بحران کی بنیادی وجہ: خیبر پختونخوا کا محکمہ بلدیات کیپٹل و تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشنز (TMAs) کو “پرسنل لیجر اکاؤنٹ” (PLA) کے فرسودہ نظام سے نکال کر مستقل اکاؤنٹنگ سسٹم دینے میں مسلسل ناکام ہے۔ملازمین و پنشنرز کی مشکلات: تنخواہوں اور پنشن کی مہینوں عدم ادائیگی کے باعث مسلم و اقلیتی ملازمین عیدین اور ایسٹر جیسے مذہبی تہواروں پر بھی فاقہ کشی پر مجبور ہیں۔فیڈریشن کا مطالبہ: لوکل گورنمنٹ ایمپلائز فیڈریشن نے وزیراعلیٰ، وزیر بلدیات اور مشیر خزانہ سے پرسنل لیجر اکاؤنٹ فوری ختم کر کے “اکاؤنٹ فور” (Account IV) میں منتقل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔احتجاج کی دھمکی: مطالبات منظور نہ ہونے کی صورت میں بلدیاتی فیڈریشن کی جانب سے صوبائی سطح پر سخت لائحہ عمل اور احتجاج کی انتباہی تنبیہ۔پشاور (خصوصی رپورٹ): خیبر پختونخوا کے بلدیاتی اداروں میں مالیاتی انتظامیہ کی عدم توجہی اور فرسودہ نظام کے باعث ایک شدید نوعیت کا انسانی و مالی بحران جنم لے چکا ہے۔ صوبائی محکمہ بلدیات کی جانب سے تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشنز (TMAs) کے لیے جدید اور مستقل اکاؤنٹنگ سسٹم متعارف کرانے میں مسلسل ناکامی نے ہزاروں بلدیاتی ملازمین، پنشنرز اور ان کے اہل خانہ کو معاشی بدحالی کی دلدل میں دھکیل دیا ہے۔استعمار کے دور کا متروکہ “پرسنل لیجر اکاؤنٹ” (PLA) نظام صوبائی حکومت اور مقامی حکومتوں کے انتظامی ڈھانچے کے لیے گلے کی ہڈی بن چکا ہے۔ گزشتہ چار سے پانچ سالوں سے اس عارضی اور مصنوعی نظام پر مصنوعی توسیع دے کر ادارے چلانے کی ناکام کوششیں کی جا رہی ہیں، جس کے نتیجے میں ملازمین کو مسلسل کئی کئی ماہ تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگی معطل رہتی ہے۔فرسودہ ‘پرسنل لیجر اکاؤنٹ’ اور ملازمین کا معاشی استحصالبلدیاتی نظام میں “پرسنل لیجر اکاؤنٹ” کی موجودگی کو ماہرینِ مالیات انتظامی عدم شفافیت اور سست روی کی بڑی وجہ قرار دیتے ہیں۔ یہ نظام نہ صرف رقوم کی بروقت منتقلی میں رکاوٹ بنتا ہے بلکہ اس میں بار بار پیدا ہونے والی تکنیکی و قانونی پابندیوں کی وجہ سے ہر دو تین ماہ بعد توسیع کی منظوری لینا پڑتی ہے۔اس انتظامی بیوروکریٹک طریقہ کار کا براہِ راست خمیازہ ان غریب ملازمین اور پنشنرز کو بھگتنا پڑ رہا ہے جو روزمرہ کی زندگی گزر بسر کرنے کے لیے صرف اپنی ماہانہ آمدن پر انحصار کرتے ہیں۔حالات کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ:تہواروں کی خوشیاں ماند: مسلم ملازمین رمضان المبارک اور عیدین کے مواقع پر جب کہ مسیحی ملازمین ایسٹر اور کرسمس کے مذہبی تہواروں کے دوران بھی تنخواہوں سے محروم رہتے ہیں۔بچوں کی تعلیم اور صحت کی تباھی: کئی ماہ سے تنخواہیں نہ ملنے سے ملازمین کے بچے اسکولوں کی فیسیں ادا نہ کرنے کی وجہ سے تعلیم چھوڑنے اور معاشی تنگی کی وجہ سے فاقہ کشی پر مجبور ہو چکے ہیں۔فرائض کی انجام دہی: اس تمام تر معاشی استحصال کے باوجود بلدیاتی ملازمین صفائی ستھرائی اور دیگر بلدیاتی خدمات کی فراہمی کا اپنا فرض بلا تعطل ادا کر رہے ہیں۔