Preloader
47% schools are unsafed in KP

اہم نکات

  • محکمہ تعمیرات و مواصلات (سی اینڈ ڈبلیو) کے سٹرکچرل سیفٹی آڈٹ کے مطابق خیبر پختونخوا کے 47 فیصد سرکاری سکولوں کی عمارتیں غیر محفوظ قرار دی گئی ہیں۔
  • صوبے بھر کے مجموعی طور پر 8 ہزار 928 سرکاری سکولوں کا معائنہ کیا گیا جن میں سے 4 ہزار 792 محفوظ جبکہ 2 ہزار 448 عمارتیں غیر محفوظ پائی گئیں۔
  • یہ تفصیلی حفاظتی جائزہ پشاور کے سانحہ دیر کالونی کے بعد صوبائی حکومت کی خصوصی ہدایات پر حاصل کیا گیا ہے۔
  • رپورٹ کے انکشافات کے بعد لاکھوں طلباء کی حفاظتی تدابیر، ہنگامی فنڈز کی فراہمی اور عمارتوں کی فوری مرمت و بحالی کا معاملہ شدت اختیار کر گیا ہے۔

آڈٹ رپورٹ کے سنسنی خیز انکشافات اور بنیادی حقائق

خیبر پختونخوا کے تعلیمی شعبے اور بچوں کے محفوظ مستقبل سے متعلق ایک انتہائی اہم اور تشویشناک سرکاری دستاویز سامنے آئی ہے۔ محکمہ تعمیرات و مواصلات کی جانب سے جاری کردہ عمارتوں کی فنی و حفاظتی جائزے (سٹرکچرل سیفٹی آڈٹ) کی دوسری رپورٹ نے محکمہ تعلیم سمیت متعلقہ مجاز اداروں کی کارکردگی پر گہرے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

سرکاری رپورٹ کے مطابق صوبے میں بڑی تعداد میں قائم تعلیمی ادارے بنیادی زلزلہ رواداری اور ساخت کی مضبوطی کے معیار پر پورا نہیں اترتے۔ قوم کے نونہال اور معصوم بچے روزانہ کی بنیاد پر تعلیم کے حصول کے لیے ان عمارتوں کا رخ کرتے ہیں، لیکن عمارتوں کی خستہ حالی کے باعث ان کی جانیں غیر محسوس طریقے سے خطرے سے دوچار ہیں۔ یہ رپورٹ محض کاغذ کا ٹکڑا نہیں بلکہ صوبائی حکمرانوں اور تعلیمی انتظامیہ کے لیے ایک بڑا لمحہء فکر ہے۔

آڈٹ کا پس منظر اور سانحہ دیر کالونی کا اثر

اس جامع اور وسیع پیمانے پر کیے جانے والے سیفٹی آڈٹ کی ضرورت پشاور میں پیش آنے والے افسوسناک سانحہ دیر کالونی کے بعد پیش آئی۔ اس دلخراش واقعے کے فوری بعد صوبائی حکومت نے تمام سرکاری سکولوں کی عمارتوں کا تکنیکی جائزہ لینے کے سخت احکامات جاری کیے تھے تاکہ آئندہ کسی بھی ناخوشگوار حادثے یا عمارت گرنے کے خدشے سے بچا جا سکے۔

محکمہ تعمیرات و مواصلات نے اپنے ماہر انجینئروں پر مشتمل ٹیمیں تشکیل دیں جنھوں نے صوبے کے تمام اضلاع میں موجود سکولوں کی بنیادوں، چھتوں، دیواروں اور مجموعی تعمیراتی ساخت کا باریک بینی سے معائنہ کیا۔ اس آڈٹ کا بنیادی مقصد ان عمارتوں کی نشاندہی کرنا تھا جو زلزلے، بارشوں یا وقت گزرنے کے ساتھ خستہ حال ہو چکی ہیں اور جنہیں فوری مرمت یا دوبارہ تعمیر کی ضرورت ہے۔

اعداد و شمار کا تجزیہ: محفوظ اور غیر محفوظ تعلیمی ادارے

محکمہ تعمیرات و مواصلات کی رپورٹ میں پیش کیے گئے اعداد و شمار صوبے بھر کی تعلیمی عمارتوں کی حقیقی تصویر پیش کرتے ہیں۔ اس رپورٹ کا تجزیاتی جائزہ درج ذیل نکات میں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے:

