Jui workers convention in peshawar
  • جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے امیر مولانا فضل الرحمان نے پشاور میں ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے حالیہ عسکری قانون سازی کو آئین سے متصادم قرار دیا۔
  • انہوں نے وزیر اعظم کے انتظامی اختیارات ایک شخص میں مرکوز کرنے اور پارلیمنٹ کو بائی پاس کرنے پر سخت تحفظات کا اظہار کیا۔
  • اپوزیشن جماعتوں کو ایک پیج پر لانے اور مشترکہ پارلیمانی حکمتِ عملی بنانے کے لیے اپوزیشن لیڈر سے ملاقات کی تصدیق کی۔
  • حکومتی و عسکری امور میں سختی کے بجائے مشاورت اور اعتدال کو اسلامی اصولوں کے عین مطابق قرار دیا۔

تعارف اور پس منظر

پشاور میں جمعیت علمائے اسلام کے زیراہتمام منعقدہ ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی کے امیر مولانا فضل الرحمان نے ملکی سیاسی منظر نامے، پارلیمانی کارروائی اور عسکری اداروں کے انتظامی ڈھانچے میں حالیہ قانون سازی پر کھل کر گفتگو کی۔ ان کا یہ خطاب ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں سیاسی جماعتیں اور پارلیمنٹ مختلف آئینی و قانونی تبدیلیوں کے اثرات کا جائزہ لے رہی ہیں۔ مولانا فضل الرحمان کا شمار پاکستان کے ان تجربہ کار سیاستدانوں میں ہوتا ہے جو ملکی پارلیمانی تاریخ، قانون سازی کے نکتہ ہائے نظر اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ ان کے اس تازہ بیان نے ایک بار پھر ملک کے سیاسی اور قانونی حلقوں میں نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔

حالیہ قانون سازی اور آئینی تضادات پر تحفظات

کنونشن سے خطاب کے دوران مولانا فضل الرحمان نے حال ہی میں پارلیمنٹ سے منظور ہونے والی قانون سازی پر شدید تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ قانون سازی کا یہ عمل انتہائی تیزی کے ساتھ مکمل کیا گیا جس کے نتیجے میں حزب اختلاف کی جماعتیں بھی اس کے مضمرات کا باریک بینی سے جائزہ نہ لے سکیں۔

مولانا نے نشاندہی کی کہ نئے قوانین کے تحت تینوں مسلح افواج (بری، فضائیہ اور بحریہ) کے حوالے سے وزیر اعظم کے تمام انتظامی اختیارات ایک ہی شخص میں مرکوز کر دیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق یہ قانون تمام پچھلے قوانین پر بالاتر قرار دیا گیا ہے جبکہ پرانی متضاد دفعات کو باضابطہ طور پر غیر مؤثر یا منسوخ نہیں کیا گیا، جو کہ ایک واضح قانونی تضاد ہے۔ انہوں نے سابقہ دور کی مثال دیتے ہوئے یاد دلایا کہ ماضی میں بھی جب شریعت اور آئین کی بالادستی پر بحث ہوئی تو اعلیٰ عدلیہ نے واضح کیا تھا کہ آئین کی تمام دفعات برابر ہیں اور کوئی ایک دفعہ دوسری پر بالادست نہیں ہو سکتی۔

انتظامی اختیارات کا ارتکاز اور پارلیمنٹ کا کردار

مولانا فضل الرحمان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اداروں کے اندر انتظامی تبدیلیاں لانے سے کسی کو اختلاف نہیں ہونا چاہیے، خواہ وہ آرمی چیف ہوں، چیف آف ڈیفنس فورسز ہوں یا فیلڈ مارشل، لیکن وہ اختیارات جو پارلیمنٹ کے دائرہ اختیار میں ہونے چاہئیں، انہیں ایک فرد کے سپرد نہیں کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ افواج کی کمان اور کنٹرول ماضی میں وفاقی حکومت کے پاس ہوا کرتا تھا، لیکن اب لگتا ہے کہ حکومت نے اپنے یہ اختیارات مقتدرہ کے حوالے کر دیے ہیں۔ اس کے علاوہ مستقبل میں کسی بھی قانون سازی کے لیے بھی وفاقی حکومت کو اختیار دینے کا مطلب پارلیمنٹ کے کردار کو کمزور کرنا ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ حکومت کو اپنے راستے پر لانے اور دباؤ میں رکھنے کے لیے اس نوعیت کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

اپوزیشن کا اتحاد اور مشترکہ پارلیمانی حکمتِ عملی

ملکی اپوزیشن کی موجودہ صورتحال پر بات کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے اعتراف کیا کہ اپوزیشن بینچوں پر بیٹھنے والی جماعتوں میں شروع سے کوئی باضابطہ اتحاد نہیں ہوتا، بلکہ انہیں ‘مشترکات’ کی بنیاد پر اکٹھا کرنا اپوزیشن لیڈر کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پارلیمنٹ کے اندر اپوزیشن کے فقدان اور بکھرے ہوئے کردار کے نقصانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے قائدِ اپوزیشن کے دفتر کا دورہ کیا اور ایک مشترکہ حکمتِ عملی کی تجویز پیش کی۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر اپوزیشن جماعتیں اسمبلی کے اندر متحد ہو کر آواز نہیں اٹھائیں گی تو حکومت اور متعلقہ ادارے اسی طرح یکطرفہ قانون سازی کرتے رہیں گے۔ ان کے بقول، واک آؤٹ یا بائیکاٹ اپنی جگہ، لیکن پارلیمنٹ کے اندر ایک مربوط نظام کا ہونا ناگزیر ہے تاکہ حکومت کو مجبور کیا جا سکے کہ وہ اپوزیشن کی بات سنے۔

سیاسی رویے، اعتدال اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں رہنمائی

حکومتی اور ریاستی طرزِ حکمرانی پر تبصرہ کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے ‘ہارڈ اسٹیٹ’ یا سختی پر مبنی نظام کے تصور کو مسترد کیا۔ انہوں نے اسلامی اصولوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسلام میں سیاست اور حکومت کا بنیادی اصول سختی اور نرمی کے درمیان توازن قائم کرنا ہے جسے ‘التعامل بین اللطف والعنف’ کہا جاتا ہے۔ بالکل سخت نظام سے معاشرے میں گھٹن پیدا ہوتی ہے جبکہ حد سے زیادہ نرمی نظام کو درہم برہم کر دیتی ہے۔

اپنے خطاب کے آخر میں انہوں نے عسکری قیادت کو مخاطب کرتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سیرتِ طیبہ اور غزوۂ احد کے مشاورتی عمل کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ جب پیغمبرِ اسلام نے اپنی ذاتی رائے کے برعکس اکثریت کی رائے کا احترام کیا اور بعد میں پیش آنے والے نقصانات کے باوجود اللہ تعالیٰ نے قرآنی آیات (سورۃ آل عمران کی آیت 159) کے ذریعے نرمی اور باہمی مشورے (شوریٰ) کا حکم دیا، تو موجودہ دور کے حکمرانوں اور طاقتور حلقوں کو بھی طاقت کے بل بوتے پر فیصلے کرنے کے بجائے رویوں میں نرمی اور مشاورت کا راستہ اپنانا چاہیے۔ مغرب آج جس اعتدال پسندی کی بات کرتا ہے، اس کی بنیاد دراصل چودہ سو سال پہلے اسلام نے فراہم کی تھی۔

About The Author

Hina Khan

By حنا خان

حنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔

Glimpse of Cricket بشیر بلور پشاور جلسہ Ambani showing Vantra to Messi Pakistan U-19 The Asian Champion Jobs 14 Dec 2025