Military doctrine of sanah

اہم نکات:

  • نیا فوجی اصول: صنعاء کی جانب سے یمن کی حدود کے اندر سعودی افواج اور ان کے حامی تمام مقامی عسکری گروہوں کے خلاف براہِ راست عسکری کارروائیوں کا نیا باقاعدہ اصول نافذ کر دیا گیا ہے۔
  • سپلائی لائنز کی ناکابندی: اس نئے عسکری نظریے کا بنیادی مقصد حریف فورسز کے مواصلاتی رابطے منقطع کرنا، صوبوں کے درمیان ان کی نقل و حرکت روکنا اور میدانِ جنگ کا حتمی فیصلہ کرنا ہے۔
  • مقامی اہلکاروں کو انتباہ: صنعاء انتظامیہ نے سعودی کیمپوں میں موجود یمنی فوجیوں کو فوری طور پر چھاؤنیاں چھوڑنے اور کسی بھی عسکری اجتماع کا حصہ نہ بننے کی سخت ہدایت کی ہے۔
  • سفارتی و عسکری اثرات: انصار اللہ کے سینئر حکام نے واضح کیا ہے کہ یمنی سرزمین پر کسی بھی غیر ملکی یا ان کے زیرِ اثر فورسز کے لیے کوئی تحفظ موجود نہیں۔

صنعاء کی جانب سے خطے کی ابھرتی ہوئی صورتحال کے پیشِ نظر ایک نیا اور سخت عسکری نظریہ (Military Doctrine) نافذ کرنے کا اعلان کیا گیا ہے، جس کے تحت یمنی سرزمین کے اندر سعودی عرب کی مسلح افواج یا ان کے اتحادی مقامی و غیر ملکی عسکری دستوں کی کسی بھی قسم کی موجودگی، نقل و حرکت اور پیش قدمی کو براہِ راست شدید حملوں کا نشانہ بنایا جائے گا۔ غیر ملکی خبر رساں ایجنسیوں اور اعتما د نیوز کے مطابق، یمن کی تازہ ترین صورتحال پر آگاہ ذرائع نے اس نئے پالیسی فریم ورک کی تصدیق کی ہے، جس کا مقصد یمن میں جاری تنازع کے سیاسی و عسکری توازن کو یکسر تبدیل کرنا ہے۔

انصار اللہ اور صنعاء میں قائم عسکری قیادت کے مطابق یہ نیا اصول یمن کی جغرافیائی سالمیت کے تحفظ اور کسی بھی قسم کے غیر ملکی تسلط کے خاتمے کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

نئے عسکری اصول کے اہم پہلو اور تکنیکی اہداف

صنعاء کی مسلح افواج کے قریبی ذرائع نے واضح کیا ہے کہ اس نئے اصول کا بنیادی مقصد محض دفاعی حکمتِ عملی تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کے ذریعے خطے کے عملی عسکری نتائج حاصل کرنا مقصود ہیں۔

  • رابطوں اور سپلائی لائنز کی قطع و برید: نئے عسکری نظریے کے تحت یمن کے مختلف صوبوں کے درمیان سعودی عرب اور اس کے اتحادی دستوں کی نقل و حرکت پر مکمل پابندی عائد کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
  • میدانِ جنگ کا حتمی فیصلہ: صنعاء انتظامیہ کا ماننا ہے کہ رابطے کے تمام ذرائع اور رسد کی فراہمی کے راستوں کو منقطع کر کے حریف فورسز کو کمزور کیا جا سکتا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری غیر یقینی صورتحال کا اختتام ہو گا۔
  • فوجی اڈوں کی عدم تحفظ: یمن کے اندر کسی بھی نقطے پر سعودی افواج کی موجودگی یا ان کے اتحادیوں کی عسکری سرگرمیوں کو خطرے کے زمرے میں شمار کیا جائے گا اور ان کے خلاف ڈرون و میزائل حملوں کا دائرہ وسیع کیا جائے گا۔

