اہم نکات:صحت پر تشویش: خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات شفیع جان نے بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی جیل میں صحت سے متعلق سامنے آنے والی خبروں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔طبی رسائی کا مطالبہ: عمران خان کی بہنوں اور ذاتی معالجین کی فوری ملاقات اور بہترین ہسپتال میں علاج فراہم کرنے کا فوری مطالبہ۔احتجاجی لائحہ عمل: اراکینِ اسمبلی و سینیٹرز کا اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے باہر دھرنا، عدم ملاقات پر اڈیالہ جیل کے گھیراؤ کا انتباہ۔لانگ مارچ کا اعلان: مطالبات کی عدم منظوری اور سیاسی پابندیوں کے خلاف 27 ستمبر کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی جانب بھرپور لانگ مارچ کا حتمی فیصلہ۔اسلام آباد اور پشاور کی سیاسی فضا میں گرمی: خبر کا پس منظرپاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی جیل میں صحت کے حوالے سے سامنے آنے والی اطلاعات نے ملکی سیاست میں ایک نیا بوجھل موڑ پیدا کر دیا ہے۔ خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے بانی چیئرمین کی صحت کے حوالے سے تشویشناک خبروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے صحت سے متعلق تمام حقائق اور اصل صورتحال کو فوری طور پر قوم کے سامنے لایا جائے۔یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اپوزیشن اور حکومت کے درمیان پہلے ہی مختلف آئینی و قانونی امور پر محاذ آرائی جاری ہے۔ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت اور مرکزی قیادت کا موقف ہے کہ عمران خان کو بنیادی انسانی و قانونی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے پارٹی نے اب گلی محلوں کے بجائے باضابطہ آئینی اداروں کے سامنے دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی اختیار کی ہے۔عمران خان کی صحت اور ملاقاتوں پر پابندی کا معاملہوزیر اطلاعات خیبر پختونخوا شفیع جان کے مطابق، بانی چیئرمین عمران خان کی صحت سے متعلق کسی بھی قسم کی غفلت یا نااہلی کو تحریک انصاف اور عوام کے لیے برداشت کرنا ناممکن ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ وفاقی اور پنجاب حکومتیں انتقامی کارروائیوں پر اتر آئی ہیں اور بانی پی ٹی آئی سے ان کے اہل خانہ، سیاسی قیادت اور ذاتی معالجین کی ملاقاتوں پر مسلسل غیر قانونی پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں۔شفیع جان کا کہنا تھا:“عمران خان کی فیملی، پارٹی قیادت، کارکنان اور پوری قوم اس وقت ان کی سلامتی اور صحت کے حوالے سے شدید اضطراب میں مبتلا ہے۔ ہمارا فوری اور بنیادی مطالبہ یہ ہے کہ ان کی بہنوں اور ذاتی معالجین کو بلا تاخیر رسائی دی جائے تاکہ ان کا معائنہ ان کے اعتماد کے معالجین کی نگرانی میں ملک کے بہترین ہسپتال میں کرایا جا سکے۔”ان کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان کو گزشتہ کئی ماہ سے قیدِ تنہائی میں رکھا گیا ہے، جہاں نہ صرف سیاسی قیادت بلکہ ان کے ذاتی طبی معالجین کی پہنچ بھی مسدود کر دی گئی ہے، جو کہ بین الاقوامی اور ملکی جیل قوانین کی واضح خلاف ورزی ہے۔بنیادی حقوق کا تقابل اور سیاسی و قانونی ردعملپریس کانفرنس کے دوران خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات نے سیاسی تاریخ اور قانونی نظائر کا حوالہ دیتے ہوئے موجودہ حکمران اتحاد پر دوہرے معیار کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ماضی میں مختلف سیاسی رہنماؤں کو طبی بنیادوں پر ریلیف اور رعایتیں دی جاتی رہی ہیں۔