تقریباً دو ہزار سال پہلے ایک رومی شیشہ گر نے پگھلے ہوئے شیشے کو آگ سے نکالا، اسے پھونک کر شکل دی اور ایک عام بوتل بنانے کے بجائے اسے مچھلی کی شکل دے دی ! آنکھیں، منہ، گلپھڑے، پنکھ اور ترازو جیسی باریک تفصیلات یہ کوئی جدید آرٹ پیس نہیں، بلکہ رومی دور کی اصل شیشہ کاری کا حیران کن نمونہ ہے۔ مچھلی کی شکل والی رومی شیشے کی بوتلوں کی معروف مثالیں تقریباً پہلی سے چوتھی صدی عیسوی تک ملتی ہیں، یعنی آج سے تقریباً 1,600 سے 2,000 سال پرانی۔ اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ان میں سے کچھ بوتلیں اتنی نفاست سے بنائی گئی تھیں کہ آج بھی ان کے جسم پر ترازو، آنکھیں اور پنکھ واضح دکھائی دیتے ہیں۔ قدیم کاریگر گرم، پگھلے ہوئے شیشے کو کبھی سانچے میں پھونکتے تھے، جس سے مچھلی کے جسم، ترازو اور دوسرے نقوش ایک ساتھ بن جاتے۔ دوسرے نمونوں میں کاریگر پہلے شیشے کا جسم بناتا، پھر گرم شیشے کی باریک پٹیاں اور چھوٹے ٹکڑے الگ سے لگا کر آنکھیں، پنکھ اور دم بناتا اور انہیں گرم حالت میں اوزاروں سے شکل دیتا۔ یعنی ایک معمولی بوتل نہیںبلکہ شیشے میں زندہ مچھلی کا تصور تراش دیا جاتا تھا۔یہ صرف خوبصورتی کے لیے تھیں یا ان میں کچھ رکھا بھی جاتا تھا؟ یہاں تاریخ ایک دلچسپ راز بن جاتی ہے۔کچھ محققین نے امکان ظاہر کیا ہے کہ ایسی بوتلوں میں خوشبودار تیل، کاسمیٹکس یا دوسری قیمتی اشیاء رکھی جاتی ہوں گی۔ یہ خیال بھی پیش کیا گیا کہ بعض مچھلی نما برتنوں کا تعلق garum یعنی رومی دنیا کی مشہور خمیر شدہ مچھلی کی چٹنی سے ہو سکتا ہے۔ لیکن اہم بات یہ ہے کہ ہر مچھلی نما بوتل کے اندر کیا رکھا جاتا تھا، یہ قطعی طور پر ثابت نہیں۔ میوزیم کے ماہرین بھی بعض نمونوں کے بارے میں کہتے ہیں کہ مچھلی کی شکل کا تعلق اس کے اندر موجود مواد سے تھا یا صرف آرائشی پسند — یہ یقینی طور پر معلوم نہیں. ایسی مچھلی نما رومی شیشی کے نمونے بحیرۂ روم کے مشرقی علاقوں، قبرص، مغربی ایشیا مائنر، بحیرۂ اسود کے ساحل اور دیگر علاقوں سے ملے ہیں۔ ایک میوزیم ریکارڈ کے مطابق اس مخصوص قسم کے صرف 13 نمونے ریکارڈ کیے گئے تھے یعنی یہ عام رومی بوتلیں نہیں تھیں۔ 2005 میں موجودہ Zadar، Croatia کے قدیم شہر Iader کی ایک قبرستانی کھدائی میں بھی مچھلی کی شکل کی شیشے کی بوتل دریافت ہوئی۔ تدفین کے ساتھ ملنے والی دوسری اشیاء کی مدد سے اسے پہلی صدی عیسوی کے دوسرے نصف سے دوسری صدی کے آغاز کے قریب قرار دیا گیا۔ آج The Metropolitan Museum of Art میں رکھی ایک مچھلی نما بوتل پہلی دوسری صدی عیسوی کی ہے، جبکہ ایک دوسری مثال چوتھی صدی عیسوی کی ہے۔ سوچیے… جب آج سے تقریباً 2,000 سال پہلے دنیا میں جدید مشینیں، بجلی اور صنعتی شیشہ سازی موجود نہیں تھی، تب ایک کاریگر نے صرف آگ، پگھلے ہوئے شیشے، سانچوں اور اپنے ہاتھوں کی مہارت سے ایسی چیز بنائی جسے دیکھ کر آج بھی انسان رک جاتا ہے۔ یہ صرف ایک بوتل نہیں…!!یہ اس کاریگر کے ہاتھوں کا تقریباً دو ہزار سال پرانا دستخط ہے۔ یہ پوسٹ تاریخی و آثارِ قدیمہ کے شواہد پر مبنی ہے۔ تصاویر نمائشی/AI سے بنائی گئی ہو سکتی ہیں اور اصل آثار کی حقیقی تصاویر نہیں بھی ہو سکتیں۔ Post navigation جامشورو: بھابھی اور چار سالہ بچی کے اغوا و فروخت کا سنگین الزام، متاثرہ خاندان کی سندھ پریس کلب میں داد رسی کی اپیل پشاور کے تاریخی نمک منڈی بازار میں ذائقوں کی سحر انگیزی: چکن اور مچھلی سمیت 15 سے زائد اقسام کے روایتی پکوڑوں کے منفرد مرکز کی کہانی