Preloader
Extreme Devaluation of Iranian currency

اہم نکات (خلاصہ)

  • تاریخی تنزلی: اوپن مارکیٹ میں ایرانی کرنسی (ریال) کی قدر اب تک کی سب سے نچلی سطح پر پہنچ گئی، جہاں ایک امریکی ڈالر 20 لاکھ ایرانی ریال کی حد عبور کر گیا۔
  • عوامی مشکلات: کرنسی کی ریکارڈ بے قدری کے باعث ملک میں اشیائے خورونوش، ادویات اور روزمرہ کے استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ اور سنگین افراطِ زر۔
  • بنیادی وجوہات: بین الاقوامی اقتصادی پابندیاں، جوہری معاہدے کی معطلی، اور معاشی پالیسیوں میں تسلسل کا فقدان کرنسی کی مسلسل تنزلی کی بنیادی وجوہات قرار۔
  • حکومتی اقدامات: ایرانی سینٹرل بینک کا بینکنگ سسٹم اور اوپن مارکیٹ کے درمیان کاپنگ میکانزم کے ذریعے غیر ملکی مبادلہ کو کنٹرول کرنے کا تجربہ ناکام۔
  • ایرانی معیشت پر بدترین افراطِ زر کا سایا

ایران کی اوپن مارکیٹ میں قومی کرنسی ‘ریال’ کی قدر میں بدترین تاریخی گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے، جہاں ایک امریکی ڈالر کی قیمت تاریخی سطح عبور کرتے ہوئے 20 لاکھ ایرانی ریال سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔ اس تاریخی تنزلی نے نہ صرف تہران کی غیر ملکی کرنسی مارکیٹ کو شدید ہلا کر رکھ دیا ہے بلکہ ملک میں جاری معاشی بحران اور افراطِ زر (مہنگائی) کی لہر کو مزید تیز کر دیا ہے۔

مالیاتی ماہرین اور کرنسی ڈیلرز کے مطابق غیر ملکی کرنسیوں کے مقابلے میں ریال کی یہ ریکارڈ بے قدری گزشتہ کئی سالوں سے جاری معاشی دباؤ، بین الاقوامی پابندیوں اور ملکی مالیاتی پالیسیوں میں موجود پیچیدگیوں کا نتیجہ ہے۔

ایرانی ریال کی زوال پذیری کا پس منظر

ایرانی ریال کی قدر میں مسلسل کمی کا سفر کوئی نیا واقعہ نہیں ہے بلکہ یہ گزشتہ چار دہائیوں پر محیط معاشی چیلنجز کی داستان ہے۔ سنہ 1979 کے انقلاب سے قبل ایک امریکی ڈالر کی قیمت محض 70 ایرانی ریال کے قریب ہوا کرتی تھی، تاہم بعد کے سالوں میں پیش آنے والے سیاسی و معاشی واقعات نے کرنسی پر زبردست دباؤ ڈالا۔

  • 1980 کی دہائی: ایران عراق جنگ کے باعث معاشی ڈھانچے کو نقصان پہنچا اور ڈالر کے مقابلے میں ریال کی قدر گرنا شروع ہوئی۔
  • 2018 کی تحول: امریکہ کی جانب سے مشترکہ جامع جامع منصوبہ عمل (JCPOA) یا جوہری معاہدے سے یکطرفہ علیحدگی اور سخت معاشی پابندیوں کی دوبارہ عائدگی سے ریال کی تنزلی میں بے پناہ تیزی آئی۔
  • موجودہ صورتحال: 2018 میں ایک ڈالر کی قیمت تقریباً 40 ہزار ریال تھی، جو کہ اب بڑھ کر 20 لاکھ ریال سے زائد کی ناقابلِ یقین سطح تک جا پہنچی ہے۔

اعداد و شمار کی روشنی میں: ایرانی کرنسی کی تنزلی کے اہم عوامل

ایران کی مالیاتی مارکیٹ اور افراطِ زر سے جڑے اہم اعداد و شمار اور معاشی حقائق درج ذیل ہیں:

  • افراطِ زر کی شرح: ایران میں سالانہ بنیادوں پر افراطِ زر کی شرح 40% سے 50% کے درمیان ریکارڈ کی جا رہی ہے، جس کے باعث عوام کی قوتِ خرید مسلسل ختم ہو رہی ہے۔
  • کرنسی کی تنزلی کی رفتار: گزشتہ پانچ سالوں کے دوران ایرانی ریال اپنی قدر کا 90 فیصد سے زائد حصہ کھو چکا ہے۔
  • تیل کی برآمدات پر اثرات: بین الاقوامی سیکیورٹی پابندیوں کی وجہ سے ایران کی برآمدی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ یعنی تیل کی فروخت شدید متاثر ہوئی، جس سے زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی واقع ہوئی۔
  • سرکاری بمقابلہ اوپن مارکیٹ ریٹ: ایرانی حکومت کا ایک مخصوص سرکاری ایکسچینج ریٹ بھی موجود ہے، تاہم عام شہریوں اور تاجروں کا دارومدار اوپن مارکیٹ پر ہوتا ہے جہاں ریال کی قدر انتہائی تیزی سے گر رہی ہے۔