پاکستان میں طبی بنيادوں پر دی جانے والی رعایتوں کے حوالے سے پی ٹی آئی کا موقف درج ذیل نکات پر مبنی ہے:ماضی کے نظائر: سابق وزیراعظم نواز شریف کو طبی بنیادوں پر نہ صرف ضمانت ملی بلکہ بیرون ملک سفر کی اجازت بھی دی گئی۔تیمارداری کا حق: مریم نواز کو اپنے والد کی تیمارداری کی بنیاد پر طبی ضمانت فراہم کی گئی تھی۔موجودہ صورتحال: عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو بنیادی طبی سہولیات اور اپنے منتخب معالجین تک رسائی سے بھی محروم رکھا جا رہا ہے۔شفیع جان کا کہنا تھا کہ وفاق اور پنجاب میں اقتدار میں موجود حکمران ادنیٰ ترین تکلیف پر بھی غیر ملکی ہسپتالوں کا رخ کرتے ہیں، جبکہ ملک کے مقبول ترین سیاسی رہنما کو ملک کے اندر ہی بنیادی سہولیات دینے میں لیت و لعل سے کام لیا جا رہا ہے۔دھرنے اور پارلیمانی احتجاج کی حکمت عملیصوبائی حکومت اور پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت کے فیصلہ جات کی روشنی میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی ہدایت پر پارٹی کے تمام اراکینِ قومی و صوبائی اسمبلی اور سینیٹرز کو اسلام آباد میں متحرک ہونے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔احتجاجی منصوبے کے اہم مراحل درج ذیل ہیں:سپریم کورٹ کے باہر دھرنا: تمام پی ٹی آئی اراکین پارلیمنٹ اسلام آباد پہنچ کر عدالت عظمیٰ کے سامنے احتجاجی دھرنا دیں گے تاکہ آئینی حقوق کی بالادستی پر آواز اٹھائی جا سکے۔اڈیالہ جیل کا رخ: اگر بانی چیئرمین کی ان کی بہنوں اور معالجین سے ملاقات نہ کرائی گئی، تو جمعرات کو تمام پارلیمنٹیرینز راولپنڈی میں اڈیالہ جیل کے باہر جمع ہو کر احتجاج کریں گے۔قانونی و آئینی رجوع: پارٹی کی جانب سے عمران خان کی ہسپتال منتقلی اور تمام ضروری سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام ممکنہ آئینی فورمز کا دروازہ کھٹکھٹایا جا چکا ہے۔شفیع جان نے واضح کیا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا مطالبہ مکمل طور پر آئینی حدود کے اندر ہے اور عمران خان کو طبی سہولیات کی فراہمی کوئی سیاسی رعایت نہیں بلکہ ان کا مسلمہ آئینی حق ہے۔27 ستمبر کا لانگ مارچ: سیاسی محاذ آرائی کا حتمی فیصلہحکومتی رویے اور ملاقاتوں پر عائد پابندیوں کو آئین اور بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے، پی ٹی آئی نے احتجاج کی شدت میں اضافے کا اعلان کیا ہے۔ ترجمان کے مطابق تمام تر قانونی اور آئینی راستے مسدود ہونے کے بعد پارٹی کے پاس عوامی طاقت کے مظاہرے کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں بچا۔اس سلسلے میں اعلان کیا گیا ہے کہ 27 ستمبر کو اسلام آباد کی طرف ایک بھرپور لانگ مارچ کیا جائے گا، جس میں ملک بھر سے کارکنان اور عوام کی بڑی تعداد شرکت کرے گی۔سیاسی مبصرین کے مطابق، پی ٹی آئی کی جانب سے اسلام آباد میں دھرنے اور بعد ازاں لانگ مارچ کے اعلانات سے وفاقی دارالحکومت میں سیاسی اور انتظامی تناؤ میں شدید اضافے کا امکان ہے۔ ایک طرف جہاں اپوزیشن اپنے قائد کے آئینی و انسانی حقوق کی جنگ لڑنے کا دعویٰ کر رہی ہے، वहीं دوسری طرف وفاقی و صوبائی انتظامیہ کے لیے امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنا ایک نیا چیلنج بن کر سامنے آ سکتا ہے۔About The Author حنا خانحنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ See author's posts Post navigationیورپ میں ریکارڈ خشک سالی: دریائے ڈینیوب کی سطح گرنے سے نازی دور کے زنگ آلود جنگی جہاز ابھر آئے