ممبئی (شوبز ڈیسک): جہاں بالی وڈ کے اکثر اسٹار کڈز (Star Kids) مہنگی گاڑیوں، لگژری برانڈز اور پارٹیوں کی وجہ سے خبروں میں رہتے ہیں، وہیں بالی وڈ کے ‘کھلاڑی’ اکشے کمار کے بیٹے آرَو کمار (Aarav Kumar) نے ایک بالکل مختلف راستہ اختیار کر کے سب کو حیران کر دیا ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق، آرَو کمار اس وقت بالی وڈ اور عیش و آرام کی زندگی کو خیرباد کہہ کر محض 4500 روپے ماہانہ کی تنخواہ پر کام کر رہے ہیں۔Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!مشکلات اور سادگی کا انتخاباکشے کمار نے ایک انٹرویو میں انکشاف کیا کہ ان کا بیٹا آرَو دیگر بچوں کے برعکس اپنی پہچان خود بنانے کا خواہشمند ہے:سادہ طرزِ زندگی: آرَو اس وقت بھارت کے پسماندہ علاقوں اور دیہاتوں میں رہ رہے ہیں جہاں وہ مقامی لوگوں کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں۔قلیل تنخواہ: اکشے کمار کے مطابق، آرَو نے اپنی مرضی سے ایک ایسی ملازمت کا انتخاب کیا ہے جہاں انہیں ماہانہ صرف 4500 روپے ملتے ہیں، اور وہ اسی رقم میں اپنا گزارہ کرنا سیکھ رہے ہیں۔پبلک ٹرانسپورٹ کا استعمال: آرَو اکثر میٹرو یا مقامی بسوں میں سفر کرتے نظر آتے ہیں اور وہ اپنی والد کی شہرت یا دولت کو اپنی سہولت کے لیے استعمال کرنے کے سخت خلاف ہیں۔والدین کی تربیت اور آرَو کا نظریہاکشے کمار اور ٹوئنکل کھنہ نے ہمیشہ اپنے بچوں کی پرورش میں نظم و ضبط اور محنت کو اہمیت دی ہے:خود انحصاری: آرَو کا ماننا ہے کہ اسے اپنی زندگی کے تجربات خود حاصل کرنے چاہئیں، نہ کہ اپنے والد کے نام کا سہارا لینا چاہیے۔فلم انڈسٹری سے دوری: بہت سے فلم ساز آرَو کو لانچ کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں، لیکن آرَو فی الحال شوبز کی دنیا میں آنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے اور اپنی توجہ سماجی کاموں اور سادہ زندگی پر مرکوز کیے ہوئے ہیں۔سوشل میڈیا پر عوامی ردِعملاس خبر کے سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین آرَو کمار کی اس سوچ کی بے حد تعریف کر رہے ہیں۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ “نیپوٹزم” (Nepotism) کے اس دور میں ایک ایسے نوجوان کا ہونا جو اپنی جڑوں سے جڑا ہوا ہو اور محنت کی عظمت پر یقین رکھتا ہو، قابلِ تحسین ہے۔خلاصہ: سادگی میں ہی عظمت ہےآرَو کمار کی یہ کہانی ثابت کرتی ہے کہ انسان کی اپنی پہچان اس کی محنت اور اخلاق سے بنتی ہے، نہ کہ اس کے بینک بیلنس سے۔ اکشے کمار کے بیٹے نے دکھا دیا ہے کہ وہ زندگی کے فلسفے کو سمجھنے کے لیے کسی مہنگے اسکول کے بجائے عام لوگوں کے درمیان رہ کر سیکھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔About The Author حنا خانحنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ See author's posts Share this: Share on Facebook (Opens in new window) Facebook Share on X (Opens in new window) X Share on WhatsApp (Opens in new window) WhatsApp Share on Reddit (Opens in new window) Reddit Share on Threads (Opens in new window) Threads Share on Telegram (Opens in new window) Telegram Share on Tumblr (Opens in new window) Tumblr Share on Bluesky (Opens in new window) Bluesky Share on Nextdoor (Opens in new window) Nextdoor Share on Mastodon (Opens in new window) Mastodon Share on LinkedIn (Opens in new window) LinkedIn Share on Pinterest (Opens in new window) Pinterest Email a link to a friend (Opens in new window) Email Print (Opens in new window) Print Like this:Like Loading…Related Post navigationبالی وڈ کی نئی تاریخ: عامر خان کا بڑا جوا؛ فلم ‘ایک دن’ کی ایڈوانس بکنگ ریلیز سے 39 دن پہلے شروع