Police rated peon LHC


پنجاب پولیس نے نائب قاصد کے گھر پر چھاپہ کیوں مارا جس پر عدالت عالیہ لاہور میں سماعت ہوئی۔
گزشتہ روز سماعت پر متعلقہ ڈی پی او عدالت عالیہ کو مطمئن کرنے میں ناکام رہے جس پر عدالت عالیہ لاہور نے ریجنل پولیس آفیسر کو ذاتی حیثیت میں طلب کیا گیا تھا۔
ریجنل پولیس آفیسر ذاتی حیثیت میں لاہور ہائی کورٹ میں پیش۔
عدالت عالیہ نے ریجنل پولیس آفیسر سے استفسار کیا کہ کیا قانون کے مطابق پنجاب پولیس لاہور ہائی کورٹ کے اہلکار کے گھر پر چھاپہ مار سکتی ہے اور اسے گرفتار کر سکتی ہے۔
جس پر سرکاری وکیل نے عدالت عالیہ کو بتایا کہ اگر لاہور ہائی کورٹ کے ملازمین کے خلاف مقدمہ درج ہو جائے تو اس صورت میں پنجاب پولیس ہائی کورٹ ملازم کے گھر پر چھاپہ نہیں مار سکتی اور نہ ہی گرفتار کر سکتی ہے۔
قانونی طور پر عزت مآب جناب رجسٹرار لاہور ہائی کورٹ سے اجازت لینے کے بعد اہلکار کو گرفتار کیا جا سکتا ہے۔
جس پر عدالت عالیہ نے پوچھا کہ کیا رجسٹرار صاحب سے اجازت لی گئی تھی۔
جس پر سرکاری وکیل نے عدالت عالیہ کو بتایا کہ رجسٹرار صاحب سے اجازت نہیں لی گئی تھی پولیس نے جان بوجھ کر اپنے اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھایا جس پر عدالت عالیہ نے پوچھا کہ کیا پولیس کے خلاف کوئی کاروائی کی گئی ۔
جس پر سرکاری وکیل نے عدالت عالیہ کو بتایا کہ ریجنل پولیس آفیسر ایک رپورٹ لے کر آئے ہیں جس میں اس معاملے میں ملوث پانچ پولیس اہلکاروں کو نوکری سے Removal from service کر دیا گیا ہے جس میں ایک ایس ایچ او۔ ایک اے ایس ائی اور تین کانسٹیبل شامل ہیں ان تمام لوگوں نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا۔
انکوائری کے دوران پانچ پولیس اہلکار ملوث پائے گئے جس پر مقدمہ بھی درج کیا گیا ہے اور تمام اہلکاروں کو گرفتار کر کے جوڈیشل جیل بھیج دیا گیا ہے۔
عدالت عالیہ نے مزید پوچھا کہ نائب قاصد کے گھر سے پولیس نے جو سامان اٹھایا ہے وہ کہاں ہے۔
جس پر متعلقہ ریجنل پولیس آفیسر نے روسٹرم پر آ کر بتایا کہ متعلقہ پولیس اہلکاروں کے خلاف ڈکیتی ک مقدمہ الگ سے درج کیاگیا ہے اور تمام سامان اور نقد رقم آج متعلقہ نمبردار کی موجودگی میں پہنچ جائے گی۔
پولیس اہلکاروں کو ڈکیتی کے مقدمے میں ریمانڈ پر لانا ہے لہذا وقت دیا جائے کہ میرٹ پر تفتیش کر کے پولیس اہلکاروں کو سزا کا مرتکب بنایا جائےگا۔
عدالت عالیہ لاہور نے ریجنل پولیس آفیسر کی استدعا منظور کرتے ہوئے مورخہ 29 جون 2026 کو دفعہ 173 کی مکمل کاروائی رپورٹ کے ساتھ پیش ہونے کا حکم دے دیا۔

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

About The Author

Hina Khan

By حنا خان

حنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔

Glimpse of Cricket بشیر بلور پشاور جلسہ Ambani showing Vantra to Messi Pakistan U-19 The Asian Champion Jobs 14 Dec 2025