر و کشادگی کے کام کو فوری شروع کرنا۔ عارضی دکانداروں کے لیے مخصوص “خریداری کے مراکز” کی تشکیل جہاں وہ اپنے روزگار کا سلسلہ جاری رکھ سکیں۔ اگر ضلعی انتظامیہ اپنے حالیہ عزم پر قائم رہتی ہے تو یہ گرینڈ آپریشن ہری پور کی تاریخ میں شہری نظم و ضبط اور قانون کی بالادستی کا ایک نیا باب ثابت ہو گا۔ Post navigation ہری پور: شادی کی تقریب میں ہوائی فائرنگ کرنے والے ملزمان گرفتار، تھانہ بیڑ پولیس کی کارروائی میں اسلحہ برآمد، بلاامتیاز ایکشن کا انتباہ