بحران کی بنیادی وجوہات اور پریسنگ چیلنجز

مالیاتی تجزیہ کاروں کے مطابق ایک امریکی ڈالر کا 20 لاکھ ریال کی سطح پر پہنچنا چند اہم اندرونی اور بیرونی عوامل سے جڑا ہے:

1۔ بین الاقوامی پابندیاں اور زرمبادلہ کی قلت: اقوامِ متحدہ، امریکہ اور یورپی یونین کی جانب سے عائد معاشی و بینکنگ پابندیوں کے باعث ایران کے بین الاقوامی بینکنگ نظام (SWIFT) سے روابط محدود ہو چکے ہیں۔ اس سے ملک میں امریکی ڈالر اور دیگر سخت کرنسیوں کی آمد شدید متاثر ہوئی ہے۔

2۔ سرمایہ داروں کا عدم اعتماد اور کیپیٹل فلائٹ: کرنسی کی بے قدری کے خوف سے ایرانی شہری اور کاروباری افراد اپنی بچتوں کو مقامی ریال میں رکھنے کے بجائے ڈالر، سونے اور جائیداد میں تبدیل کر رہے ہیں۔ اس طلب نے اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت کو مزید اوپر دھکیل دیا ہے۔

3۔ مرکزی بینک کی پالیسیوں کی محدود کاری: ایرانی سینٹرل بینک نے اوپن مارکیٹ کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے کئی اقدامات کیے، جن میں متعدد ایکسچینج ریٹ کا قیام اور کرنسی کی آزادانہ خریدو فروخت پر پابندیاں شامل تھیں، تاہم یہ اقدامات معاشی حقائق کے سامنے ناکام ثابت ہوئے۔

عوامی زندگی اور ملکی معیشت پر اثرات

ڈالر کی پرواز اور ریال کی مندی کا براہِ راست اثر عام ایرانی شہری پر پڑ رہا ہے۔ روزمرہ اشیائے خوردونوش، کپڑے، ادویات اور ٹرانسپورٹ کے کرائے دن بہ دن مہنگے ہوتے جا رہے ہیں:

  • قوتِ خرید میں تاریخی کمی: درمیانے اور نچلے طبقے کے شہریوں کے لیے بنیادی ضروریاتِ زندگی کا حصول انتہائی مشکل ہو چکا ہے کیونکہ ان کی آمدنی ریال میں ہے جبکہ اخراجات ڈالر کی قیمت کے مطابق بڑھ رہے ہیں۔
  • کاروباری برادری کی مشکلات: در آمدی خام مال پر انحصار کرنے والی صنعتیں اور چھوٹے تاجر لاگت میں غیر متوقع اضافے کے باعث اپنے کاروبار بند کرنے یا قیمتیں کئی گنا بڑھانے پر مجبور ہو چکے ہیں۔
  • معاشی و سماجی بے چینی: کرنسی کے بحران نے ملک میں سماجی بے چینی کو جنم دیا ہے، جہاں مختلف طبقہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے افراد معاشی اصلاحات اور تنخواہوں میں اضافے کے مطالبات کر رہے ہیں۔

مستقبل کا منظر نامہ اور ممکنہ حل

ایران کے اس معاشی بحران اور کرنسی کی بے قدری پر قابو پانے کے لیے ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ صرف عارضی اقدامات یا مارکیٹ میں انٹروینشن ناکافی ہوگی۔ جب تک جوہری مذاکرات کی بحالی اور بین الاقوامی پابندیوں کے خاتمے کے لیے سفارتی راستے تلاش نہیں کیے جاتے، زرمبادلہ کی آمد اور معاشی استحکام کا حصول مشکل رہے گا۔

اس کے علاوہ ایرانی حکومت کو اپنی مالیاتی پالیسیوں میں شفافیت لانے، کرنسی کی ری ڈینومینیشن (کرنسی سے صفر ختم کرنے کے منصوبے) پر عملدرآمد، اور نجی شعبے کی حوصلہ افزائی کی ضرورت ہوگی تاکہ مقامی پیداوار کو بڑھا کر غیر ملکی کرنسی پر انحصار کم کیا جا سکے۔

About The Author

Hina Khan

By حنا خان

حنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔

Glimpse of Cricket بشیر بلور پشاور جلسہ Ambani showing Vantra to Messi Pakistan U-19 The Asian Champion Jobs 14 Dec 2025