رپورٹ: انور زیب (نوشہرہ) اہم نکات (خلاصہ): اوپن ڈور پالیسی: صوبائی حکومت کی ہدایات کی روشنی میں ڈپٹی کمشنر نوشہرہ گوہر زمان وزیر نے عام شہریوں اور وفود کے لیے اپنے دفتر کے دروازے بلا روک ٹوک کھول دیے ہیں۔ مسائل کا فوری ازالہ: ملاقات کے دوران شہریوں کے علاقائی، اجتماعی اور ذاتی مسائل سنے گئے اور متعلقہ ضلعی افسران کو موقع پر ہی احکامات جاری کیے گئے۔ شفافیت کی ضمانت: انتظامیہ نے عوامی سروس ڈیلیوری کی بہتری، بلا تاخیر ریلیف اور حکومتی شفافیت کو اپنی اولین ترجیح قرار دیا ہے۔ عوامی ردعمل: ضلعی انتظامیہ کے اس اقدام کو شہریوں اور مقامی حلقوں کی جانب سے عوامی مسائل کے حل کے لیے ایک مثبت اور سنگِ میل گام گردانا جا رہا ہے۔ نوشہرہ: صوبائی حکومت کی خصوصی ہدایات اور عوامی فلاح و بہبود کی پالیسی کے تحت ضلعی انتظامیہ نوشہرہ نے عامۃ الناس کی سہولت کے لیے ایک اہم پیش رفت کی ہے۔ ڈپٹی کمشنر نوشہرہ گوہر زمان وزیر نے اپنے دفتر میں ‘اوپن ڈور پالیسی’ کا عملی اغاز کرتے ہوئے عام شہریوں، مقامی باشندوں اور مختلف سماجی و علاقائی وفود سے براہِ راست ملاقاتیں کی ہیں۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد عوام اور انتظامیہ کے درمیان حائل دوریوں کو ختم کرنا اور شہریوں کے مسائل ان کی دہلیز کے قریب تر حل کرنا ہے۔ روزمرہ کی اس کھلی ملاقات کے دوران ضلعی سربراہ نے نہ صرف دور دراز علاقوں سے آئے ہوئے سائلین کی شکایات اور درخواستیں توجہ سے سنیں بلکہ متعلقہ اداروں اور ضلعی افسران کو فوری اور بلا تاخیر اقدامات اٹھانے کی سخت ہدایات بھی جاری کیں۔ انتظامیہ کا یہ اقدام ضلعی سطح پر اچھے طرزِ حکمرانی کی ایک روشن مثال بن کر سامنے آ رہا ہے۔ براہِ راست ملاقاتیں اور علاقائی مسائل کی سماعت ڈپٹی کمشنر دفتر نوشہرہ میں منعقد ہونے والی ان ملاقاتوں میں شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ ضلع کے مختلف دیہی اور شہری علاقوں سے آئے ہوئے لوگوں نے اپنے علاقائی، اجتماعی اور انفرادی نوعیت کے درپیش مسائل سے ضلعی انتظامیہ کے سربراہ کو تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔ شہر یوں کی جانب سے پیش کیے جانے والے مسائل میں بنیادی ڈھانچے کی بحالی، پینے کے صاف پانی کی فراہمی، صفائی ستھرائی کے ناقص انتظامات، نکاسی آب کے نظام کی بہتری، اور تعلیم و صحت سے متعلق درپیش مشکلات نمایاں تھیں۔ اس کے علاوہ مختلف سرکاری دفاتر میں التوا کا شکار انتظامی اور ذاتی معاملے بھی سامنے لائے گئے۔ ڈپٹی کمشنر گوہر زمان وزیر نے تمام سائلین کے موقف کو انتہائی حوصلے اور توجہ کے ساتھ سنا اور تمام درخواستوں کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ انہوں نے موقع پر موجود افسران اور بذریعہ ٹیلی فون دیگر تمام متعلقہ محکموں کے ذمہ داران کو احکامات جاری کیے کہ عوام کی داد رسی میں کسی قسم کی سستی یا غفلت برتنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ فوری داد رسی کے لیے بنیادی ہدایات اور پوائنٹس ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس پالیسی کے مؤثر نفاذ کے لیے درج ذیل اہم نکات اور ہدایات پر عمل درآمد شروع کر دیا گیا ہے: شکایات کا فوری حل: دفتر میں موصول ہونے والی تمام جائز درخواستوں پر کارروائی کے لیے فوری طور پر متعلقہ افسران کو منتقل کر کے حل کی حتمی تاریخ مقرر کر دی گئی ہے۔ سرکاری دفاتر سے سائلین کی دوری کا خاتمہ: عوام کے لیے ڈپٹی کمشنر دفتر کے دروازے عام کام کے اوقات میں کھلے رکھنے کا پابند بنایا گیا ہے تاکہ کسی عام شہری کو اپنی بات پہنچانے کے لیے کسی سفارش یا وسیلے کی ضرورت نہ پرے۔ کارکردگی کا جائزہ: ضلعی افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ عوامی درخواستوں پر کی جانے والی پیش رفت کی ہفتہ وار رپورٹ جمع کرائیں۔ شفافیت کی پاسداری: تمام سرکاری امور اور عوامی خدمات کی فراہمی میں مکمل شفافیت اور برابری کے اصولوں کو پیشِ نظر رکھا جائے گا۔ “عوامی خدمت اور فوری داد رسی ہی بہتر انتظامیہ کی پہچان ہے” اس موقع پر ذرائع ابلاغ اور سائلین سے بات چیت کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نوشہرہ گوہر زمان وزیر کا کہنا تھا کہ “عوام الناس کو بلا تاخیر ریلیف کی فراہمی اور ان کے درپیش مسائل کا پائیدار حل ہماری بنیادی ذمہ داری اور اولین ترجیح ہے۔ سرکاری دفاتر کا بنیادی مقصد ہی عوام کی خدمت کرنا ہے، اور اگر کسی ناگوار وجہ سے عام شہری کو اپنے حق کے لیے پریشان ہونا پڑے تو یہ انتظامی ناکامی تصور کی جائے گی۔” انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت کا واضح منشا ہے کہ انتظامیہ کا رویہ عوام دوست ہو اور فیصلے کھلی فضا میں ہوں۔ عوامی خدمت، شفافیت اور فوری داد رسی ہی ایک بہترین اور فعال انتظامیہ کی اصلی اور حقیقی پہچان ہے۔ انتظامیہ کی کوشش ہے کہ نوشہرہ کے ہر شہری کو یہ احساس دلایا جائے کہ ضلعی حکومت ان کے مسائل سے بے خبر نہیں ہے بلکہ ان کی مدد کے لیے ہر وقت کوشاں ہے۔ پس منظر: صوبائی حکومت کا وژن اور نوشہرہ انتظامیہ کا کردار خیبر پختونخوا حکومت نے حال ہی میں تمام اضلاع کے انتظامی سربراہان کو ہدایت کی تھی کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں اوپن ڈور پالیسی پر سختی سے عمل درآمد کروائیں۔ اس پالیسی کے پیچھے یہ فلسفہ کارفرما ہے کہ افسر شاہی کا عوام سے فاصلہ ختم کیا جائے تاکہ لال فیتہ شاہی اور سرکاری کاغذات میں التوا کے عمل کو روکنا ممکن ہو سکے۔ نوشہرہ جو کہ صوبے کا ایک گنجان آباد اور جغرافیائی طور پر اہم ضلع ہے، یہاں اس طرح کے اقدامات کی شدید ضرورت محسوس کی جا رہی تھی۔ اس سے قبل مختلف محکموں کے چکر کاٹنے اور طویل دفتری عمل کے باعث عام شہریوں کو سخت تکالیف کا سامنا کرنا پڑتا تھا، لیکن حالیہ اقدامات نے انتظامی ڈھانچے کی روح کو تبدیل کر دیا ہے۔ انتظامی اقدام کے متوقع اثرات اور عوامی ردعمل ڈپٹی کمشنر نوشہرہ کی جانب سے اوپن ڈور پالیسی کے باقاعدہ اطلاق کے بعد ضلعی سطح پر اس کے نہایت مثبت اور دور رس اثرات مرتب ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ اعتماد کی بحالی: عوام کا ریاست اور اس کے انتظامی اداروں پر اعتماد بحال ہو رہا ہے، کیونکہ اب عام سے عام فرد بھی اپنی شکایت لے کر سب سے بڑے ضلعی افسر تک بلا جھجھک پہنچ سکتا ہے۔ کارکردگی میں بہتری: جب ضلعی سربراہ خود شہریوں کے مسائل سن کر فوری جواب طلبی کرتا ہے تو دیگر ذیلی محکمے اور افسران بھی اپنے کام میں تحرک اور چستی لاتے ہیں۔ بدعنوانی کا خاتمہ: سرعام مسائل کی سماعت سے دفتری امور میں شفافیت آتی ہے اور مبینہ بدعنوانی یا رشوت ستانی کے امکانات کم سے کم تر ہو جاتے ہیں۔ نوشہرہ کے مقامی باشندوں، تجارتی برادری اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے ڈپٹی کمشنر گوہر زمان وزیر کے اس اقدام کو سراہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کی سرگرمیاں اور کھلے دروازے کی پالیسی نہ صرف عام آدمی کی مشکلات میں کمی کا باعث بنے گی بلکہ ضلع نوشہرہ کو ترقی اور خوشحالی کی نئی راہ پر گامزن کرنے میں بھی معاون ثابت ہو گی۔ شہریوں نے امید ظاہر کی ہے کہ یہ سلسلہ صرف رسمی ملاقاتوں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ تمام جاری کردہ احکامات پر سو فیصد عمل درآمد بھی یقینی بنایا جائے گا۔ Post navigation ہری پور: تجاوزات کے خلاف گرینڈ آپریشن آٹھویں روز بھی جاری، کروڑوں روپے کی سرکاری اراضی واگزار جیکب آباد: مجلس وحدت مسلمین پاکستان سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے درج ذیل سیاسی، سماجی، مذہبی اور قوم پرست جماعتوں کے رہنماؤں کے ہمراہ مرکزی امام بارگاہ جیکب آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