Preloader
Electricity unit price increase

اہم نکات (خلاصہ)

  • قیمتوں میں اضافہ: قومی برقی توانائی نگراں ادارے (نیپرا) کی جانب سے بجلی کی قیمت میں فی یونٹ دو روپے سینتیس پیسے کا اضافہ منظور۔
  • ایڈجسٹمنٹ کا پس منظر: یہ اضافہ ستمبر دو ہزار چھبیس کی ماہانہ ایندھن کی قیمت کی مطابقت (فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ) کی مد میں کیا گیا ہے۔
  • اطلاق کا دائرہ کار: فیصلے کا اطلاق کے الیکٹرک کے صارفین سمیت ملک بھر کے تمام تقسیم کار کمپنیوں کے صارفین پر ہوگا۔
  • عوامی بوجھ: مائع پٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی بڑھتی قیمتوں کے بعد بجلی مہنگی ہونے سے صارفین کے ماہانہ بجٹ پر شدید اثرات مرتب ہوں گے۔

ملک میں افراطِ زر اور مسلسل بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ کے دوران عوام کو ایک اور بڑا معاشی جھٹکا لگ گیا ہے۔ مائع پٹرولیم گیس کی قیمتوں میں حال ہی میں ہونے والے اضافے کے بعد اب قومی برقی توانائی نگراں ادارے (نیپرا) نے ستمبر کی ماہانہ ایندھن کی قیمت کی مطابقت کی بنیاد پر بجلی کے نرخوں میں دو روپے سینتیس پیسے فی یونٹ اضافے کا فیصلہ جاری کر دیا ہے۔ اس فیصلے سے پہلے ہی مہنگائی کے مارے صارفین پر اربوں روپے کا اضافی مالی بوجھ پڑے گا۔

نیپرا کے فیصلے کی تفصیلات اور اطلاق

قومی برقی توانائی نگراں ادارے (نیپرا) نے ایندھن کی اصل لاگت اور مقررہ قیمت کے درمیان فرق کو پورا کرنے کے لیے باقاعدہ سماعت کے بعد اس اضافے کی منظوری دی ہے۔

  • اضافے کی شرح: فی یونٹ بجلی دو روپے سینتیس پیسے مہنگی کی گئی ہے۔
  • مد اور مدت: یہ اضافہ ستمبر دو ہزار چھبیس کے ماہانہ ایندھن کے اخراجات کی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں منظور ہوا ہے۔
  • ہمہ گیر اطلاق: اس اضافے سے نہ صرف سرکاری تقسیم کار کمپنیوں کے صارفین متاثر ہوں گے بلکہ کراچی کے تمام علاقوں میں بجلی فراہم کرنے والے کے الیکٹرک کے صارفین پر بھی اس کا یکساں اطلاق ہوگا۔
  • وصولی کا طریقہ: اضافے کی یہ رقم انے والے ماہانہ بلوں میں شامل کر کے وصول کی جائے گی۔

ایندھن کی قیمت کی مطابقت کا نظام اور اس کی منطق

پاکستان میں بجلی کی قیمتوں کا تعین دو بنیادی طریقوں سے ہوتا ہے: پہلا سالانہ بنیادوں پر بنیادی نرخ اور دوسرا ماہانہ ایندھن کی قیمت کی مطابقت۔

  1. ایندھن کی لاگت میں اتار چڑھاؤ: جب بجلی بنانے کے لیے استعمال ہونے والے ایندھن مثلاً کوئلہ، ایندھن کا تیل، اور گیس وغیرہ کی عالمی یا مقامی مارکیٹ میں قیمتیں بڑھ جاتی ہیں تو نگراں ادارہ اس فرق کو ایندھن کی مطابقت کی شکل میں صارفین منتقل کرتا ہے۔
  2. پیداواری عنصر (پاور مکس): اگر ستمبر کے مہینے میں پانی يا دیگر سستے ذرائع سے بجلی کم بنے اور تھرمل يا ایندھن سے زیادہ بجلی پیدا کی جائے تو مجموعی پیداواری لاگت بڑھ جاتی ہے، جس کا بوجھ بالآخر صارف پر پڑتا ہے۔
  3. مستقل توازن کی کوشش: نگراں ادارے کا موقف ہے کہ ایندھن کے نرخوں میں ہونے والی تبدیلیوں کی بروقت ادائیگی توانائی کے شعبے میں مالی بحران اور گردشی قرضوں کو روکنے کے لیے ضروری ہوتی ہے۔

