– پاکستان میں ٹیلی کام کے شعبے کو مزید مسابقتی اور جدت سے بھرپور بنانے کے لیے وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن نے ایک بڑا اقدام اٹھایا ہے۔ “موبائل ورچوئل نیٹ ورک آپریٹر (MVNO)” لائسنسنگ فریم ورک کو منظوری کے لیے وفاقی کابینہ کو پیش کر دیا گیا ہے۔ حکومتی عہدیداروں کے مطابق اس پیش رفت کو ملک میں اگلے سال کی پہلی سہ ماہی میں منصوبہ بند 5G سروسز کے آغاز کی تیاریوں کا کلیدی حصہ سمجھا جا رہا ہے۔
MVNO کیا ہے اور یہ کیسے کام کرتا ہے؟
MVNOs ایسی نئی ٹیلی کام کمپنیاں ہوں گی جنہیں اپنا فزیکل نیٹ ورک (Physical Network) یا موبائل ٹاورز نصب کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ یہ کمپنیاں موجودہ موبائل آپریٹرز (MNOs) جیسے جاز، زونگ، یا یوفون سے نیٹ ورک کی گنجائش (Capacity) لیز پر لیں گی۔
- کاروباری ماڈل: MVNOs آزادانہ برانڈنگ، مارکیٹنگ، اور کسٹمر سروسز کا انتظام سنبھالیں گی، جبکہ کالز اور ڈیٹا کی ٹریفک کے لیے موجودہ آپریٹرز کے نیٹ ورک کو استعمال کریں گی۔
- مقصد: اس نظام کا مقصد ٹیلی کام مارکیٹ میں مزید مقابلے کو فروغ دینا اور صارفین کے لیے زیادہ متنوع، سستے اور جدید خدمات متعارف کرانا ہے۔
فریم ورک میں کلیدی تبدیلیاں اور مراعات
طویل عرصے سے زیر التوا اس فریم ورک کو سرمایہ کاروں کے لیے پرکشش بنانے کے لیے وزارت آئی ٹی نے لائسنسنگ کی شرائط میں اہم تبدیلیاں کی ہیں۔
- لائسنس فیس میں ریکارڈ کمی: سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے MVNO لائسنس کی فیس کو ۵ ملین امریکی ڈالر سے کم کر کے صرف ۱۴۰،۰۰۰ امریکی ڈالر کر دیا گیا ہے۔ یہ تقریباً ۹۷ فیصد کی نمایاں کمی ہے۔
- طویل مدت: سرمایہ کاروں کو طویل مدتی یقین دہانی فراہم کرنے کے لیے لائسنس کی مدت کو بڑھا کر ۱۵ سال کر دیا گیا ہے۔
- پی ٹی اے کی نگرانی: MVNOs کو موجودہ موبائل آپریٹرز سے نیٹ ورک کی گنجائش حاصل کرنے کی اجازت ہوگی، لیکن ان تمام تجارتی معاہدوں کے لیے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) کی حتمی منظوری درکار ہوگی۔
۵G اور مستقبل کے لیے اہمیت
ٹیلی کام انڈسٹری کے ماہرین کا خیال ہے کہ MVNOs کا تعارف نہ صرف صارفین کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا بلکہ یہ ملک کے ۵G کے آغاز کے لیے بھی اہم ہے۔
- جب موجودہ آپریٹرز نئے اسپیکٹرم حاصل کریں گے، تو انہیں اپنی اضافی گنجائش کو MVNOs کو لیز پر دینے کا اختیار ملے گا، جس سے نیٹ ورک کا بہتر استعمال ممکن ہوگا۔
- قانونی عمل کی منظوری وزارت قانون و انصاف کی جانب سے مکمل ہو چکی ہے، اور اب صرف وفاقی کابینہ کی آخری مہر لگنا باقی ہے۔ ایک بار منظوری ملنے کے بعد، پی ٹی اے MVNOs کی درخواستیں وصول کرنے اور لائسنس جاری کرنے کا عمل شروع کر سکے گا۔
یہ تبدیلی پاکستان کے ڈیجیٹل منظرنامے کو تبدیل کرنے، نئی سرمایہ کاری لانے اور دور دراز علاقوں میں بھی مواصلاتی خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔
