Pakistan launched longest range suicide drone
  • تاریخی پیش رفت: پاکستان نے مقامی سطح پر دنیا کا طویل ترین فاصلے تک مار کرنے والا ‘Delta Wing Loitering Munition (D-248)’ خودکش ڈرون تیار کر لیا۔
  • غیر معمولی رینج: 3000 کلومیٹر کی طویل ترین رینج کے ساتھ یہ ڈرون دشمن کے سٹریٹجک اہداف کو انتہائی درستی کے ساتھ نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
  • جدید ترین ڈیزائن: ڈیلٹا ونگ (Delta Wing) اور لوئٹرنگ صلاحیت (Loitering Capability) کی بدولت یہ ڈرون فضائی دفاعی نظام کو چکمہ دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔
  • سٹریٹجک توازن: اس نئی ٹیکنالوجی کی شمولیت سے خطے میں دفاعی توازن اور پاکستان کی سٹریٹجک خودمختاری کو مزید تقویت ملے گی۔

اسلام آباد (نیوز ڈیسک): پاکستان نے دفاعی پیداوار اور ایروناٹیکل انجینئرنگ کے شعبے میں ایک اور تاریخی اور غیر معمولی سنگ میل عبور کر لیا ہے۔ ملکی دفاعی سائنسدانوں اور انجینئرز نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے بغیر پائلٹ کے ہوائی جہاز (یو اے وی) کی دنیا میں ایک انقلابی پیش رفت کرتے ہوئے ‘Delta Wing Loitering Munition (D-248)’ نامی خودکش ڈرون کامیابی سے تیار کر لیا ہے۔ یہ ڈرون نہ صرف پاکستان کی دفاعی تاریخ کا بلکہ اپنے زمرے میں دنیا کا سب سے طویل فاصلے تک مار کرنے والا لوئٹرنگ میونیشن قرار دیا جا رہا ہے، جس کی آپریشنل رینج 3000 کلومیٹر تک محیط ہے۔

اس اہم کامیابی نے پاکستان کو ان چند منتخب ممالک کی صف میں شامل کر دیا ہے جو طویل فاصلے تک مار کرنے والے سٹریٹجک ڈرون سسٹمز خود ساختہ طور پر ڈیزائن اور تیار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

خودکش ڈرون (Loitering Munition) کیا ہے؟

روایتی کروز میزائلوں یا عام بمبار ڈرونز کے برعکس، لوئٹرنگ میونیشن (جسے عام زبان میں ‘خودکش ڈرون’ یا ‘کامیکازی ڈرون’ بھی کہا جاتا ہے) ایک انتہائی جدید دفاعی ٹیکنالوجی ہے۔ یہ ڈرون ہدف والے علاقے کے اوپر فضا میں کچھ دیر تک پرواز برقرار رکھتے ہوئے معائنہ یا گشت (Loiter) کر سکتا ہے اور جیسے ہی مطلوبہ یا سٹریٹجک ہدف کی نشاندہی ہوتی ہے، یہ خود کو اس ہدف سے ٹکرا کر تباہ کر دیتا ہے۔

اس ٹیکنالوجی کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ متحرک، روپوش اور انتہائی حسّاس اہداف کو بھی کم سے کم وقت میں اور انتہائی درستی کے ساتھ نشانہ بنانے کی صلاحیت فراہم کرتی ہے۔

D-248 ڈرون کی خصوصیات اور فنی قابلیت

D-248 کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کی ساخت اور حیران کن رینج ہے۔ اس کے فنی خدوخال درج ذیل اہم نکات میں شامل ہیں:

  • 3000 کلومیٹر آپریشنل رینج: اس کی سب سے بڑی خصوصیت 3000 کلومیٹر تک کا طویل فاصلہ طے کرنے کی صلاحیت ہے، جو اسے خطے اور دنیا کے دیگر تمام خودکش ڈرونز سے ممتاز بناتی ہے۔
  • ڈیلٹا ونگ ڈیزائن: اس کا مخصوص ‘ڈیلٹا ونگ’ (تکون کی شکل کا) ساخت ڈرون کو فضائی رگڑ کم کرنے، تیز رفتار پرواز، اور ایندھن کی بچت میں مدد فراہم کرتا ہے۔
  • اسٹیلتھ صلاحیت: ڈیلٹا ونگ ڈیزائن اور جدید مواد کے استعمال کی وجہ سے اس ڈرون کا رڈار کراس سیکشن (RCS) انتہائی کم ہوتا ہے، جس کی وجہ سے دشمن کے ایئر ڈیفنس اور رڈار سسٹمز کے لیے اسے وقت سے پہلے شناسا کرنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔
  • جدید نیویگیشن اور ٹارگٹنگ: یہ ڈرون سیٹلائٹ گائیڈنس، انرشیل نیویگیشن سسٹم (INS) اور آپٹیکل/تھرمل سینسرز سے لیس ہے، جو اسے دشمن کی جیمنگ (Jamming) اور الیکٹرانک وارفیئر کے ماحول میں بھی اپنے ہدف تک پہنچنے میں مدد دیتے ہیں۔