انصار اللہ کے سینئر رکن حزام الاسد نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ (سابقہ ٹوئٹر) پر شائع کردہ ایک واضح پیغام میں اس موقف کو مزید شدت کے ساتھ پیش کیا۔ انہوں نے لکھا: “ہماری پاک سرزمین پر سعودی فوجیوں، ان کے حامیوں اور ان کے عسکری اڈوں کے لیے کسی قسم کا کوئی تحفظ یا امان موجود نہیں ہے۔”

مقامی فوجیوں اور اہلکاروں کے لیے خصوصی ہدایات

اس نئے اور خطرناک عسکری مرحلے کے آغاز کے ساتھ ہی، صنعاء انتظامیہ نے مقامی یمنی شہریوں اور ان اہلکاروں کے لیے ایک ہنگامی اپیل جاری کی ہے جو سعودی اتحاد یا ان کے حامی مقامی گروہوں کے ساتھ منسلک ہیں۔ مقامی ذرائع ابلاغ کے ذریعے جاری کردہ ہدایات میں درج ذیل اہم نکات پر زور دیا گیا ہے:

  1. چھاؤنیاں فوری چھوڑنے کا حکم: تمام ایسے یمنی اہلکار جنہیں “گمراہ” یا غلط فہمی کا شکار قرار دیا گیا ہے، انہیں ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی جانی سلامتی کی خاطر سعودی افسران کے قریب موجود تمام عسکری چھاؤنیاں اور کیمپ فوری طور پر چھوڑ دیں۔
  2. عسکری اجتماعات سے دور رہنے کی تنبیہ: شہریوں اور عسکری اہلکاروں کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی ہنگامی طلب یا الرٹ پر سعودی کمانڈ کے تحت جمع نہ ہوں، کیونکہ یہ تمام عسکری اجتماعات اور مراکز اب صنعاء کی فورسز کے براہِ راست اور ہائی پریسیژن (حساس) حملوں کا ہدف بن چکے ہیں۔
  3. سلامتی کی ضمانت: صنعاء کی جانب سے یہ اشارہ بھی دیا گیا ہے کہ جو افراد عسکری سرگرمیاں ترک کر کے قومی دھارے میں واپس آئیں گے، ان کے ساتھ نرمی کا سلوک کیا جائے گا، لیکن دشمن کا ساتھ دینے والوں کے خلاف کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

یمن تنازع کا پس منظر اور موجودہ صورتحال

یمن کا بحران دنیا کے پیچیدہ ترین تنازعات میں سے ایک ہے۔ 2014 میں انصار اللہ کی جانب سے دارالحکومت صنعاء کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد، 2015 میں سعودی عرب کی قیادت میں قائم بین الاقوامی اتحاد نے یمن میں عسکری مداخلت کا آغاز کیا تھا۔

گزشتہ آٹھ سے زائد سالوں کے دوران اس جنگ نے یمن کی بنیادی ساخت، معیشت اور انسانی زندگیوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اگرچہ اقوامِ متحدہ اور عالمی برادری کی کوششوں کے نتیجے میں خطے میں ایک عارضی اور نازک بندی کی فضا قائم رہی ہے، تاہم مکمل امن معاہدے کی عدم موجودگی نے تمام فریقین کے درمیان تناؤ کو برقرار رکھا ہے۔

یمن تنازع: اہم عسکری و سیاسی ارتقاءتفصیلات
2014انصار اللہ کا صنعاء پر کنٹرول اور مرکزی حکومت کا خاتمہ
2015سعودی قیادت میں عرب اتحاد کی عسکری مداخلت کا آغاز
2022اقوامِ متحدہ کی زیرِ نگرانی عارضی بندی پر اتفاق
موجودہ صورتحالغیر رسمی بندی کے باوجود نیا عسکری اصول اور کشیدگی میں اضافہ

