خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کا ٹیکسوں کی شرح کم کرنے کا مطالبہ، تعمیل کو بہتر بنانے سے مشروطاسلام آباد – (اقتصادی رپورٹس) پاکستان کی خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل نے خبردار کیا ہے کہ ملک میں کارپوریٹ ٹیکس کی شرحیں بہت زیادہ ہیں، جو غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری (Foreign Direct Investment – FDI) کو ملک میں آنے سے روک رہی ہیں۔ SIFC نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر ٹیکس نظام میں اصلاحات لائے، تاہم ان اصلاحات کو ٹیکس کی تعمیل (Tax Compliance) کو بہتر بنانے اور ٹیکس دہندگان کی تعداد بڑھانے سے مشروط کیا جائے۔Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!بڑھتے ہوئے کارپوریٹ ٹیکس کا مسئلہSIFC، جو پاکستان میں سرمایہ کاری اور معاشی استحکام کو فروغ دینے کے لیے قائم کی گئی ہے، نے محسوس کیا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر مسابقت کے مقابلے میں پاکستان میں کارپوریٹ ٹیکس کی شرحیں غیر معمولی حد تک بلند ہیں۔ ان بلند شرحوں کی وجہ سے غیر ملکی سرمایہ کار، جو منافع اور شرحِ واپسی (Rate of Return) پر خاص توجہ دیتے ہیں، پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔کونسل کا مؤقف ہے کہ زیادہ ٹیکس شرحیں نہ صرف موجودہ کاروباروں پر بوجھ ڈالتی ہیں بلکہ نئے سرمایہ کاروں کو بھی اپنی طرف متوجہ کرنے میں ناکام رہتی ہیں۔ اس صورتحال نے پاکستان کی سرمایہ کاری کی کشش (Investment Attractiveness) کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔اصلاحات کا حل: ٹیکس میں کمی، تعمیل میں اضافہSIFC نے تجویز پیش کی ہے کہ ٹیکس کی شرحوں میں کمی لانے کا فائدہ اس وقت تک نہیں ہو گا جب تک کہ ٹیکس نیٹ کو وسیع نہ کیا جائے اور موجودہ ٹیکس دہندگان کے ساتھ ساتھ نئے کاروباری اداروں سے بھی ٹیکس کی تعمیل کو یقینی نہ بنایا جائے۔ کونسل کے مطابق، ٹیکس اصلاحات کے دو اہم پہلو ہونے چاہئیں:ٹیکس ریٹ میں کمی: کارپوریٹ ٹیکس کی شرحوں کو علاقائی اور بین الاقوامی مارکیٹوں کے مطابق لایا جائے تاکہ سرمایہ کاری کے لیے ماحول سازگار ہو سکے۔تعمیل میں بہتری: ٹیکس چوری کو روکنے اور ٹیکس نیٹ کو بڑھانے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ اس سے یہ یقینی ہو گا کہ کم شرحوں کا فائدہ صرف موجودہ رجسٹرڈ کاروباروں تک محدود نہ رہے بلکہ حکومت کی مجموعی آمدنی (Revenue) متاثر نہ ہو۔معیشت پر ممکنہ اثراتماہرین کا خیال ہے کہ اگر SIFC کی سفارشات پر عمل درآمد ہوتا ہے تو یہ ملک کی معیشت کے لیے دور رس نتائج کا باعث بن سکتا ہے:غیر ملکی سرمایہ کاری: ٹیکس کی شرحوں میں معقول کمی سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی آمد میں اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے ملک میں ڈالر کے ذخائر (Forex Reserves) بڑھیں گے۔روزگار کے مواقع: نئی سرمایہ کاری سے صنعتی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا اور مقامی سطح پر روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔منصفانہ نظام: تعمیل کو بہتر بنانے پر زور دینے سے ٹیکس نظام زیادہ منصفانہ اور شفاف بن سکتا ہے۔SIFC کا یہ انتباہ حکومتی پالیسی سازوں کے لیے ایک اہم یاد دہانی ہے کہ پاکستان کو معاشی استحکام کے لیے نہ صرف سرمایہ کاری کو راغب کرنا ہے بلکہ ایک ایسا ٹیکس نظام بھی بنانا ہے جو کاروبار دوست ہو اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دے سکے۔About The Author حنا خانحنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ See author's posts Post navigationبھارت کی ٹرانزٹ سہولت معطل، ترسیلی اخراجات میں کئی گنا اضافہ امریکہ کے محدود ویزا جاری کرنے پر ایران کا فٹ بال ورلڈ کپ ڈرا کا بائیکاٹ