سٹریٹجک اور دفاعی اہمیت

دفاعی ماہرین کے مطابق D-248 کی تیاری نے جنوبی ایشیا میں دفاعی توازن اور جنگی حکمت عملی کے پیرامیٹرز کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ اس ڈرون کی شمولیت کے بعد پاکستان کو درج ذیل سٹریٹجک فوائد حاصل ہوں گے:

1. ڈیپ سٹرائیک کی صلاحیت: 3000 کلومیٹر کی رینج کا مطلب ہے کہ پاکستان اب دشمن کی سرحد کے بہت اندر قائم سٹریٹجک اڈوں، مواصلاتی مراکز، رڈار اسٹیشنوں اور کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز کو اپنی ہی فضائی حدود میں رہتے ہوئے نشانہ بنا سکتا ہے۔

2. کم لاگت لیکن انتہائی کاری ضرب: روایتی کروز یا بیلسٹک میزائلوں کے مقابلے میں لوئٹرنگ میونیشن کی تیاری اور دیکھ بھال کی لاگت انتہائی کم ہوتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ پاکستان کم سے کم مالی وسائل کا استعمال کرتے ہوئے ایک زبردست موثر “غیر متناسب دفاعی صلاحیت” (Asymmetric Warfare Capability) حاصل کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔

3. فضائی دفاعی نظام کی ناکامی: جدید جنگوں (مثلاً یوکرین اور مشرق وسطیٰ کے تنازعات) نے یہ ثابت کیا ہے کہ خودکش ڈرونز کا ایک ساتھ گروپ کی شکل میں (Swarm Attack) حملہ کرنا دنیا کے مہنگے ترین ایئر ڈیفنس سسٹمز کو بھی مفلوج کر سکتا ہے۔ D-248 کی طویل رینج اور اسٹیلتھ خصوصیات اسے اس میدان میں ایک تباہ کن ہتھیار بناتی ہیں۔

علاقائی صورتحال اور پس منظر

گذشتہ چند برسوں میں دنیا بھر میں جنگی تکنیک میں ڈرون ٹیکنالوجی کا استعمال مرکزی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ خطے میں بڑھتے ہوئے روایتی اور غیر روایتی دفاعی عدم توازن کے پیش نظر پاکستان کے لیے یہ ضروری تھا کہ وہ اپنے خود ساختہ دفاعی پروگرام کو جدید ترین تقاضوں سے ہم آہنگ کرے۔

پاکستان اس سے قبل بھی شاہپر، براق اور دیگر تجسسی و جنگی ڈرونز کامیابی سے تیار کر چکا ہے، تاہم D-248 کا تعارف پاکستان کے دفاعی انڈسٹری کمپلیکس کی تکنیکی پختگی اور خود انحصاری کی طرف بڑھتے ہوئے مضبوط قدم کی نشاندہی کرتا ہے۔

مستقبل کے اثرات

D-248 جیسے جدید پلیٹ فارم کی تیاری نہ صرف ملکی دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے میں مددگار ثابت ہوگی بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کی دفاعی صنعت کی ساکھ میں بھی اضافہ کرے گی۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کی کامیاب نمائش کے بعد دوست ممالک کو اس قسم کے سسٹمز کی برآمد (Export) کے نئے مواقع بھی پیدا ہو سکتے ہیں، جس سے ملکی معیشت کو قیمتی مبادلہ حاصل ہو سکتا ہے۔

پاکستان کی جانب سے D-248 خودکش ڈرون کی تیاری اس بات کا واضح پیغام ہے کہ ملک اپنی حدود اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے تکنیکی برتری اور خود انحصاری کے سفر کو ہر قیمت پر جاری رکھے گا۔

About The Author

Hina Khan

By حنا خان

حنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔

Glimpse of Cricket بشیر بلور پشاور جلسہ Ambani showing Vantra to Messi Pakistan U-19 The Asian Champion Jobs 14 Dec 2025