صنعاء کی جانب سے اس نئے فوجی نظریے کا اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں سفارتی کوششیں جمود کا شکار نظر آ رہی ہیں، اور صنعاء کی قیادت یہ محسوس کر رہی ہے کہ زمین پر اپنی طاقت کے مظاہرے کے بغیر سیاسی اور معاشی مطالبات کو تسلیم کروانا مشکل ہو گا۔

خطے کی جیو پولیٹیکل صورتحال اور امن عمل پر اثرات

صنعاء کا یہ نیا قدم خطے کی مجموعی سیاسی و عسکری صورتحال پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں کے مطابق اس فیصلے کے بنیادی اثرات درج ذیل شعبوں پر مرتب ہو سکتے ہیں:

1. بحیرہ احمر اور اہم سمندری راستوں کی سلامتی

صنعاء کی جانب سے عسکری دائرہ کار کو وسیع کرنے کا مطلب یہ ہے کہ بحیرہ احمر (Red Sea) اور باب المندب کی تنگنائے سے گزرنے والی تجارتی اور عسکری امدادی نقل و حرکت پر دباؤ مزید بڑھ جائے گا۔ عالمی تجارت کا ایک بڑا حصہ اس خطے سے گزرتا ہے، لہذا وہاں تناؤ میں اضافہ عالمی معیشت کے لیے چیلنج کا باعث بن سکتا ہے۔

2. سعودی عرب کی سیکیورٹی حکمتِ عملی

اگرچہ حالیہ عرصے میں ریاض اور تہران کے درمیان تعلقات کی بحالی اور صنعاء کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات کے ذریعے خطے میں سکون کی فضا قائم کرنے کی کوشش کی گئی تھی، تاہم یمن کے اندر سے اس قسم کے سخت فوجی نظریے کا نفاذ سعودی عرب کے لیے اپنے دفاعی اقدامات پر دوبارہ غور کرنے کا سبب بنے گا۔

3. انسانی بحران کی شدت میں اضافہ

یمن پہلے ہی دنیا کے سنگین ترین انسانی بحرانوں کا سامنا کر رہا ہے۔ جنگ کے نئے دائرہ کار سے امدادی سرگرمیوں کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے، اور شہری آبادی کے لیے روزمرہ کی بنیادی ضروریات تک رسائی مزید دشوار ہو سکتی ہے۔

تجزیہ: کیا یہ نیا ردعمل امن مذاکرات کا خاتمہ ہے؟

سینئر سیاسی و عسکری ماہرین کا ماننا ہے کہ صنعاء کا نیا عسکری نظریہ دراصل ایک طرف اپنی طاقت کے اظہار کی حکمتِ عملی ہے تو دوسری طرف حریف فریقین کو دباؤ میں لانے کا ایک طریقہ ہے۔ صنعاء یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ وہ یمن کی حدود میں کسی بھی ایسی طاقت کو تسلیم نہیں کرے گا جو سعودی عرب یا غیر ملکی اتحاد کی حمایتی ہو۔

تاہم، اس اقدام کے بعد اس بات کا شدید خطرہ موجود ہے کہ عارضی طور پر برقرار رہنے والا جمود ختم ہو جائے اور میدانِ جنگ میں ایک بار پھر سے وسیع پیمانے پر جھڑپوں کا آغاز ہو جائے۔ عالمی برادری، بالخصوص اقوامِ متحدہ اور علاقائی ثالثوں کو چاہیے کہ وہ اس نازک موڑ پر فوری طور پر مداخلت کریں تاکہ یمن کو جنگ کے ایک اور خوفناک اور تباہ کن دور سے بچایا جا سکے۔

About The Author

Hina Khan

By حنا خان

حنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔

Glimpse of Cricket بشیر بلور پشاور جلسہ Ambani showing Vantra to Messi Pakistan U-19 The Asian Champion Jobs 14 Dec 2025