امریکی حکام نے بتایا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے جائیں گے ۔ جس کی مدت 60 روز ہوگی اور اس میں توسیع بھی کی جا سکے گی۔امریکی ویب سائٹ ایگزیوسThank you for reading this post, don't forget to subscribe!60 دنوں کے دوران ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بغیر کسی ٹول ٹیکس کے بحری آمدورفت کے لیے کھلا رکھا جائے گا اور ایران آبنائے ہرمز میں بچھائی گئی بارودی سرنگیں ہٹانے پر آمادہ ہوگا تاکہ جہازوں کی آزادانہ نقل و حرکت بحال ہو سکے جبکہ ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے سے متعلق مذاکرات بھی جاری رکھے جائیں گے۔ایگزیوسامریکا ایرانی بندرگاہوں پر عائد پابندیاں نرم کرے گا اور بعض اقتصادی پابندیوں میں نرمی دی جائے گی تاکہ ایران عالمی منڈی میں آزادانہ تیل فروخت کر سکے اور اس اقدام سے ایرانی معیشت کو فائدہ ہوگا تاہم عالمی تیل مارکیٹ کو بھی نمایاں ریلیف ملنے کی توقع ہے۔ایگزیوسمعاہدے کا بنیادی اصول ’کارکردگی کے بدلے ریلیف‘ ہوگا، یعنی ایران جتنی تیزی سے آبنائے ہرمز میں بچھائی گئی بارودی سرنگیں ہٹائے گا اور بحری تجارت بحال کرے گا، امریکا اسی رفتار سے ایرانی بندرگاہوں پر عائد پابندیاں نرم کرے گا، ایگزیوسAbout The Author حنا خانحنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ See author's posts Post navigationبنگلہ دیشی فوج کے سربراہ کا دورہ ملائیشیا مکمل؛ دوطرفہ عسکری تعاون کو فروغ دینے کے بعد وطن واپسی ابراہیمی معاہدے پر افواہیں گردش کر رہی ہیں، فلسطین کے حوالے سے پاکستان اپنے اصولی مؤقف پر قائم ہے: اسحاق ڈار