House collapsed in swabi
  • ضلع صوابی کے علاقے ٹوپی آزاد خیل میں رہائشی مکان کی بوسیدہ چھت اچانک زمین بوس ہو گئی۔
  • حادثے کے نتیجے میں ملبے تلے دب کر باپ اور کمسن بیٹی موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔
  • ریسکیو 1122 کی ٹیموں نے بروقت امدادی کارروائی کرتے ہوئے ملبے سے چار افراد کو نکالا۔
  • شدید زخمی ماں اور بیٹے کو ابتدائی طبی امداد کے بعد ٹوپی ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔

ضلع صوابی کی تحصیل ٹوپی کے علاقے آزاد خیل میں ایک انتہائی افسوسناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا ہے، جہاں ایک غریب خاندان کے رہائشی مکان کی چھت اچانک گرنے سے باپ اور بیٹی جان کی بازی ہار گئے، جبکہ ماں اور کمسن بیٹا شدید زخمی ہو گئے۔ اس اچانک افتاد نے پورے علاقے کو غم و اندوہ کی لہر میں ڈبو دیا ہے اور مقامی افراد میں شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

واقعات کی تفصیلی صورتحال اور ریسکیو آپریشن

تفصیلات کے مطابق حادثہ اس وقت پیش آیا جب گھر کے تمام افراد کمرے میں موجود تھے۔ اچانک مکان کی چھت دھماکے سے نیچے آ گری، جس کے نتیجے میں اندر موجود تمام افراد ملبے تلے دب گئے۔ حادثے کی آواز اتنی شدید تھی کہ ارد گرد کے رہائشی خوفزدہ ہو کر گھروں سے باہر نکل آئے اور فوری طور پر امدادی کارروائیوں کے لیے حادثے کی جگہ کی طرف بھاگے۔

مقامی لوگوں نے فوری طور پر ایمرجنسی سروس ریسکیو 1122 صوابی کو اطلاع دی۔ اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کی ڈیزاسٹر اور میڈیکل ٹیمیں تمام ضروری آلات اور ائمبولینسز کے ساتھ منٹوں میں موقع پر پہنچ گئیں۔ ریسکیو اہلکاروں نے مقامی افراد کی مدد سے ملبہ ہٹانے کا کام شروع کیا اور انتہائی مہارت کے ساتھ ملبے تلے دبے افراد کو باہر نکالنا شروع کیا۔

جانی نقصان اور زخمیوں کی صورتحال

ریسکیو حکام کے مطابق ملبے کے نیچے سے کل چار افراد کو نکالا گیا۔ بدقسمتی سے، گھر کا سربراہ (باپ) اور اس کی کمسن بیٹی موقع پر ہی دم توڑ چکے تھے، کیونکہ ان پر چھت کا بھاری حصہ آ گرا تھا۔ تاہم، ریسکیو اہلکاروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ماں اور بیٹے کو زندہ نکال لیا، لیکن ان کی حالت انتہائی تشویشناک تھی۔

حادثے کے متاثرین کی تفصیل:

  • جاں بحق افراد: باپ اور بیٹی (موقع پر ہی جاں بحق)۔
  • شدید زخمی افراد: ماں اور بیٹا (سر اور جسم کے مختلف حصوں پر شدید چوٹیں)۔
  • امدادی ٹیم: ریسکیو 1122 صوابی کی میڈیکل و ڈیزاسٹر ٹیمیں۔
  • طبی امداد: موقع پر ابتدائی طبی امداد کے بعد فوری طور پر ٹوپی ہسپتال منتقل۔

ریسکیو 1122 کی میڈیکل ٹیم نے موقع پر ہی زخمیوں کو خون کا بہاؤ روکنے اور سانس کی بحالی کے لیے ابتدائی طبی امداد (First Aid) فراہم کی، جس کے بعد انہیں فوری طور پر ٹوپی ہسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں ان کا علاج جاری ہے اور ڈاکٹروں کے مطابق ان کی حالت کو مستحکم بنانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

حادثے کا پس منظر اور بوسیدہ مکانات کا مسئلہ

خیبر پختونخوا کے دیہی علاقوں اور خاص طور پر صوابی، ٹوپی اور ارد گرد کے دیہاتوں میں پکے مکانات کے ساتھ ساتھ مٹی، گارے اور لکڑی کے شہتیروں سے بنی چھتوں کا استعمال اب بھی عام ہے۔ بارشوں کے موسم کے بعد یا مسلسل نمی کی وجہ سے ان پرانی چھتوں کی لکڑیاں اور شہتیر کمزور ہو جاتے ہیں، جس کے باعث ایسے واقعات اکثر پیش آتے ہیں۔

مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ مکان کی چھت بھی کافی پرانی تھی اور حالیہ موسماتی تبدیلیوں یا نمی کے باعث ساخت کے لحاظ سے انتہائی کمزور ہو چکی تھی۔ غریب اور متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے معاشی مشکلات کے باعث اپنے پرانے مکانات کی بروقت مرمت یا ری نوویشن کروانا ناممکن ہو جاتا ہے، جو آخر کار اس طرح کے ہولناک حادثات کا سبب بنتا ہے۔

علاقے میں غم کی لہر اور مقامی انتظامیہ کا ردعمل

واقعے کی خبر پھیلتے ہی علاقے میں فضا سوگوار ہو گئی۔ ٹوپی اور آزاد خیل کے شہریوں کی بڑی تعداد حادثے کے مقام اور ہسپتال پہنچ گئی تاکہ متاثرہ خاندان سے تعزیت اور مدد کر سکے۔ مقامی سماجی اور سیاسی شخصیات نے اس المناک حادثے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

مقامی شہریوں نے حکومت اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ متاثرہ خاندان کی مالی امداد کی جائے اور زخمیوں کے علاج معالجے کے تمام اخراجات سرکاری سطح پر برداش کیے جائیں۔ اس کے علاوہ، شہریوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ضلعی انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ دیہی علاقوں میں بوسیدہ اور خطرناک مکانات کی نشاندہی کے لیے اقدامات کرے تاکہ آئندہ ایسے قیمتوں جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔

احتیاطی تدابیر کی ضرورت

طبی و ریسکیو ماہرین کا کہنا ہے کہ برسات کے بعد یا پرانے مکانات کی چھتوں کی باقاعدگی سے دیکھ بھال انتہائی ضروری ہے۔ جن مکانات کی چھتیں مٹی اور لکڑی سے بنی ہیں، ان پر اضافی بوجھ ڈالنے سے گریز کیا جائے اور دراڑیں پڑنے کی صورت میں فوری طور پر ان کی مرمت کی جائے تاکہ اس قسم کے ناگہانی واقعات سے بچا جا سکے۔

فی الوقت پولیس اور مقامی انتظامیہ نے واقعے کی رپورٹ درج کر کے مزید ضروری قانونی کاوائی شروع کر دی ہے، جبکہ ریسکیو 1122 کی ٹیموں نے موقع کو مکمل طور پر کلیئر کر کے حادثے کے مقام کو محفوظ بنا دیا ہے۔

About The Author

Hina Khan

By حنا خان

حنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔

Glimpse of Cricket بشیر بلور پشاور جلسہ Ambani showing Vantra to Messi Pakistan U-19 The Asian Champion Jobs 14 Dec 2025