Preloader
362 Afghans released from Pakistani prisons return home

اہم نکات:

  • افغان وزارت برائے مہاجرین و بحالی (MoRR) کے مطابق رواں ہفتے پاکستان کی مختلف جیلوں سے 362 افغان مہاجرین کو آزاد کر کے وطن واپس بھیج دیا گیا ہے۔
  • رہائی پانے والے افغان شہریوں میں سے 305 افراد طورخم سرحد کے راستے جبکہ 57 افراد سپن بولدک کراسنگ کے ذریعے افغانستان میں داخل ہوئے۔
  • یہ پیش رفت پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کے خلاف جاری مہم اور سرحدی انتظام کو سخت بنانے کے اقدامات کے پس منظر میں سامنے آئی ہے۔
  • افغان حکام اور بین الاقوامی فلاحی تنظیمیں واپس لوٹنے والے ان افراد کو ابتدائی امداد، طبی سہولیات اور عارضی رہائش کی فراہمی میں مصروف ہیں۔

خبر کا پس منظر: پاکستان سے افغان مہاجرین کی رہائی اور واپسی

کابل/اسلام آباد: افغانستان کی وزارت برائے مہاجرین و بحالی (MoRR) نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان کی مختلف جیلوں اور توقیف خانوں میں قید 362 افغان مہاجرین کو رہا کر کے رواں ہفتے باقاعدہ طور پر افغانستان منتقل کر دیا گیا ہے۔ افغان حکام کی جانب سے جاری کردہ رسمی اعلامیے میں بتایا گیا کہ ان افراد کو سرحدی طریقہ کار مکمل کرنے کے بعد افغان حکام کے حوالے کیا گیا۔

افغان وزارت کے مطابق، رہا ہونے والے ان شہریوں کی ایک بڑی تعداد پاکستان میں دستاویزات کی عدم دستیابی، ویزے کی مدت ختم ہونے یا مقامی قوانین کی قانونی خلاف ورزیوں کے باعث مختلف اوقات میں حراست میں لی گئی تھی۔ دونوں ممالک کے قانونی و سفارتی رابطوں اور مقامی حکام کی کارروائیوں کے بعد ان کی رہائی ممکن بنائی گئی ہے۔

یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاک افغان تعلقات میں سرحدی امور، نقل و حرکت کے ضوابط اور مہاجرین کے قیام کی قانونی حیثیت کے حوالے سے کڑی निगरानी اور مختلف انتظامی اقدامات جاری ہیں۔

واپسی کے راستے اور اعداد و شمار کا جائزہ

افغان وزارت برائے مہاجرین کے مطابق پاکستان سے رہا ہونے والے 362 افراد کی وطن واپسی دو اہم ترین بین الاقوامی سرحدی راہداریوں کے ذریعے عمل میں لائی گئی ہے۔ ان دونوں کراسنگ پوائنٹس پر افغان انتظامیہ نے سرحد عبور کرنے والوں کے ڈیٹا کا اندارج کیا اور ان کے لیے ابتدائی طبی معائنے کا اہتمام کیا۔

حالیہ رہائی کے حوالے سے اعداد و شمار درج ذیل ہیں:

  • کل آزاد ہونے والے مہاجرین: 362 افغان شہری
  • طورخم سرحد (خیبر پختونخوا): 305 افغان شہری طورخم کے راستے افغانستان کی ولایت ننگرہار میں داخل ہوئے۔
  • سپن بولدک سرحد (بلوچستان): 57 افغان شہری سپن بولدک کراسنگ کے ذریعے قندہار پہنچے۔
  • قانونی حیثیت: اکثریت ایسے افراد کی تھی جو قانونی سفری دستاویزات نہ ہونے یا ویزا کی مدت ختم ہونے کے باعث حراست میں لیے گئے تھے۔

طورخم کا راستہ شمالی اور مرکزی افغانستان کے باشندوں کے لیے سب سے اہم تجارتی و انسانی گزرگاہ ہے، یہی وجہ ہے کہ واپس لوٹنے والوں کی سب سے بڑی تعداد اسی گزرگاہ سے داخل ہوئی۔ دوسری جانب سپن بولدک کی راہداری جنوبی افغان صوبوں کے رہائشیوں کے لیے مرکزی راستہ فراہم کرتی ہے۔

پاکستان کا پالیسی فریم ورک: غیر قانونی مقیمین کی بے دخلی اور قانون کی عملداری

پاکستان میں افغان مہاجرین کی حراست اور پھر ان کی رہائی کا معاملہ ملک کی انتظامی پالیسی سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔ پاکستان میں گزشتہ چار دہائیوں سے لاکھوں افغان مہاجرین قیام پذیر رہے ہیں، تاہم حالیہ کچھ عرصے کے دوران حکومتِ پاکستان نے ملک کے اندر سیکیورٹی صورتحال اور معاشی دباؤ کے پیش نظر غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کے خلاف اقدامات تیز کر رکھے ہیں۔

پاکستان کی جانب سے نافذ العمل پالیسی کے اہم خد و خال درج ذیل ہیں:

  1. دستاویزات کی شرط: پاکستان نے تمام غیر ملکیوں، بشمول افغان شہریوں کے لیے، باقاعدہ ویزا اور پاسپورٹ کے بغیر قیام کو غیر قانونی قرار دے رکھا ہے۔
  2. غیر قانونی باشندوں کی نشاندہی: جن افراد کے پاس قانونی دستاویزات یا ‘پروف آف رجسٹریشن’ (PoR) کارڈز موجود نہیں ہیں، انہیں تحویل میں لے کر قانونی عمل کے تحت ڈی پورٹ کیا جاتا ہے۔
  3. جیلوں سے رہائی کا طریقہ کار: حراست میں لیے گئے افراد کو عدالتوں اور قانونی طریقہ کار کی مکمل پاسداری کے بعد جیلوں سے رہا کر کے سرحدی حکام کے سپرد کیا جاتا ہے تاکہ ان کی باوقار واپسی ممکن ہو سکے۔

پاکستانی حکام کا موقف ہے کہ یہ اقدامات کسی خاص قومیت کے خلاف نہیں بلکہ ریاست کی امن و امان کی بحالی اور سرحدوں کے باضابطہ انضباط کی قانونی حکمتِ عملی کا حصہ ہیں۔

افغان عبوری حکومت اور فلاحی اداروں کے اقدامات

پاکستان سے پہنچنے والے مہاجرین کی عارضی دیکھ بھال اور بحالی کے لیے افغان عبوری حکومت نے سرحدی اضلاع میں خاص اقدامات کیے ہیں۔ افغان وزارتِ مہاجرین کے ذرائع کا کہنا ہے کہ طورخم اور سپن بولدک میں قائم قائمقام کیمپس میں ان افراد کو فوری امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

افغانستان میں ان لوٹنے والوں کے لیے کیے جانے والے انتظامات میں شامل ہیں:

  • ابتدائی سکریننگ و رجسٹریشن: سرحد پر پہنچتے ہی ان افراد کا سوانحی اور طبی ڈیٹا درج کیا جاتا ہے۔
  • طبی و غذائی امداد: طویل سفر اور جیل کے ایام سے متاثرہ افراد کو فوری طبی سہولیات، ادویات اور پکا ہوا کھانا فراہم کیا جاتا ہے۔
  • کرایہ و نقل و حمل کا الاؤنس: جن افراد کے پاس اپنے آبائی علاقوں تک پہنچنے کے وسائل نہیں ہوتے، انہیں افغان حکام اور بین الاقوامی انسانی تنظیموں (جیسے UNHCR اور IOM) کی جانب سے سفری خرچ دیا جاتا ہے۔
  • مستقل بحالی کا چیلنج: حکومت کے لیے سب سے بڑا مسئلہ ان تمام افراد کو بے روزگاری سے نکالنا اور افغانستان کی موجودہ معاشی صورتحال میں ان کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہے۔

پاک افغان سفارتی تعلقات پر اثرات اور انسانی تناظر

افغان مہاجرین کا معاملہ دہائیوں سے پاک افغان سفارتی و سیاسی تعلقات میں ایک حساس اور بنیادی اہمیت کا حامل رہا ہے۔ ایک طرف پاکستان کی یہ کوشش ہے کہ دہائیوں سے جاری مہاجرین کے بوجھ کو قانون کے دائرے میں لایا جائے اور غیر قانونی نقل و حرکت کو روکا جائے، تو دوسری جانب افغان انتظامیہ پر زبردست دباؤ ہے کہ وہ واپس آنے والے اپنے شہریوں کو چھت اور روزگار مہیا کرے۔

انسانی حقوق کے اداروں اور عالمی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی واپسی کا عمل مکمل طور پر شفاف، باوقار اور انسانی تدابیر کے مطابق ہونا چاہیے۔ اگرچہ 362 شہریوں کی رہائی اور اپنے وطن واپسی کو ایک مثالی اور مثبت قانونی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، لیکن خطے میں مستقل بنیادوں پر سرحدوں کی نظم و ضبط اور مہاجرین کی قانونی حیثیت کے دیرپا حل کے لیے اسلام آباد اور کابل کے درمیان مسلسل اور سنجیدہ سفارتی مذاکرات کی ضرورت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

اختتامیہ

پاکستان کی جیلوں سے 362 افغان مہاجرین کی رہائی اور طورخم و سپن بولدک کے راستے ان کی واپسی دوطرفہ قانونی عمل کا نتیجہ ہے۔ یہ واقعہ جہاں ایک طرف پاکستان میں غیر قانونی قیام کے خلاف سخت قانونی عملداری کو ظاہر کرتا ہے، وہیں دوسری طرف افغانستان کے لیے اپنے شہریوں کی بحالی کے چیلنجز کی نشاندہی بھی کرتا ہے۔ ان افراد کی وطن واپسی کا عمل ظاہر کرتا ہے کہ سرحدی قوانین کی پاسداری اور انسانی ہمدردی کے تقاضوں کے درمیان توازن قائم رکھ کر ہی دونوں ممالک امن، ترقی اور دیرپا تعلقات کے مقصد کو حاصل کر سکتے ہیں۔

Hina Khan

By حنا خان

حنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