Peshawar police progress review meeting

اہم نکات:

  • اعلیٰ سطح اجلاس: کیپٹل سٹی پولیس آفیسر (سی سی پی او) پشاور ڈاکٹر میاں سعید احمد کی زیرِ صدارت ملک سعد شہید پولیس لائن میں کارکردگی کا تفصیلی جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔
  • سخت ہدایات: اسٹریٹ کرائمز، قبضہ مافیا، آئس سپلائرز، اور سوشل میڈیا پر بدمعاشی کرنے والے عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن تیز کرنے کا فیصلہ۔
  • عوامی ریلیف: بیواؤں، یتیموں اور مستحق درخواست گزاروں کی شکایت کے ترجیحی بنیادوں پر حل اور درخواستیں مقررہ وقت میں نمٹانے کی ہدایت۔
  • شفافیت اور میرٹ: فرض شناس افسران کی حوصلہ افزائی کا اعلان جبکہ عوامی مسائل کے حل کے لیے DRCs اور PLCs کے ساتھ ماہانہ اجلاس لازمی قرار دیے گئے۔

پشاور (خاص رپورٹ): Provincial پشاور شہر میں امن و امان کی مجموعی صورتحال کو بہتر بنانے، اسٹریٹ کرائمز کی شرح کو کم کرنے اور منظم جرائم کے خاتمے کے لیے کیپٹل سٹی پولیس پشاور نے بڑے پیمانے پر پیشہ ورانہ اور عملی اقدامات کا آغاز کر دیا ہے۔ اس سلسلہ میں ملک سعد شہید پولیس لائن پشاور میں ایک اعلیٰ سطحی پولیس پرفارمنس ریویو میٹنگ منعقد ہوئی جس کی صدارت سی سی پی او پشاور ڈاکٹر میاں سعید احمد نے کی۔

اجلاس میں ضلع پشاور کے پولیس ڈویژنز کی کارکردگی، زیر التوا کیسز، اشتہاری مجرمان کی گرفتاری، اور معاشرتی برائیوں کے خلاف جاری آپریشنز کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔

اجلاس کی شرکت اور اہم انتظامی جائزے

اجلاس میں پشاور پولیس کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی جن میں ایس ایس پی آپریشنز فرحان خان، ایس پی انویسٹی گیشن ڈاکٹر سمیع ملک، ڈی پی او ضلع خیبر وقار احمد، کمانڈنٹ کیمپس مجیب الرحمٰن سمیت ڈویژنل ایس پیز، ایس ڈی پی اوز اور تمام تھانوں کے ایس ایچ اوز شامل تھے۔

اجلاس کے دوران درج ذیل امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا:

  • جرائم کا خاتمہ: ڈکیتی، اسٹریٹ کرائمز، گنڈہ گردی اور اسنیچنگ میں ملوث گینگ کی سرگرمیاں۔
  • منشیات کا کریک ڈاؤن: بالخصوص تعلیمی اداروں اور نوجوان نسل میں آئس (Methamphetamine) بیچنے والے ڈیلرز کی نشاندہی۔
  • غیر قانونی سرگرمیاں: ہوائی فائرنگ، غیر قانونی اسلحہ کی نمائش اور سود خوری کے واقعات۔
  • سنگین جرائم: قبضہ مافیا، بھتہ خوری اور سوشل میڈیا کے ذریعے ہراساں یا بدمعاشی کرنے والے عناصر کی پکڑ دھکڑ۔
  • قانون پر عملدرآمد: اشتہاری مجرمان (Proclaimed Offenders) کی گرفتاری اور عادی مجرمان کا ریکارڈ اپ ڈیٹ کر کے ان کی دوبارہ گرفتاری۔

