سرپرائز وزٹ: مشیر خزانہ خیبر پختونخوا مزمل اسلم نے ‘گڈ گورننس روڈ میپ’ پر عملدرآمد کے معائنے کے لیے اعلیٰ حکام کے ہمراہ ٹریژری آفس پشاور کا اچانک دورہ کیا۔شفافیت اور ڈیجیٹلائزیشن: مالیاتی امور میں مکمل شفافیت کے قیام، ڈیجیٹل ادائیگی کے نظام کو فروغ دینے اور بدعنوان عناصر کے خلاف ’زیرو ٹالرنس پالیسی‘ پر سخت عملدرآمد کی ہدایت کی گئی۔عوامی مسائل کا ازالہ: عوامی شکایات کے فوری حل کے لیے ایک جامع اور مؤثر کمپلینٹ ریڈریسل سسٹم کو ہمہ وقت فعال رکھنے پر زور دیا گیا۔اصلاحات کا پس منظر: اس دورے کو صوبائی حکومت کے اس وسیع تر منصوبے کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے جس کا مقصد مالیاتی نظم و نسق کو جدید ترین تقاضوں سے ہم آہنگ بنانا ہے۔پشاور (اسپیشل رپورٹ) — صوبہ خیبر پختونخوا میں گڈ گورننس کے قیام، مالیاتی نظم و نسق میں شفافیت اور عوامی اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات کا سلسلہ جاری ہے۔ اس سلسلے کی ایک اہم کڑی کے طور پر مشیر خزانہ خیبر پختونخوا مزمل اسلم نے صوبائی حکومت کے ’’گڈ گورننس روڈ میپ‘‘ پر پیشرفت کا بلاواسطہ جائزہ لینے کے لیے ٹریژری آفس پشاور کا سرپرائز وزٹ کیا۔اس اہم معائنے کے موقع پر ان کے ہمراہ سپیشل سیکرٹری فنانس زبیر احمد، کنسلٹنٹ فنانس وقاص پراچہ اور سیکشن آفیسر ذیشان خان سمیت محکمہ خزانہ کے دیگر سینئر حکام بھی موجود تھے۔ اس اچانک دورے کا بنیادی مقصد ٹریژری آفس کی یومیہ سرگرمیوں، دفتری نظم و ضبط، اور عام شہریوں و سرکاری ملازمین کو فراہم کی جانے والی خدمات کا ازخود جائزہ لینا تھا۔ٹریژری آفس کی سرگرمیوں پر تفصیلی بریفنگدورے کے آغاز میں ٹریژری آفیسر پشاور ڈاکٹر یعقوب احمد نے مشیر خزانہ اور ان کے وفد کو دفتر کی اہم سرگرمیوں، انتظامی امور اور عوام و تمام متعلقہ شعبہ جات کو فراہم کی جانے والی مختلف سروسز کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ڈاکٹر یعقوب احمد نے مشیر خزانہ کو بتایا کہ ٹریژری آفس پشاور نہ صرف سرکاری ادائیگیاں اور بلز کی اسکرُوٹنی انجام دیتا ہے بلکہ پنشنرز، سرکاری ملازمین کی مالیاتی دستاویزات اور مختلف صوبائی ترقیاتی فنڈز کے شفاف اجراء کے عمل کو بھی سنبھالتا ہے۔ بریفنگ کے بعد مشیر خزانہ نے ٹریژری آفس کے مختلف انتظامی اور آپریشنل شعبہ جات، کاؤنٹرز اور ریکارڈ رومز کا تفصیلی معائنہ کیا، جہاں انہوں نے موقع پر موجود سائلین اور دفتری عملے سے ان کے درپیش مسائل کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا۔دورے کے اہم پہلو اور جاری ہدایاتمعائنے کے دوران مشیر خزانہ مزمل اسلم نے دفتری امور کو مزید مؤثر اور شفاف بنانے کے لیے متعدد اہم نکات پر زور دیا۔ ان اہم نکات کا خاکہ درج ذیل ہے:شعبہ / حد بندیجاری کردہ ہدایاتمالیاتی شفافیتتمام ادائیگیاں اور حساب کتاب کو کرپشن سے پاک اور شفاف بناناڈیجیٹل ادائیگیدستی لین دین کا خاتمہ اور ای-پیمنٹ و ڈیجیٹلائزیشن کا فروغاحتساب کا نظامبدعنوانی اور تاخیری حربوں کے خلاف ‘زیرو ٹالرنس پالیسی’شکایات کا ازالہعوامی شکایات کے فوری تدارک کے لیے مؤثر کمپلینٹ ریڈریسل سسٹم کا قیامسروس ڈلیوریعام شہریوں اور پینشنرز کو دفتری چکروں اور زحمت سے بچاناڈیجیٹلائزیشن اور ای-پیمنٹ سسٹم پر خصوصی زورمعائنے کے دوران اپنے خطاب اور حکام کو ہدایات دیتے ہوئے مشیر خزانہ مزمل اسلم نے اس بات پر زور دیا کہ دورِ حاضر کا مالیاتی نظام ڈیجیٹل وسائل کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ٹریژری آفس جیسے حساس اور اہم ترین ادارے میں دستی کام کاج (Manual Processing) نہ صرف تاخیر کا سبب بنتا ہے بلکہ اس سے بدعنوانی کے امکانات بھی جنم لیتے ہیں۔