  • کل معائنہ شدہ سکول: صوبے بھر میں مجموعی طور پر 8,928 سرکاری سکولوں کا سٹرکچرل آڈٹ مکمل کیا گیا۔
  • محفوظ عمارتیں: معائنے کے بعد 4,792 سکولوں کو مکمل یا مناسب طور پر محفوظ قرار دیا گیا، جو کہ کل تعداد کا تقریباً 53 فیصد بنتا ہے۔
  • غیر محفوظ عمارتیں: آڈٹ کے دوران 2,448 سکولوں کی عمارتوں کو مختلف درجے کے خطرات اور خستہ حالی کے باعث غیر محفوظ قرار دیا گیا، جو کہ مجموعی جائزہ کا 47 فیصد بنتا ہے۔
  • متاثرہ طلباء کی تعداد: ان خستہ حال اور غیر محفوظ عمارتوں کی وجہ سے ہزاروں تعلیمی اداروں میں زیرِ تعلیم لاکھوں طلباء و طالبات اور اساتذہ کا مستقبل تحفظ کے حوالے سے سوالیہ نشان بن چکا ہے۔

خستہ حال عمارتوں کے اسباب اور درپیش چیلنجز

خیبر پختونخوا میں تعلیمی عمارتوں کی اس قدر بڑی تعداد کا غیر محفوظ ہونا کسی ایک دن کا نتیجہ نہیں بلکہ سالہا سال کی غفلت اور نامناسب دیکھ بھال کا شاخسانہ ہے۔ ماہرینِ تعمیرات اور تعلیمی تجزیہ کاروں کے مطابق اس صورتحال کے پیچھے متعدد عوامل کارفرما ہیں:

  1. قدیم تعمیرات اور قدرتی آفات: صوبے کے کئی اضلاع زلزلے کے شدید متاثرہ زون میں واقع ہیں۔ 2005 کے تباہ کن زلزلے اور اس کے بعد آنے والے سیلابوں نے عمارتوں کی بنیادوں کو شدید نقصان پہنچایا۔
  2. مرمت کے لیے فنڈز کی کمی: سالانہ بنیادوں پر سکولوں کی دیکھ بھال اور مرمت کے لیے جاری کیے جانے والے بجٹ کا ناکافی ہونا عمارتوں کو تباہی کی طرف دھکیلتا ہے۔
  3. تعمیراتی معیار پر سمجھوتہ: ماضی میں قائم کی جانے والی کئی عمارتوں کی تعمیر کے دوران معیاری مواد اور جدید زلزلہ رودار ٹیکنالوجی کا استعمال نہ ہونا بھی ایک بڑی وجہ ہے۔
  4. انتظامی تاخیر: غیر محفوظ عمارتوں کی نشاندہی کے بعد بھی ان کی بروقت تلافی یا متبادل جگہ کی فراہمی میں طویل بیوروکریٹک عمل آڑے آتا ہے۔

اثرات، عوامی تشویش اور مستقبل کا لائحہ عمل

اس آڈٹ رپورٹ کے عام ہوتے ہی والدین، اساتذہ اور سول سوسائٹی میں شدید تشویش اور بے چینی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ والدین کا کہنا ہے کہ اپنے بچوں کو تعلیم کے لیے سکول بھیجتے وقت وہ مسلسل ایک غیر یقینی خوف کا شکار رہتے ہیں۔

تعلیمی ماہرین اور معتبر حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ محض رپورٹ جاری کرنا کافی نہیں ہے بلکہ اس کے بعد ہنگامی اقدامات اٹھائے جانے چاہئیں۔ جن سکولوں کو بالکل خطرناک اور غیر محفوظ قرار دیا گیا ہے، ان کی کلاسز کو فوری طور پر متبادل محفوظ عمارتوں یا عارضی خیموں میں منتقل کیا جائے اور ان عمارتوں کی گراوٹ یا ازسرِ نو تعمیر کا کام ہنگامی بنیادوں پر شروع کیا جائے۔

مزید برآں، صوبائی حکومت کو آنے والے سالانہ بجٹ میں تعلیمی انفراسٹرکچر اور عمارتوں کی بحالی کے لیے خصوصی فنڈز مختص کرنے ہوں گے۔ اگر اس رپورٹ کو محض ایک کاغذی کارروائی سمجھ کر نظر انداز کر دیا گیا تو خدا نخواستہ کسی بھی قدرتی آفت کی صورت میں بڑا جانی نقصان ہو سکتا ہے، جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ حکام اور محکموں پر عائد ہوگی۔