مائع پٹرولیم گیس کے بعد دگنا معاشی بوجھ

یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عام شہری پہلے ہی ایل پی جی اور ایندھن کے دیگر ذرائع کی بلند قیمتوں سے پریشان ہیں۔ موسم کی تبدیلی کے ساتھ ہی ایل پی جی کی طلب میں اضافہ ہو جاتا ہے اور اس کی من مانی قیمتیں غریب اور متوسط طبقے کے لیے کٹھن صورتحال پیدا کر دیتی ہیں۔

  • گھریلو بجٹ کا توازن متزلزل: کچن کے اخراجات اور ایندھن کے بنیادی بلوں میں بیک وقت اضافے نے عام خاندانوں کی معاشی حالت کو شدید متاثر کیا ہے۔
  • صنعتی و تجارتی اثرات: بجلی مہنگی ہونے سے صنعتی پیداواری لاگت بڑھ جاتی ہے، جس کے نتیجے میں مقامی مصنوعات بازار میں مزید مہنگی ہو جاتی ہیں۔
  • کاروباری برادری کی تشویش: چھوٹے تاجروں اور دکانداروں کا کہنا ہے کہ تجارتی بلوں میں مسلسل اضافہ ان کی کاروباری سرگرمیوں کو محدود کر رہا ہے۔

عام شہریوں اور سماجی حلقوں کا ردِعمل

اس نئے اضافے پر عوام، سماجی تنظمیوں اور تجارتی ایوانوں کی جانب سے سخت ردِعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔ شہریوں کا موقف ہے کہ بجلی کے بنیادی نرخ پہلے ہی تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہیں اور اس پر آئے دن ایندھن کی مطابقت کے نام پر اضافی رقم وصول کرنا کسی ناانصافی سے کم نہیں۔

شہریوں نے درج ذیل بنیادی نکات پر حکومت کی توجہ مبذول کروانے کی کوشش کی ہے:

  1. لاین لاسز اور چوری پر قابو: توانائی کی تقسیم کار کمپنیوں میں ایندھن اور بجلی کی چوری کی سزا ایماندار اور بل ادا کرنے والے صارفین کو نہ دی جائے۔
  2. نظام کی اصلاح: غیر موثر اور پرانے بجلی گھروں کی بجائے جدید و سستے متبادل ذرائع مثلاً شمسی توانائی اور ہوائی توانائی پر سرمایہ کاری کی جائے۔
  3. شفافیت کی ضرورت: نیپرا کو چاہیے کہ وہ ایندھن کے خریدی معاہدوں اور حساب کتاب کو مزید شفاف بنائے تاکہ عام صارف کو معلوم ہو سکے کہ اضافے کا چکر کب ختم ہوگا۔

تجزیہ اور مستقبل کا منظرنامہ

توانائی کے ماہرین کا ماننا ہے کہ جب تک ملک میں ایندھن کے درآمدی خطیر اخراجات کم نہیں ہوتے اور پائیدار توانائی کے ذرائع پر توجہ نہیں دی جاتی، تب تک ماہانہ ایڈجسٹمنٹس کا یہ سلسلہ ختم ہونا ممکن نہیں۔

حکومت اور نگراں ادارے کے سامنے جہاں توانائی کے شعبے کو مالی بحران سے بچانے کی چیلنجنگ ذمہ داری ہے، وہیں دوسری طرف عوام کی قوتِ خرید اور معاشی استطاعت بھی آخری حدوں کو چھو رہی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ گردشی قرضے کی روک تھام کے لیے ساختی اصلاحات کی جائیں تاکہ آئے دن بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ روکا جا سکے۔

Hina Khan

By حنا خان

حنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