عوامی خدمت، شفافیت اور میرٹ کی بالادستی

سی سی پی او ڈاکٹر میاں سعید احمد نے پولیس افسران سے خطاب کرتے ہوئے زور دیا کہ پولیس فورس کا اصل مقصد صرف امن قائم رکھنا ہی نہیں بلکہ شہریوں کے دلوں میں احساسِ تحفظ پیدا کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ، بروقت انصاف کی فراہمی اور شہریوں کے مسائل کا فوری حل پشاور پولیس کی بنیادی ذمے داریوں میں شامل ہے۔

انہوں نے افسران پر واضح کیا کہ وہ ایمانداری، دیانت داری، فرض شناسی اور عوامی خدمت کو اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا شعار بنائیں۔

کمزور طبقات کی ترجیحی امداد: سی سی پی او نے بالخصوص ہدایت کی کہ بیواؤں، یتیموں، بے سہارا افراد اور مالی طور پر مستحق درخواست گزاروں کے مسائل کو بلا تاخیر اور ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے۔ انہوں نے تاکید کی کہ تھانوں کی سطح پر عام شہریوں کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آیا جائے اور انصاف کا عمل بلا تفریق فراہم ہو۔

جزا و سزا کا نظام: ڈاکٹر میاں سعید احمد کا کہنا تھا کہ پولیس ڈیپارٹمنٹ میں شفافیت برقرار رکھنے کے لیے جزا و سزا کا نظام نافذ عمل رہے گا۔ جو افسران و اہلکار ایمانداری اور فرض شناسی سے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کریں گے، ان کی ہر سطح پر حوصلہ افزائی کی جائے گی اور انعامات دیے جائیں گے۔

مقررہ مدت کے اندر التوا کا خاتمہ

اجلاس میں شہریوں کی جانب سے جمع کرائی گئی درخواستوں پر کارروائی کی رفتار کا بھی جائزہ لیا گیا۔ سی سی پی او نے تمام ایس ڈی پی اوز اور ایس ایچ اوز کو واضح احکامات جاری کیے کہ:

  1. انصاف کی فراہمی: زیرِ التوا تمام ٹاسکس اور درخواستوں کو مقررہ مدت کے اندر نمٹایا جائے۔
  2. شفاف تحققیات: ہر انویسٹی گیشن میں میرٹ، شفافیت اور قانون کی بالادستی کو ملحوظِ خاطر رکھا جائے۔
  3. عدالتی تعمیل: عدالتی احکامات اور شہریوں کی شکایات پر ہونے والی تاخیر کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

پشاور پولیس کا حتمی یکسوئی کے ساتھ کریک ڈاؤن

شہر کو جرائم سے پاک کرنے کے لیے سی سی پی او نے مختلف جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کرنے کے احکامات دیے ہیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ بلاامتیاز آپریشن کیا جائے اور کسی بھی اثر و رسوخ کو خاطر میں نہ لایا جائے۔

جن شعبوں میں فوری اور سخت اقدام کی ہدایت کی گئی ان میں شامل ہیں:

  • اسٹریٹ کرائمز اور اسنیچنگ: اہم شاہراؤوں اور تجارتی مراکز کے ارد گرد گشت بڑھائی جائے تاکہ موبائل اور نقد رقم چھیننے کے واقعات روکے جا سکیں۔
  • قبضہ مافیا اور بھتہ خوری: شہریوں کی ذاتی پراپرٹی پر ناجائز قبضہ کرنے والوں اور کاروباری برادری سے بھتہ مانگنے والوں کو فوری قانون کی گرفت میں لایا جائے۔
  • منشیات کے خلاف جنگ: بالخصوص آئس جیسے مہلک نشے کی خریدو فروخت میں ملوث بڑے ڈیلرز کو گرفتار کر کے ان کا نیٹ ورک توڑا جائے۔
  • سوشل میڈیا اور ہوائی فائرنگ: ٹک ٹاک یا دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اسلحہ نمائش، بدمعاشی کی ویڈیوز بنانے اور شادی بیاہ پر ہوائی فائرنگ کرنے والوں کے خلاف مقدمات درج کیے جائیں۔
  • سود خوری: غریب اور مجبوری میں پھنسے لوگوں کا استحصال کرنے والے سود خوروں کے خلاف سخت قانونی اقدامات کیے جائیں۔

