Theater censorship
  • حکومتی اقدام: محکمہ اطلاعات و ثقافت پنجاب نے ڈراما ایکٹ کے تحت 8 معروف اسٹیج اداکاراؤں پر ایک ماہ کی پابندی عائد کر دی۔
  • عائد کردہ الزامات: اداکاراؤں پر تھیٹر ڈراموں کے دوران فحش ڈانس، نامناسب اشاروں اور طے شدہ اسکرپٹ سے انحراف کا الزام ہے۔
  • متاثرہ اداکارائیں: ماہی راجپوت، حنا شیخ، ملائکہ شہزادی، مدیحہ خان، مہک نور، مانو ملتانی، رائمہ مہر اور حسنہ جٹ شامل ہیں۔
  • مستقبل کی حکمت عملی: حکام کے مطابق تھیٹر سنسرشپ کمیٹی کو مزید فعال کر دیا گیا ہے اور خلاف ورزی پر permanent کینسلشن کی انتباہی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

لاہور: خبر کی تفصیلات اور بنیادی پس منظر

پنجاب کے روایتی اسٹیج تھیٹر میں غیر اخلاقی مواد اور ڈراما ایکٹ کی خلاف ورزیوں پر صوبائی حکومت نے سخت ایکشن لیتے ہوئے 8 معروف اسٹیج اداکاراؤں پر ایک ماہ کے لیے فنکارانہ سرگرمیوں پر پابندی عائد کر دی ہے۔ محکمہ اطلاعات و ثقافت پنجاب کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق یہ قدم تھیٹرز کی نگرانی کرنے والی سنسرشپ کمیٹی کی رپورٹ اور شائقین کی جانب سے موصول ہونے والی متعدد شکایت کے بعد اٹھایا گیا ہے۔

محکمے کی جانب سے جاری باضابطہ مراسلے کے مطابق جن اداکاراؤں کے خلاف ایکشن لیا گیا ہے، ان میں درج ذیل نام شامل ہیں:

  • ماہی راجپوت
  • حنا شیخ
  • ملائکہ شہزادی
  • مدیحہ خان
  • مہک نور
  • مانو ملتانی
  • رائمہ مہر
  • حسنہ جٹ

نوٹیفکیشن کے تحت یہ تمام اداکارائیں آئندہ 30 دنوں تک پنجاب بھر کے کسی بھی ہال، تھیٹر یا عوامی اسٹیج شو میں اپنی پرفارمنس پیش نہیں کر سکیں گی۔

ڈراما ایکٹ کی خلاف ورزی اور حکومتی مؤقف

محکمہ اطلاعات و ثقافت کے مطابق صوبے بھر کے تھیٹرز میں ثقافتی قدروں اور ڈراما کنٹرول ایکٹ کے پاسداری کو یقینی بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ ترجمان کے مطابق حالیہ دنوں میں مختلف اسٹیج ڈراموں کے دوران سنسر شدہ اسکرپٹ سے ہٹ کر براہ راست غیر اخلاقی حرکات اور بیہودہ ڈانس کی اطلاعات موصول ہو رہی تھیں۔

حکومتی ایکشن کی بنیادی وجوہات:

  1. اسکرپٹ سے انحراف: ڈراما کمیٹی سے منظور شدہ کہانی اور مکالموں کے برعکس غیر اخلاقی فی البدیہہ جملے بازی۔
  2. غیر اخلاقی حرکات: پرفارمنس کے دوران ناظرین کو متوجہ کرنے کے لیے نامناسب جسمانی اشارے۔
  3. رقص کے اصولوں کی خلاف ورزی: قانون کے مطابق طے شدہ حدود سے تجاوز کرتے ہوئے فحش رقص کا مظاہرہ۔

حکام کا کہنا ہے کہ تھیٹر عوامی تفریح کا ایک اہم ذریعہ ہے، تاہم تفریح کے نام پر اخلاقی حدود کو پامال کرنے کی اجازت کسی بھی فنکار یا تھیٹر انتظامیہ کو نہیں دی جا سکتی۔

