Preloader
CM sohail afridi address serat conference

اہم نکات (خلاصہ)

  • کانفرنس کا انعقاد: محکمہ اوقاف و مذہبی امور خیبرپختونخوا کے زیرِ انتظام پشاور میں عظیم الشان صوبائی رحمت للعالمین ﷺ کانفرنس منعقد، وزیراعلیٰ کا خصوصی خطاب۔
  • تعلیماتِ نبوی ﷺ پر زور: خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی سیرتِ طیبہ کو دنیا و آخرت میں کامیابی کی ضمانت قرار دیتے ہوئے نوجوانوں کو عملی زندگی میں اپنانے کی ہدایت۔
  • عالمی و ملکی امور پر گفتگو: مسلم امت کے اتحاد کی ضرورت، ناموسِ رسالت ﷺ کے تحفظ، ملک میں عدل و انصاف کی بالادستی اور سود سے پاک معاشی نظام کا اعادہ۔
  • حسنیٰ اور اصلاحاتی اقدامات: تعلیمی مقابلے جیتنے والے طلبہ میں انعامات کی تقسیم، پمز واقعے کی مذمت اور صوبے میں حفاظتی و انتظامی اصلاحات کا عزم۔

پشاور میں محکمہ اوقاف و مذہبی امور حکومتِ خیبرپختونخوا کے زیرِ اہتمام ایک عظیم الشان صوبائی رحمت للعالمین ﷺ کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں علماء کرام، مشائخ عظام، سرکاری حکام اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ کانفرنس سے بحیثیتِ مہمانِ خصوص خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی دنیا میں تشریف آوری تمام انسانیت کے لیے ہدایت، نجات اور خوشی کا پیغام ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نبی کریم ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور آپ ﷺ کی سیرتِ طیبہ ہی تمام انسانوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ نوجوان نسل کو چاہیے کہ وہ سیرتِ النبی ﷺ کا سچے دل سے مطالعہ کرے اور آپ ﷺ کی زریں تعلیمات کو اپنی روزمرہ کی عملی زندگی کا لازمی حصہ بنائے۔

تحفظِ ناموسِ رسالت ﷺ اور مسلم دنیا کا اتحاد

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے اپنے خطاب میں ناموسِ رسالت ﷺ کے حساس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عقیدہ ختمِ نبوت اور تحفظِ ناموسِ رسالت ﷺ ہر مسلمان کے ایمان کا بنیادی اور ناقابلِ تنسیخ حصہ ہے۔

  • مصلحت سے پاک موقف: نبی کریم ﷺ مسلمانوں کے دلوں میں بستے ہیں اور آپ ﷺ کی شانِ اقدس میں کسی بھی قسم کی گستاخی سے دنیا بھر کے مسلمانوں کا دل زخمی ہوتا ہے۔ اس معاملے پر کوئی بھی مؤقف یا سیاسی مصلحت قبول نہیں کی جا سکتی۔
  • بین الاقوامی مقدمہ: سابق وزیراعظم عمران خان وہ واحد رہنما تھے جنہوں نے اقوامِ متحدہ سمیت ہر عالمی فورم پر ناموسِ رسالت ﷺ کا مقدمہ دائر کیا اور دنیا کو یہ باور کرایا کہ توہینِ رسالت کسی صورت برداشت نہیں کی جا سکتی۔
  • رحمت للعالمین اتھارٹی: سیرتِ طیبہ کی عالمگیر پھیلاؤ اور نئی نسل کی تربیت کے لیے عمران خان کے دور میں ہی رحمت للعالمین اتھارٹی قائم کی گئی تھی۔
  • مسلم امت کی زبوں حالی: انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ آج مسلم ممالک آبادی اور وسائل کے لحاظ سے بہت زیادہ ہیں لیکن باہمی اتحاد و اتفاق سے محروم ہیں۔ تاریخ شاہد ہے کہ مسلمانوں نے جنگیں ایمانی طاقت سے جیتیں، محض اعداد و شمار کے بل بوتے پر نہیں۔

بین الاقوامی دوہرے معیار اور اندرونی چیلنجز

کانفرنس کے دوران وزیراعلیٰ نے عالمی طاقتوں کے رویوں اور ملک میں درپیش اندرونی معاشی و سیاسی مسائل کا گہرا تجزیہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی طاقتیں اسلامی دنیا کے ساتھ دوہرا معیار رکھتی ہیں؛ جب غیر مسلم ممالک ایٹمی و دفاعی صلاحیت حاصل کرتے ہیں تو اسے سیکیورٹی کا نام دیا جاتا ہے، لیکن جب کوئی اسلامی ملک طاقتور بننے کی کوشش کرتا ہے تو اسے سیکیورٹی کا خطرہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔

معاشی و انتظامی صورتحال پر اہم اعداد و شمار اور نکات:

  • کرپشن کی نشاندہی: آئی ایم ایف (IMF) کی رپورٹ کے مطابق ملک میں 5,300 ارب روپے کی کرپشن ہوئی، لیکن اس کے باوجود مثر احتساب کا نظام نظر نہیں آتا۔
  • قربانیاں اور بدامنی: امن و امان کی بحالی کے لیے قوم اور سیکیورٹی اداروں نے 80,000 سے زائد جانی قربانیاں دیں، مگر بند کمروں میں لیے گئے فیصلوں کی وجہ سے اب بھی لوگ متاثر ہو رہے ہیں۔
  • اداریاتی خود احتسابی: عدل و انصاف ہی ریاست کو جوڑ کر رکھتا ہے۔ اگر ججوں کے فیصلے نافذ نہ ہوں اور ادارے اپنی آئینی حدود اور فرائض انجام نہ دیں تو عوامی وسائل کے ضیاع کو روکنا ناممکن ہو جاتا ہے۔

پمز ہسپتال اسلام آباد کا واقعہ اور حفاظتی اقدامات

وزیراعلیٰ نے حال ہی میں پمز ہسپتال اسلام آباد میں پیش آنے والے دلخراش واقعے پر شدید دکھ اور غم کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کی۔ انہوں نے کہا کہ معصوم بچوں اور شہریوں کا حادثات یا غفلت کا شکار ہونا انتہائی افسوسناک ہے اور اس طرح کے واقعات میں مکمل اور شفاف جواب دہی ہونی چاہیے۔

انہوں نے بتایا کہ خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے کے تمام عوامی مقامات، ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں میں سیکیورٹی اور حفاظتی تدابیر کو فول پروف بنانے کی سخت ہدایات جاری کر دی ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔

اصلاحاتی اقدامات: سود سے پاک معیشت اور نعت و قرات کے مقابلے

اپنے خطاب کے اختتام پر وزیراعلیٰ نے خیبرپختونخوا حکومت کی مذہبی و انتظامی اصلاحات کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت نے اقتدار سنبھالتے ہی صوبے کو سود کے لعنت سے پاک کرنے کے لیے انتظامی و قانونی اقدامات کا آغاز کیا ہے اور اس عملی پیش رفت کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔

کانفرنس کے دوران صوبائی وزیر برائے اوقاف و مذہبی امور عدنان قادری، سیکرٹری اوقاف اور چیئرمین متحدہ علماء بورڈ سمیت مختلف مسالک کے جید علماء کرام نے بھی خطاب کیا اور سیرتِ طیبہ کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ پروگرام کے اختتام پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے محکمہ اوقاف کے زیرِ اہتمام صوبائی سطح پر منعقدہ مقابلے نعت اور قرات میں پہلی، دوسری اور تیسری پوزیشن حاصل کرنے والے ہونہار طلبہ میں انعامات اور اسناد بھی تقسیم کیں۔

پس منظر اور تجزیاتی زاویہ

خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے رحمت للعالمین ﷺ کانفرنس کا انعقاد اس سیاسی و مذہبی حکمتِ عملی کا حصہ ہے جس کے تحت صوبے میں مذہبی رواداری، سیرتِ طیبہ کی ترویج اور نوجوانوں کی فکری تربیت پر توجہ دی جا رہی ہے۔ موجودہ دور میں جہاں خطہ سیکیورٹی چیلنجز اور معاشی دباؤ کا شکار ہے، وہاں سیرتِ النبی ﷺ کے عالمگیر اصولوں—عدل، انصاف، مساوات اور شفافیت—کو انتظامی پالیسیوں کا حصہ بنانا ناگزیر ہو چکا ہے۔

حکومتِ خیبرپختونخوا کا دعویٰ ہے کہ وہ اسلامی فلاحی ریاست کے ماڈل کو اپناتے ہوئے جہاں ایک طرف معاشی و انتظامی اصلاحات کر رہی ہے، وہیں دوسری طرف مذہبی اقدار کے تحفظ اور تعلیمی اداروں میں سیرتِ طیبہ کو فروغ دینے کے لیے سرگرمِ عمل ہے۔

About The Author

Hina Khan

By حنا خان

حنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔

Glimpse of Cricket بشیر بلور پشاور جلسہ Ambani showing Vantra to Messi Pakistan U-19 The Asian Champion Jobs 14 Dec 2025