عوامی شراکت داری: DRCs اور PLCs کے کردار کو فعال کرنے کا فیصلہ

پولیس اور عوام کے درمیان فاصلے کم کرنے اور مقامی تنازعات کو خوش اسلوبی سے حل کرنے کے لیے پشاور پولیس نے کمیونٹی پولیسنگ کو مضبوط بنانے کا اعلان کیا ہے۔

سی سی پی او ڈاکٹر میاں سعید احمد نے فیصلہ کیا کہ عوام سے براہِ راست رابطے اور ان کے مسائل سے باخبر رہنے کے لیے ڈسپیوٹ ریزولیوشن کمیٹیز (DRCs) اور پولیس لائزن کمیٹیز (PLCs) کے اراکین کے ساتھ ہر ماہ میٹنگز کا اہتمام کیا جائے گا۔ اس اقدام سے معمولی تنازعات اور محلہ جات کے مسائل تھانے یا عدالت پہنچنے سے پہلے ہی پرامن طور پر حل ہو سکیں گے، جس سے پولیس کا وقت اہم نوعیت کے جرائم پر مرکوز ہو سکے گا۔

پس منظر اور تجزیہ: پشاور پولیس کا موجودہ چیلنج اور آئندہ لائحہ عمل

پشاور کی جغرافیائی اور جغرافیائی انتظامی حیثیت کے پیشِ نظر کیپٹل سٹی پولیس کو ہمیشہ منفرد چیلنجز کا سامنا رہا ہے۔ ایک طرف سرحدی اضلاع اور قبائلی علاقوں سے متصل حدود کی وجہ سے امن و امان کے مسائل پیدا ہوتے ہیں تو دوسری طرف بڑھتی ہوئی آبادی اور شہری پھیلاؤ کے ساتھ اسٹریٹ کرائمز اور نویلی نوعیت کے جرائم (مثلاً ڈارک ویب، آئس کا نشہ اور ڈیجیٹل بدمعاشی) میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

ماضی میں ہونے والے آپریشنز کے باوجود قبضہ مافیا اور سود خوری جیسے منظم جرائم نے عوام بالخصوص درمیانے اور غریب طبقے کو شدید پریشان کیا ہے۔ ایسے میں نئے سی سی پی او ڈاکٹر میاں سعید احمد کا چارج سنبھالنے کے بعد کرائم ریویو میٹنگ کا انعقاد اور واضح حکمت عملی پیش کرنا پشاور پولیس کی پیشہ ورانہ ترجیحات میں تبدیلی کی نشان دہی کرتا ہے۔

عوامی حلقوں کا ردِعمل: شہریوں اور تاجر برادری نے سی سی پی او پشاور کے ان اقدامات اور سخت احکامات کا خیرمقدم کیا ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ اگر ان ہدایات پر روح کے مطابق اور تھانہ کی سطح پر عملی طور پر در آمد ہوا تو پشاور کو ایک بار پھر پرامن اور محفوظ شہر بنانے میں مدد ملے گی۔

کیپٹل سٹی پولیس پشاور کے اس نئے عزم اور جارحانہ اسٹریٹجی سے توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں شہر میں نہ صرف اسٹریٹ کرائمز اور منشیات کی فراہمی میں نمایاں کمی آئے گی بلکہ عام شہری کو تھانہ کلچر میں واضح تبدیلی محسوس ہوگی۔

About The Author

Hina Khan

By حنا خان

حنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔

Glimpse of Cricket بشیر بلور پشاور جلسہ Ambani showing Vantra to Messi Pakistan U-19 The Asian Champion Jobs 14 Dec 2025