پنجاب اسٹیج تھیٹر: تاریخ اور موجودہ بحران

پنجاب کا اسٹیج تھیٹر، بالخصوص لاہور، گوجرانوالہ، فیصل آباد اور ملتان کے ڈرامے، ماضی میں اپنے بہترین اسکرپٹ، برجستہ جملے بازی اور اعلیٰ درجے کی مزاحیہ اداکاری کے لیے جانے جاتے تھے۔ کمال احمد رضوی، رفیع خاور (ننھا)، امان اللہ، مستانہ، بابو بارال اور سہیل احمد جیسے فنکاروں نے اس فن کو عروج بخشا۔

تاہم گزشتہ دو دہائیوں کے دوران تھیٹر کا معیار بتدریج تبدیل ہوا۔ ڈرامے کی بنیادی کہانی اور اداکاری کے بجائے رقص اور شارٹ کٹ تفریح پر توجہ بڑھ گئی۔ اس تبدیلی نے تھیٹر کو عام خاندانی نشستوں سے دور کر دیا، جس پر وقت فوقت مختلف سماجی اور صحافتی حلقوں کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔

تھیٹر مالکان اور آرٹسٹس کا ردعمل

حکومتی نوٹیفکیشن کے بعد تھیٹر انڈسٹری میں ملجل جلاب ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ایک طرف جہاں سنجیدہ فنکاروں اور پروڈیوسرز نے اس قدم کا خیرمقدم کیا ہے اور اسے تھیٹر کا وقار بحال کرنے کا ذریعہ قرار دیا ہے، وہاں دوسری جانب بعض متاثرہ اداکاراؤں اور ان کے حمایتیوں کا موقف ہے کہ پابندی عائد کرنے سے قبل صفائی کا پورا موقع فراہم کیا جانا چاہیے تھا۔

تھیٹر مالکان کی تنظیم کے ایک نمائندے کا کہنا تھا کہ سنسرشپ کے قوانین کی پابندی تمام ہالز کے لیے لازمی ہے، لیکن صرف اداکاراؤں کے بجائے ان ڈائریکٹرز اور پروڈیوسرز پر بھی ذمہ داری عائد ہونی چاہیے جو اس قسم کے شو ترتیب دیتے ہیں۔

آئندہ کا لائحہ عمل اور اصلاحات

محکمہ اطلاعات و ثقافت پنجاب نے واضح کیا ہے کہ یہ پابندی صرف ایک ابتدائی تنبیہ ہے۔ اگر ایک ماہ کے بعد بھی متعلقہ اداکاراؤں یا تھیٹر انتظامیہ کی جانب سے قوانین کی خلاف ورزی کا سلسلہ جاری رہا تو ڈراما ایکٹ کے تحت درج ذیل سخت اقدامات کیے جائیں گے:

  • مستقل پابندی: خلاف ورزی کے مرتکب فنکاروں پر دائمی پابندی کا نفاذ۔
  • تھیٹر ہالز کی سیلنگ: جن تھیٹرز میں خلاف ورزی ہوگی ان کے لائسنس منسوخ کر کے انہیں سربمہر کر دیا جائے گا۔
  • روزانہ کی بنیاد پر مانیٹرنگ: سنسرشپ کمیٹی کے ممبران روزانہ کی بنیاد پر تھیٹر ڈراموں کی سرپرائز انسپکشن کریں گے۔

حکومت پنجاب کا مقصد اسٹیج ڈراموں کو دوبارہ فیملی تفریح کا معیار دینا ہے تاکہ شہری اپنے خاندانوں کے ساتھ بغیر کسی جھجھک کے تھیٹر کا رخ کر سکیں۔

About The Author

Hina Khan

By حنا خان

حنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔

Glimpse of Cricket بشیر بلور پشاور جلسہ Ambani showing Vantra to Messi Pakistan U-19 The Asian Champion Jobs 14 Dec 2025