انہوں نے ہدایت کی کہ خیبر پختونخوا کے مالیاتی ڈھانچے کو جدید تقاضوں پر استوار کرنے کے لیے ڈیجیٹل پیمنٹ سسٹم کی فوری توسیع کو یقینی بنایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ای-گورننس اور آن لائن مالیاتی ادائیگی کے نظام سے نہ صرف کاغذ کے استعمال میں کمی آئے گی بلکہ دفتری کام کی رفتار کئی گنا تیز ہو جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ڈیجیٹلائزیہشن کا فروغ صوبائی حکومت کا ایک اہم سنگِ میل ہے تاکہ رقم کی منتقلی اور ادائیگیاں ایک کلک پر ممکن ہو سکیں۔کرپشن پر زیرو ٹالرنس اور عوامی شکایات کا فوری ازالہمالیاتی نظم و نسق کو بدعنوانی سے پاک کرنے کی عزم کا اعادہ کرتے ہوئے مشیر خزانہ نے واضح کیا کہ صوبائی حکومت کرپشن، اقربا پروری اور انتظامی سستی کے خلاف ‘زیرو ٹالرنس پالیسی’ پر سختی سے عمل پیرا ہے۔مزمل اسلم نے تمام افسران کو تنبیہ کی کہ عام شہریوں، پینشنرز، اور سرکاری ملازمین کے مالیاتی کیسز میں بلاجواز تاخیر یا رکاوٹ ڈالنے والے عملے کے خلاف سخت ترین قانونی اور ڈسپلنری کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ٹریژری آفس میں ایک خود مختار اور فعال کمپلینٹ ریڈریسل سسٹم (Complaint Redressal System) کو ہر صورت قائم اور اپ ڈیٹ رکھا جائے، تاکہ سائلین اپنے مسائل بلا خوف و خطر اور بغیر کسی درمیانی شخص کے حکام بالا تک پہنچا سکیں۔پس منظر اور تجزیہ: خیبر پختونخوا کا ‘گڈ گورننس روڈ میپ’خیبر پختونخوا حکومت کا ‘گڈ گورننس روڈ میپ’ صوبے میں ادارہ جاتی اصلاحات اور عوامی اداروں کی ازسرنو تنظیم کا ایک جامع ڈرافٹ ہے۔اصلاحاتی پس منظر: صوبے میں اکثر مالیاتی اداروں پر سست روی اور پرانے دفتری طریقہ کار پر عمل پیرا ہونے کا الزام عائد کیا جاتا رہا ہے۔ ٹریژری آفس جیسے محکموں میں پینشنرز اور ٹھیکیداروں کو ادائیگیوں میں تاخیر کا سامنا رہتا ہے۔عملی معائنے کے اثرات: صوبائی مشیر خزانہ کے اچانک دوروں سے دفتری عملے میں تحرک پیدا ہوتا ہے اور فائلوں کی بلاجواز رکاوٹ ختم ہونے میں مدد ملتی ہے۔ادارہ جاتی شفافیت: اعلیٰ حکام کے فیلڈ اور نچلی سطح کے دفاتر کے معائنے سے نہ صرف بدعنوانی کا خاتمہ ممکن ہوتا ہے بلکہ عوامی اعتماد کی بحالی میں بھی مدد ملتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی بنیادی ذمہ داری یہ ہے کہ عوام کا ٹیکس کا پیسہ شفاف انداز میں اور بلا تاخیر انہی پر خرچ ہو۔ ٹریژری آفس میں کی جانے والی اصلاحات سے پورے مالیاتی ڈھانچے میں واضح اور مثبت تبدیلی دیکھنے کو ملے گی۔مستقبل کے اثرات اور توقعاتمشیر خزانہ مزمل اسلم کے اس دورے کے بعد یہ توقع کی جا رہی ہے کہ ٹریژری آفس پشاور سمیت صوبے کے دیگر تمام اضلاع کے ٹریژری دفاتر میں کام کی رفتار اور معیار میں واضح بہتری آئے گی۔ ای-پیمنٹ کے نظام کی منتقلی سے شہریوں اور سرکاری ملازمین کو درپیش مشکلات میں نمایاں کمی واقع ہوگی۔صوبائی حکومت کی جانب سے ‘گڈ گورننس روڈ میپ’ کے تحت آئندہ دنوں میں مزید سرکاری دفاتر کے سرپرائز وزٹس اور مالیاتی اصلاحات کی مانیٹرنگ کے عمل کو مزید تیز کیے جانے کا امکان ہے تا کہ عوامی ریلیف کو یقینی بنایا جا سکے۔About The Author حنا خانحنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ See author's posts Post navigationسندھ پولیس کے 33 زیر تربیت ڈی ایس پیز کا سینٹرل پولیس آفس پشاور کا مطالعاتی دورہ: خیبر پختونخوا پولیس کے اینٹی ٹیررازم ماڈل، سیف سٹی اور جدید ٹیکنالوجی پر تفصیلی بریفنگ