کڑا احتسابی عمل: اکتوبر 2025 سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف سرکاری محکموں میں 827 کیسز کا جائزہ لیا گیا، جن میں سے 629 کیسز کے حتمی فیصلے سنائے جا چکے ہیں۔سخت تادیبی کارروائیاں: 589 ملازمین کو جرائم ثابت ہونے پر سزائیں دی گئیں، 128 کو سروس سے فارغ، 18 کو ڈس مس فرام سروس اور 6 کو جبری ریٹائر کر دیا گیا، جبکہ 40 ملازمین بری ہوئے۔سب سے بڑا جرم غیر حاضری: کل کیسز میں سے 54 فیصد (447 کیسز) غیر مجاز غیر حاضری سے متعلق نکلے، جبکہ ڈیوٹی میں غفلت کے 120 اور کرپشن و مالی بے ضابطگیوں کے 75 کیسز سامنے آئے۔فیلڈ وزٹس کے اثرات: وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے سرپرائز وزٹس پر ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال صوابی کے 90 اور لکی مروت کے 61 ملازمین کے خلاف معطلی کی کارروائی کی گئی۔خیبرپختونخوا میں احتسابی کارروائیوں پر اعلیٰ سطحی بریفنگخیبرپختونخوا حکومت نے صوبائی انتظامیہ اور سرکاری محکموں میں شفافیت، میرٹ اور گڈ گورننس کو یقینی بنانے کے لیے ایک وسیع پیمانے پر احتسابی مہم کا آغاز کر رکھا ہے۔ اس سلسلے میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں سرکاری افسران اور اہلکاروں کے خلاف کی جانے والی تادیبی و احتسابی کارروائیوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس کے دوران پیش کی گئی بریفنگ کے مطابق اکتوبر 2025 سے اب تک صوبائی محکموں، منسلک اداروں اور ضلعی انتظامیہ میں کل 827 کیسز سامنے آئے، جن پر بلاتفریق کارروائی کی گئی ہے۔ وزیراعلیٰ کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ان 827 کیسز میں سے 629 کیسز کی تحقیقات مکمل کر کے ان پر حتمی فیصلے صادر کیے جا چکے ہیں، جبکہ باقی ماندہ 198 کیسز پر قانونی و انتظامی عمل تیزی سے جاری ہے۔فیصلہ شدہ کیسز کا احوال: 589 کو سزائیں، 128 سروس سے فارغبریفنگ میں فراہم کردہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، جن 629 کیسز کے فیصلے سنائے گئے ہیں ان میں سے 589 افسران و اہلکاروں پر جرائم ثابت ہونے پر مختلف نوعیت کی سزائیں تجویز اور نافذ کی گئی ہیں، جبکہ 40 ملازمین بے گناہ ثابت ہونے پر بری کر دیے گئے۔ سزاؤں کی نوعیت انتہائی سخت اور عبرت ناک رکھی گئی ہے تاکہ دیگر ملازمین کے لیے بھی یہ ایک انتباہ ثابت ہو۔سنگین مالی بے ضابطگیوں اور مسلسل غفلت کے مرتکب 128 ملازمین کو سروس سے فارغ کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ 18 ملازمین کو سخت ترین سزا دیتے ہوئے “ڈس مس فرام سروس” کیا گیا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ آئندہ کسی بھی سرکاری ملازمت کے اہل نہیں رہیں گے۔ جبکہ 6 ملازمین کو جبری ریٹائرمنٹ پر بھیج دیا گیا ہے۔ تادیبی اقدام کے تحت 2 ملازمین کی عہدے سے تنزلی (ڈیموشن) کی گئی، 1 ملازم کی گرفتاری عمل میں آئی، 89 ملازمین کی تنخواہوں سے مالی نقصان کی ریکوری کا حکم دیا گیا اور 39 ملازمین کی سالانہ ترقیاں روک دی گئیں۔تادیبی کارروائیوں کی تفصیلات (ڈیٹا چارٹ):تادیبی کارروائی کی نوعیتملازمین کی تعدادتفصیلی نوعیت / اثراتسزا یافتہ ملازمین589جرائم ثابت ہونے پر مختلف انتظامی سزائیںسروس سے فارغ (Terminated)128ملازمت کا حتمی خاتمہڈس مس فرام سروس (Dismissed)18سخت ترین سزا و آئندہ ملازمت پر پابندیجبری ریٹائرمنٹ6تادیبی بنیادوں پر سروس کا خاتمہتنخواہوں سے ریکوری89مالی بے ضابطگیوں کے نقصان کا ازالہترقی پر پابندی / روک39مستقبل کی پروموشن روک دی گئیوارننگ و سرزنش207155 کو وارننگ اور 52 کی سرزنش کی گئیبری ہونے والے ملازمین40الزامات ثابت نہ ہونے پر بریتسرکاری دفاتر میں غیر حاضری اور غفلت کے کیسز نمایاںبریفنگ کے دوران اس بات کی نشاندہی کی گئی کہ سرکاری ملازمین کے خلاف کی جانے والی تادیبی کارروائیوں میں سب سے بڑی وجہ غیر مجاز غیر حاضری (بلا اجازت چھٹی یا ڈیوٹی سے غائب رہنا) ہے۔ کل 827 کیسز میں سے 447 کیسز (یعنی 54 فیصد) صرف غیر مجاز غیر حاضری کے سامنے آئے ہیں۔ اس سے یہ حقیقت ظاہر ہوتی ہے کہ دفاتر اور فیلڈ ہسپتالوں میں عملے کی غیر حاضری سے عام شہریوں کو کس قدر مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔غیر حاضری کے علاوہ دیگر جرائم کی تفصیلات درج ذیل ہیں:ڈیوٹی میں غفلت: 120 کیسز رپورٹ ہوئے جہاں ملازمین نے سونپی گئی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں لاپرواہی برتی۔کرپشن و مالی بے ضابطگیاں: 75 کیسز درج کیے گئے جن میں رشوت ستانی، مالی خرد برد اور فنڈز کا غلط استعمال شامل ہے۔نااہلی (Incompetence): 75 کیسز پیشہ ورانہ نااہلی اور فرائض کی عدم ادائیگی کے پیدا ہوئے۔دیگر خلاف ورزیاں: بدسلوکی کے 14، ناقص نگرانی (Poor Supervision) کے 13 اور قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کے 11 کیسز پر کارروائی جاری ہے۔محکموں کی تقسیم اور ہسپتالوں پر ڈراپ ڈاؤن ایکشنمحکمہ جاتی تقسیم کے لحاظ سے دیکھا جائے تو سب سے زیادہ کیسز ضلعی دفاتر (District Offices) سے سامنے آئے جہاں سے 305 کیسز رپورٹ ہوئے۔ اس کے بعد منسلک محکموں اور ذیلی اداروں سے 263 کیسز جبکہ مرکزی صوبائی محکموں (Secretariat & Central Depts) سے 259 کیسز کا جائزہ لیا گیا۔صحت کے شعبے میں بہتری لانے کے لیے وزیراعلیٰ کے احکامات پر کیے گئے فیلڈ وزٹس کے نتائج بھی سامنے آئے ہیں۔ ضلع ہیڈکوارٹر ہسپتال صوابی کے سرپرائز وزٹ کے بعد وہاں کے 90 افسران و اہلکاروں کے خلاف غیر حاضری اور ناقص کارکردگی پر معطلی کی کارروائی کی گئی۔ اسی طرح ضلع ہیڈکوارٹر ہسپتال لکی مروت کے 61 افسران و اہلکاروں کے خلاف بھی فوری طور پر معطلی اور انکوائری کی کارروائی کا حکم دیا گیا۔“قائد عمران خان کے وژن کے مطابق خیبرپختونخوا میں احتساب سے کوئی بالاتر نہیں ہے۔ ہماری حکومت کی اولین ترجیح سرکاری نظام میں شفافیت، میرٹ اور گڈ گورننس کو بحال کرنا ہے۔ کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی ہے اور کرپٹ عناصر کے لیے خیبرپختونخوا میں کوئی جگہ نہیں ہے۔” — وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا، سہیل آفریدیقانونی کارروائی کے مختلف مراحل: شوکاز نوٹسز اور انکوائریاںحکومت کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ انتظامی کارروائیوں کو شفاف اور قانون کے مطابق رکھنے کے لیے آئینی مراحل کی پابندی کی گئی ہے۔ اب تک کیے گئے اقدامات میں:221 ملازمین کو شوکاز نوٹسز جاری کیے گئے۔279 کیسز میں تحریری وضاحت طلب کی گئی۔184 باقاعدہ انکوائریاں تشکیل دی گئیں۔102 ملازمین کو فوری طور پر معطل کیا گیا۔23 افراد کو باضابطہ ‘اظہار ناپسندیدگی’ (Expression of Displeasure) کا خط جاری کیا گیا۔9 سینئر افسران کو او ایس ڈی (OSD) بنا دیا گیا۔16 ملازمین کو چارج شیٹ، 14 کی تنخواہوں سے کٹوتی، 155 کو وارننگ اور 52 کی سرزنش کی گئی۔تجزیہ اور پس منظر: خیبرپختونخوا انتظامیہ پر اس کے اثراتصحافتی اور انتظامی ماہرین کے مطابق خیبرپختونخوا میں ایک ساتھ 800 سے زائد سرکاری ملازمین کے خلاف احتسابی اسکروٹنی چلانا اور نصف سے زائد کو سزائیں دینا ایک اہم انتظامی پیش رفت ہے۔ خیبرپختونخوا کے عوامی اداروں میں مسلسل غیر حاضری اور فنڈز کا نامناسب استعمال طویل عرصے سے ایک چیلنج بنا ہوا تھا۔ خصوصی طور پر دیہی اور دور دراز اضلاع جیسے لکی مروت اور صوابی کے ہسپتالوں میں ڈیوٹی سے غائب رہنے والے عملے کی وجہ سے عام شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا رہتا تھا۔وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت میں جاری یہ احتسابی مہم جہاں ایک طرف بدعنوان اور لاپرواہ ملازمین کے لیے تنبیہ کا باعث بنی ہے، وہیں دوسری طرف محنتی اور ایماندار ملازمین کا حوصلہ بڑھانے کا سبب بن رہی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر ان فیصلوں پر بلاتفریق اور تسلسل کے ساتھ عمل درآمد جاری رہا تو صوبے کے شعبہ ہائے زندگی بالخصوص صحت اور ضلعی انتظامیہ میں مثبت اور دور رس تبدیلیاں دیکھنے کو ملیں گی۔About The Author حنا خانحنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ See author's posts Post navigationمولانا فضل الرحمان کا پشاور ورکرز کنونشن سے خطاب: پارلیمنٹ، قانون سازی اور مقتدرہ کے کردار پر کڑے سوالات