چند دن قبل عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر ایمل ولی خان نے باچا خان مرکز کے ایک نئے میڈیا پلیٹ فارم”فیکٹس آر فیکٹس” کے آغاز کا اعلان کیا۔ اس کا ڈائریکٹر اور چیئرمین زلاند مومند کو بنایا گیا۔ یاد رہے کہ زلاند مومند ایک مشہور قادیانی خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔ زلاند مومند کے دادا صاحبزادہ سیف الرحمن خود قادیان گئے تھے اور وہاں مرزا حکیم نورالدین کے ہاتھ پر قادیانیت قبول کی تھی۔ پھر یہی صاحبزادہ سیف الرحمن واپس آ کر پشاور کے بازید خیل بڈھ بیر پشاور کے علاقے کو قادیانیت کا مرکز بنانے میں سرگرم رہے، مضبوط مبلغِ قادیانیت تھے۔ انہی صاحبزادہ گان خاندان کی وجہ سے ان علاقوں میں قادیانیت پھیل گئی، بازید خیل میں ابھی تک انہی لوگوں کی تبلیغ کے اثرات موجود ہیں۔ اس بات کا اقرار “صوبہ سرحد میں احمدیت کا نفوذ” نامی کتاب میں بھی موجود ہے، تصاویر نیچے لف ہے۔اس صاحبزادہ سیف الرحمن کا ایک بیٹا تھا، صاحبزادہ حبیب الرحمن، جو قلندر مومند کے نام سے مشہور ہے اور پشتو زبان و ادب میں اس کے چاہنے والے اب بھی موجود ہیں۔ پشتو زبان و ادب کے شعراء اور صحافیوں کا اس پر اتفاق ہے کہ قلندر مومند پکا ٹکا قادیانی تھا اور مختلف مواقع پر اس نے خود بھی اس کا اقرار کیا تھا۔ نیچے تصاویر میں اسی قلندر مومند کے ایک انٹرویو کا حصہ موجود ہے، جس میں وہ خود اقرار کر رہا ہے۔ قلندر مومند بھی مبلغِ قادیانیت تھا۔ اس بات کا اقرار خود قادیانی تاریخ دانوں نے کیا ہے کہ اس نے قلم کے ذریعے قادیانیت کی بڑی خدمت کی تھی۔ نیچے تصویر لف ہے۔کچھ عرصہ قبل پی ٹی وی میں جب اس قلندر مومند قادیانی کی تصویر لگائی گئی تو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اور پی ٹی وی کے امام و خطیب مولانا قاری ولی اللہ صاحب کی کوششوں سے وہ تصویر اتاری بھی گئی تھی۔ اس وقت بھی ایمل ولی خان نے اس تصویر کے ہٹانے پر احتجاج کیا تھا۔ ذیل میں تصویر موجود ہے۔اسی قلندر مومند قادیانی کا بیٹا یہ زلاند مومند ہے، جسے اب ایمل ولی خان نے اس نئے میڈیا پراجیکٹ کا سربراہ مقرر کیا ہے۔Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!مجھے افسوس اس بات پر ہے کہ قادیانی ہمیشہ تبلیغی ذہنیت رکھتے ہیں اور جب کسی قادیانی کا تعلق ایک ایسے خاندان سے ہو جو نسل در نسل مبلغ ہی رہا ہو تو پھر اس کے نتائج کیا نکلیں گے؟ اور اگر آپ کسی مبلغِ قادیانیت کو ایک ایسے ادارے میں جگہ دے دیں جس کا تعلق میڈیا سے بھی ہو اور پشتون بیلٹ میں بھی اس سیاسی مرکز کا اثر و رسوخ ہو، تو سوچتے ہی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں کہ یہ قادیانی مبلغ میڈیا کے راستے اس باچا خان مرکز کو استعمال کرتے ہوئے قادیانیت کے لئے کیا کیا تبلیغی کام کر سکتا ہے۔ابھی تو صرف پشتو زبان و ادب کے شعراء، ادیب اور صحافی حضرات کے درمیان اس موضوع پر گزشتہ کئی دنوں سے بات چل رہی ہے، لیکن عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اور جمعیۃ علماء اسلام کے ذمہ داران سے بھی درخواست ہے کہ اگر ممکن ہو سکے تو ایمل ولی خان کے ساتھ اس معاملے میں رابطہ کریں تاکہ وہ یہ تقرری واپس لے لیں۔ایمل ولی خان صاحب سے بھی دست بستہ درخواست ہے کہ خدارا! آپ کے دادا خان عبدالولی خان ہی کے دستخط کے ساتھ پارلیمنٹ میں قادیانیوں کو کافر قرار دیا گیا تھا۔ انگریز کا یہ خود کاشتہ پودا نہ اسلام کا وفادار ہے، نہ پاکستان کا وفادار ہے اور نہ ہی پختونوں کا وفادار ہے۔درخواست: اگر ممکن ہو سکے تو آپ یہ پیغام آگے فارورڈ کیجیے۔تفصیلی فیسبک پوسٹ مع تصاویر 👇🏻https://www.facebook.com/share/p/1FPgYAGVp1/✍️ #ایملصابرشاہAbout The Author حنا خانحنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ See author's posts Post navigationبالی وڈ میں نیا تنازع: رنویر سنگھ کی کامیابیوں سے خوفزدہ عناصر؟ رام گوپال ورما کا پر پابندی کا مطالبہ، ‘ڈان 3’ تنازع پر سنگین الزامات