عوامی و مقامی ذرائع کے مطابق پشاور، ضلع نوشہرہ، جہانگیرہ اور پبی کے مختلف علاقوں میں ایک مبینہ خواتین گروہ کی سرگرمیوں کے حوالے سے شکایات سامنے آ رہی ہیں۔ جن کے سرغنہ میں بدنام زمانہ موج علی جو گلبہار کا رہائشی ہے ان خواتین ڈکیت چور گروہ کا سرغنہ بتایا جا رہا ہے جس میں موج علی کی بیٹیاں ماریہ ۔سمینہ سلونی اور دیگر خواتین اور بھتیجیاں بھی شامل ہیں، ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ خواتین فلیگ کوچ، ٹیکسی، تیز رفتار رکشوں اور بی آر ٹی میں مسافروں کے روپ میں سفر کرتی ہیں اور مبینہ طور پر الٹی یا طبیعت خراب ہونے کا بہانہ بنا کر مرد و خواتین مسافروں کو نقدی، موبائل فون اور زیورات سے محروم کر دیتی ہیں۔Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!اطلاعات کے مطابق اس گروہ کے بعض افراد کے خلاف ماضی میں مختلف تھانوں میں مقدمات درج ہونے اور گرفتاریاں عمل میں آنے کی بھی خبریں سامنے آئی ہیں، تاہم حتمی حقائق کی تصدیق قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عدالتی کارروائی کے ذریعے ہی ممکن ہے۔یہ گروہ جہانگیرہ اور گرد و نوا میں وارداتیں کر کے پشاور میں روپوش ہو جاتے ہیں گروہ کے سربراہ کی تصاویر اور خواتین ڈکیت چور کی تصاویر بھی عوام دیکھ لیں اور ان چوروں سے ہوشیار رہیں ۔ان میں سنی اور ساحل مشہور موبائل سنیچر ہے جبکہ ڈکیت گروہ خواتین کے ساتھ بھی واردات میں شریک ہوتے ہیں ۔۔۔۔عوامی حلقوں نے سی سی پی او پشاور، ایس ایس پی آپریشنز پشاور، ڈی آئی جی پشاور ریجن اور دیگر متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ ان اطلاعات کا نوٹس لیتے ہوئے مکمل تحقیقات کی جائیں، اگر کسی شخص یا گروہ کا جرائم میں ملوث ہونا ثابت ہو تو ان کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔📖 متعلقہ قانونی دفعات (اگر الزامات ثابت ہوں):▪️ تعزیراتِ پاکستان دفعہ 379 — چوری کی سزا▪️ تعزیراتِ پاکستان دفعہ 356 — حملہ یا طاقت کے استعمال کے ذریعے جائیداد چھیننا▪️ تعزیراتِ پاکستان دفعہ 392 — ڈکیتی کی سزا▪️ تعزیراتِ پاکستان دفعہ 411 — چوری شدہ مال رکھنے یا خریدنے کا جرم▪️ تعزیراتِ پاکستان دفعہ 420 — دھوکہ دہی اور فراڈ▪️ تعزیراتِ پاکستان دفعہ 34 — مشترکہ مجرمانہ ارادہ▪️ تعزیراتِ پاکستان دفعہ 109 — معاونت یا اعانت جرم⚠️ عوام سے گزارش ہے کہ دورانِ سفر اپنے موبائل فون، نقدی اور زیورات کی حفاظت کریں، مشکوک سرگرمی کی صورت میں فوراً پولیس ہیلپ لائن 15 یا قریبی تھانے کو اطلاع دیں۔جرائم کے خلاف آواز بلند کریں، لیکن ہر شخص کے بارے میں فیصلہ عدالت اور قانون کو کرنے دیں۔About The Author حنا خانحنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ See author's posts Post navigationماحولیاتی آگاہی اور نوجوانوں کی قیادت کے فروغ کیلئے فاطمہ فراز ہوتی متحرک اسلام آباد پولیس کا رنگ برنگے کپڑوں میں تیز میوزک اور سرعام ناچ گانے والوں کے خلاف ایکشن