اہم نکات حطار انڈسٹریل اسٹیٹ ہری پور میں لیبر قوانین کو ہوا میں اڑا دیا گیا، جہاں فیکٹری مالکان مزدوروں کے معاشی استحصال میں مصروف ہیں۔ قانون کے برعکس محنت کشوں سے روزانہ 10 سے 12 گھنٹے طویل ڈیوٹی لی جا رہی ہے جبکہ اجرت حکومت کے مقرر کردہ معیار سے نصف یعنی صرف 18 سے 20 ہزار روپے دی جاتی ہے۔ لیبر ڈیپارٹمنٹ، سوشل سیکیورٹی اور ای او بی آئی (پینشنی اداریہ) جیسے بااختیار محکمے مبینہ طور پر کاغذی فارملیٹی اور خاموش تماشائی تک محدود ہو چکے ہیں۔ مزدور تنظیموں اور سول سوسائٹی کا صوبائی حکومت سے فیکٹریوں کا ہنگامی معائنہ کرنے اور لیبر قوانین کا نفاذ یقینی بنانے کا شدید مطالبہ۔ حطار انڈسٹریل اسٹیٹ کی موجودہ صورتحال اور محنت کشوں کے مسائل خیبر پختونخوا کا معروف اور سب سے بڑا صنعتی زون “حطار انڈسٹریل اسٹیٹ” ہری پور، جو صوبے کی معاشی ترقی اور روزگار کی فراہمی میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے، اس وقت محنت کشوں کے استحصال کا مرکز بن چکا ہے۔ روزانہ ہزاروں افراد اپنے اہل خانہ کا پیٹ پالنے کے لیے ان فیکٹریوں اور صنعتی یونٹوں کا رخ کرتے ہیں، مگر انہیں نہ تو جائز اجرت میسر ہے اور نہ ہی انسانی حقوق و کارخانہ داری کے بنیادی قوانین کی پاسداری دیکھنے کو ملتی ہے۔ صنعتی زون میں کام کرنے والے مزدوروں اور مقامی محنت کش تنظیموں کی جانب سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق مختلف فیکٹریوں میں ملازمین کے ساتھ ناروا سلوک معمول بن چکا ہے۔ روزمرہ کی مہنگائی اور معاشی بحران کے اس دور میں مزدوروں کو اتنی کم رقم فراہم کی جا رہی ہے جس میں دو وقت کی روٹی کا حصول بھی دشوار ہو چکا ہے۔ سرکاری قوانین اور عمل درآمد کا تضاد: اعداد و شمار کا جائزہ حکومتی اور قانونی ضوابط کے تحت مزدوروں کے حقوق، اوقاتِ کار اور اجرت کے حوالے سے واضح حدود متعین کی گئی ہیں، تاہم حطار انڈسٹریل اسٹیٹ میں صورتحال اس کے بالکل برعکس ہے۔ حقائق پر مبنی اعداد و شمار کا موازنہ درج ذیل نکات سے واضح ہوتا ہے: اوقاتِ کار کا فرق: قانونی طور پر روزانہ ڈیوٹی کے اوقات 8 گھنٹے مقرر ہیں، جبکہ حطار کی فیکٹریوں میں مزدوروں سے 10 سے 12 گھنٹے تک سخت مشقت لی جا رہی ہے۔ اوور ٹائم کی عدم ادائیگی: قانون کے مطابق 8 گھنٹے سے زائد کام لینے کی صورت میں اضافی وقت کا معاوضہ (اوور ٹائم) دینا لازمی ہے، لیکن یہاں اضافی کام کے باوجود کوئی زائد رقم نہیں دی جاتی۔ اجرت کا سنگین تفاوت: حکومت کی جانب سے مقرر کردہ کم از کم اجرت کی قانونی حد کے برعکس، محنت کشوں کو ماہانہ صرف 18,000 سے 20,000 روپے دیے جا رہے ہیں جو کہ سرکاری مقررہ معیار سے تقریباً نصف کے قریب ہے۔ سوشل سیکیورٹی اور پینشن سے محرومی: اکثر فیکٹریوں میں ملازمین کا اندراج سوشل سیکیورٹی یا پینشن کے اداروں (ای او بی آئی) میں نہیں کیا جاتا، جس کی وجہ سے وہ طبی سہولیات اور مستقبل کے تحفظ سے محروم ہیں۔ متعلقہ اداروں کی خاموشی اور کاغذی کارروائی کا رجحان لیبر قوانین کی اس کھلم کھلا خلاف ورزی پر سب سے بڑا سوالیہ نشان ان بااختیار اداروں پر اٹھتا ہے جن کی بنیادی ذمہ داری کارخانوں اور فیکٹریوں میں ملازمین کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے۔ محکمہ لیبر (شعبہ محنت)، سوشل سیکیورٹی ادارہ اور اولڈ ایج بینیفٹس انسٹی ٹیوشن (ای او بی آئی) اس تمام صورتحال میں مکمل طور پر نااہل یا خاموش تماشائی نظر آتے ہیں۔ مقامی ذرائع اور خفا مزدوروں کا کہنا ہے کہ ان محکموں کے افسران کی جانب سے وقتاً فوقتاً کیے جانے والے معائنے صرف کاغذی فارملیٹی اور فائلیں پیٹنے تک محدود ہیں۔ فیکٹریوں کے اندرونی حالات، ملازمین کا رجسٹرڈ ریکارڈ اور حاضری کے ویزٹ کا واقعی معائنہ نہیں کیا جاتا۔ اس انتظامی غفلت کا براہِ راست فائدہ فیکٹری مالکان اٹھا رہے ہیں، جبکہ غریب مزدور کسی داد رسی کے بغیر پس رہے ہیں۔ صنعتی ماحول، تحفظ اور صحت کے سنگین خدشات اوقاتِ کار اور اجرت کے علاوہ حطار انڈسٹریل اسٹیٹ میں کام کی جگہ پر حفاظت (ورکنگ کنڈیشنز) اور صحت کے شعبے میں بھی انتہائی تشویشناک صورتحال پائی جاتی ہے۔ کیمیکل، ٹیکسٹائل، سٹیل اور دیگر بھاری صنعتوں میں کام کرنے والے محنت کشوں کو مناسب حفاظتی سامان جیسے دستانے، ماسک، ہیلمٹ اور حفاظتی جوتے فراہم نہیں کیے جاتے: صحت کے مسائل: کیمیکل اور دھوئین والے ماحول میں مسلسل 12 گھنٹے کام کرنے کے باعث مزدور سانس، پھیپھڑوں اور جلد کی مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ حادثات کی صورت میں عدم تعاوَن: فیکٹری میں کام کے دوران حادثے یا معذوری کا شکار ہونے پر ملازمین کو بلا معاوضہ نکال دیا جاتا ہے یا معمولی رقم دے کر جان چھڑا لی جاتی ہے۔ نوکری کا عدم تحفظ: معمولی شکایت یا حق مانگنے پر مزدوروں کو بغیر کسی نوٹس کے نوکری سے برطرف کر دیا جاتا ہے، جس سے وہ ذہنی دباؤ اور بے روزگاری کے خوف کا شکار رہتے ہیں۔ معاشرتی اثرات اور حکومت کے لیے لائحہ عمل مزدوروں کا معاشی استحصال نہ صرف ان کے ذاتی گھرانوں کو متاثر کرتا ہے بلکہ اس سے معاشرے میں جرم، گھریلو ناچاقیاں اور معاشی ناہمواری جنم لیتی ہے۔ جب ایک محنت کش دن رات 12 گھنٹے مشقت کے بعد بھی اپنے بچوں کی تعلیم، علاج اور خوراک کے بنیادی اخراجات پورے کرنے میں ناکام رہتا ہے تو پورا خاندانی نظام تباہی کا شکار ہو جاتا ہے۔ عوامی، صحافتی اور حقوقِ انسانی کے حلقوں نے نگران و منتخب صوبائی حکومت، وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا اور سیکرٹری لیبر سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ: حطار انڈسٹریل اسٹیٹ کی تمام فیکٹریوں کا غیر جانبدارانہ اور ہنگامی جائوہ لیا جائے۔ تمام ملوں اور کارخانوں میں حکومت کی مقرر کردہ کم از کم اجرت اور 8 گھنٹے ڈیوٹی کے قانون پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ خلاف ورزی کرنے والے فیکٹری مالکان اور ان سے سانٹھ گانٹھ رکھنے والے غفلت شعار سرکاری اہلکاروں کے خلاف سخت قانونی و انتظامی کارروائی کی جائے۔ تمام محنت کشوں کا سوشل سیکیورٹی اور ای او بی آئی میں اندراج لازمی قرار دیا جائے تاکہ ان کا مستقبل اور صحت محفوظ ہو سکے۔ اگر حکومت اور متعلقہ محکموں نے اس سنگین مسئلے پر فوری توجہ نہ دی تو یہ بے چینی کسی بڑے احتجاجی تحرک یا صنعتی بے امنی کا سبب بن سکتی ہے، جس سے خطے کا پورا معاشی پہیہ متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ Post navigation خیبر پختونخوا کے 47 فیصد سرکاری سکول غیر محفوظ قرار: آڈٹ رپورٹ نے تعلیمی عمارتوں کے تحفظ اور انتظامی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھا دیے مانکرائے ہری پور میں ناجائز تجاوزات کا راج: سڑکوں کی تنگی سے شہری شدید مشکلات کا شکار، ڈپٹی کمشنر سے فوری اقدام کی اپیل