ممبئی (سیاسی رپورٹر): مہاراشٹر کی سیاست میں آئندہ قانون ساز کونسل (MLC) انتخابات کے حوالے سے حکمران اتحاد ‘مہایوتی’ نے سیٹ شیئرنگ کا بڑا معاہدہ فائنل کر لیا ہے۔ ممبئی پریس کی رپورٹ کے مطابق، اس انتخابی ڈیل میں بھارتیہ جنتا پارٹی (BJP) نے شیر کا حصہ (بڑا حصہ) حاصل کرتے ہوئے اپنے پاس سب سے زیادہ نشستیں رکھی ہیں، جبکہ اتحاد میں شامل دیگر دو بڑی جماعتوں کو ان کی سیاسی طاقت کے مطابق حصے داری دی گئی ہے۔Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!نشستوں کی تقسیم کا حتمی فارمولامہایوتی اتحاد کے اندر طویل مشاورت اور اعلیٰ قیادت کی ملاقاتوں کے بعد مجموعی نشستوں کو درج ذیل تناسب سے تقسیم کیا گیا ہے:بھارتیہ جنتا پارٹی (BJP): اتحاد کی سب سے بڑی جماعت ہونے کے ناطے بی جے پی نے اپنے لیے 11 نشستیں مختص کی ہیں۔ پارٹی قیادت کا ماننا ہے کہ کونسل میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کے لیے یہ نشستیں انتہائی اہم ہیں۔شیو سینا (شندے گروپ): وزیراعلیٰ ایکناتھ شندے کی قیادت میں کام کرنے والی شیو سینا کے حصے میں 4 نشستیں آئی ہیں۔نیشنل کانفرنس پارٹی (NCP – اجیت پوار گروپ): نائب وزیراعلیٰ اجیت پوار کی این سی پی کو اس انتخابی اتحاد کے تحت 2 نشستیں دی گئی ہیں۔سیاسی اہمیت اور تزویراتی حکمتِ عملیماہرینِ سیاست کے مطابق، یہ سیٹ شیئرنگ فارمولا مہاراشٹر کے آنے والے اسمبلی انتخابات سے قبل اتحاد کی یکجہتی کا ایک بڑا امتحان تھا:بی جے پی کا غلبہ: 11 نشستیں اپنے پاس رکھ کر بی جے پی نے واضح کر دیا ہے کہ وہ ریاست کے اندرونی سیاسی ڈھانچے اور بالائی ایوان میں اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتی ہے۔اتحادیوں میں توازن: شیو سینا کو 4 اور این سی پی کو 2 نشستیں دینے کا فیصلہ داخلی اختلافات کو روکنے اور اقتدار کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے کیا گیا ہے تاکہ اپوزیشن اتحاد ‘مہا وکاس اگھاڑی’ (MVA) کو سخت مقابلہ دیا جا سکے۔امیدواروں کا انتخاب: ذرائع کا کہنا ہے کہ سیٹوں کے اس فارمولے کے بعد اب تینوں جماعتیں اپنے وفادار اور مضبوط مقامی رہنماؤں کو میدان میں اتارنے کے لیے ٹکٹوں کی تقسیم کو حتمی شکل دے رہی ہیں۔اپوزیشن کا ردِعملدوسری جانب اپوزیشن حلقوں نے مہایوتی کے اس معاہدے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بی جے پی اپنے اتحادیوں کو بتدریج کمزور کر رہی ہے اور زیادہ نشستیں اپنے پاس رکھ کر چھوٹی جماعتوں کے سیاسی قد کو محدود کر رہی ہے۔ تاہم، مہایوتی کے رہنماؤں کا دعویٰ ہے کہ یہ فیصلہ مکمل ہم آہنگی اور باہمی رضامندی کے ساتھ کیا گیا ہے اور اتحاد ان انتخابات میں کلین سویپ کرے گا۔خلاصہ: مہاراشٹر ایم ایل سی انتخابات کے لیے مہایوتی کا یہ معاہدہ ظاہر کرتا ہے کہ بی جے پی ریاست کی سیاست میں ‘بڑے بھائی’ کا کردار برقرار رکھے ہوئے ہے، جبکہ شندے اور اجیت پوار اپنے سیاسی وجود اور مستقبل کے اسمبلی الیکشن کے تناظر میں اس سمجھوتے پر راضی ہوئے ہیں۔About The Author حنا خانحنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ See author's posts Post navigationبجٹ منظوری کیلئے کامران ٹیسوری کی بطور گورنربحالی ہماری ریڈلائن ہے: فاروق ستار جنوبی لبنان میں عسکری صورتحال سنگین: اسرائیل کا تاریخی اور تزویراتی قلعہ ‘بوفورٹ’ پر قبضے کا دعویٰ، حزب اللہ کی شدید مزاحمت، خطے میں نئی جنگی لہر