لوکل گورنمنٹ ایمپلائز فیڈریشن کا مشترکہ اعلامیہصورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے لوکل گورنمنٹ ایمپلائز فیڈریشن (رجسٹرڈ) خیبر پختونخوا کے اعلیٰ عہدیداروں اور پاکستان ورکرز فیڈریشن کے مرکزی رہنماؤں نے ایک اہم و مشترکہ اجلاس کے بعد شدید ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔مشترکہ بیان جاری کرنے والے اہم نمائندگان میں شامل ہیں:شوکت کیانی (سرپرستِ اعلیٰ، لوکل گورنمنٹ ایمپلائز فیڈریشن)حاجی انور کمال مروت (صدر، لوکل گورنمنٹ ایمپلائز فیڈریشن)محبوب اللہ (چیئرمین، لوکل گورنمنٹ ایمپلائز فیڈریشن)سلیمان خان ہوتی (جنرل سیکریٹری، لوکل گورنمنٹ ایمپلائز فیڈریشن)شوکت علی انجم (مرکزی صدر، پاکستان ورکرز فیڈریشن)ان قائدین نے واضح کیا کہ حکومتی عدم توجہی اور طفل تسلیوں کی پالیسی نے اب ملازمین کے صبر کا پیمانہ لبریز کر دیا ہے۔صوبائی قیادت اور اعلیٰ حکام سے فوری مداخلت کا مطالبہبلدیاتی رہنماؤں نے مشترکہ بیان کے ذریعے خیبر پختونخوا کی اعلیٰ سیاسی و انتظامی قیادت کو اپیل کی ہے کہ وہ اس سنگین معاملے پر آنکھیں بند کرنے کی بجائے فوری اصلاحات نافذ کریں۔یہ مطالبہ درج ذیل اہم ذمہ داران کے گوش گزار کیا گیا ہے:وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا: محمد سہیل خان آفریدیوزیر بلدیات و دیہی ترقی: مینا خان آفریدیمشیرِ خزانہ وزیرِ اعلیٰ: مزمل اسلمچیف سیکریٹری خیبر پختونخوا: سید شہاب علی شاہایڈیشنل چیف سیکریٹری: عابد مجید خانسیکریٹری خزانہ: کپٹن (ریٹائرڈ) کامران احمدسیکریٹری قانون: اختر سعید ترکسیکریٹری بلدیات: ظفر الاسلام خٹکسیکریٹری لوکل کونسل بورڈ: وحید الرحمان خانملازمین کی قیادت کا بنادی مطالبہ ہے کہ پرسنل لیجر اکاؤنٹ کا خاتمہ کر کے بلدیاتی اداروں کو “اکاؤنٹ فور” (Account IV) پر فوری منتقل کیا جائے۔ یہی واحد طریقہ ہے جس کے ذریعے ملازمین کو براہِ راست اور شفاف طریقے سے ہر ماہ تنخواہوں اور پنشن کی بروقت ادائیگی ممکن بنائی جا سکتی ہے۔پس منظر، تجزیہ اور متوقع اثراتخیبر پختونخوا میں ٹی ایم ایز کی مالی حالت گزشتہ کئی برسوں سے ابتر چلی آ رہی ہے۔ ایک طرف تو بیشتر ٹی ایم ایز کی اپنی آمدن (Self-generated revenue) انتہائی کم ہے، دوسری طرف صوبائی این ایف سی / پی ایف سی ایوارڈز کے تحت ملنے والے فنڈز کی غیر منصفانہ اور تاخیر سے منتقلی نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔محکمہ خزانہ اور محکمہ بلدیات کے درمیان رابطہ کاری کے نقائص اور جدید مالیاتی ڈیٹا بیس کی عدم دستیابی کے باعث مالی حساب کتاب کا کوئی پائیدار حل تلاش نہیں کیا جا سکا۔ اگر صوبائی حکومت نے ملازمین کے جائز اور آئینی مطالبے “اکاؤنٹ فور” پر عمل درآمد نہ کیا تو اس کے نتائج نہ صرف انتظامی سطح پر بلکہ عوامی سطح پر بھی خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔احتجاج کا انتباہ: لوکل گورنمنٹ ایمپلائز فیڈریشن نے اپنے بیان کے اختتام پر واضح کیا ہے کہ اگر پرسنل لیجر اکاؤنٹ کو ختم کر کے مستقل مالیاتی نظام فراہم نہ کیا گیا، تو فیڈریشن صوبے بھر میں خدمات کی معطلی اور احتجاجی تحریک کا سخت لائحہ عمل طے کرنے پر مجبور ہو جائے گی۔ ایسی صورتحال میں صوبے کے تمام اضلاع میں صفائی اور دیگر بلدیاتی خدمات کی فراہمی تعطل کا شکار ہو سکتی ہے، جس کی تمام تر اخلاقی و قانونی ذمہ داری براہِ راست صوبائی حکومت اور محکمہ بلدیات پر عائد ہوگی۔About The Author حنا خانحنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ See author's posts Post navigationبین الاقوامی سیرت کانفرنس کے انعقاد اور حج انتظامات کا جائزہ، طاہر اشرفی کی وفاقی وزیر سردار محمد یوسف سے ملاقات پشاور میں پائپ لائن کی مرمت کے باعث گیس کی فراہمی عارضی طور پر معطل رہے گی: ایس این جی پی ایل کا نوٹس جاری