پاکستان ھندکووان تحریک کے صوبائی سیکرٹری محمد وقار لودھی
اور کابینہ ممبران نے اپنے ایک اخباری بیان میں کہا ہے کہ پنجاب سے اٹے کی بندش سے خیبرپختونخوا میں آٹا ناہید ہو چکا ہے کیونکہ خیبرپختونخوا کو روزمرہ کی ضرورت سے زیادہ تر گندم اور آٹا پنجاب سے سپلائی ہوتا ہے کیونکہ صوبہ خود گندم کی بڑی پیدوار نہیں کرتا
پنجاب حکومت نے بین الصوبائی گندم اور آٹے کی نقل و حرکت پر سخت کنٹرول اور بعض راستوں پر پابندیاں لگائی جس سے صوبے میں سپلائی متاثر ہوئی اور قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا بعض علاقوں میں 20 کلو آٹے کی قیمت 3000 سے بھی تجاوز کر چکا ہے
پاکستان ھندکووان تحریک نے ان پابندیوں کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے وزیراعظم سے مداخلت کا مطالبہ کر دیا
