اہم نکات (خلاصہ)تین بڑے آپریشنز: سیکیورٹی فورسز نے خیبر پختونخوا کے اضلاع بنوں، جنوبی وزیرستان اور بلوچستان کے ضلع خضدار میں خفیہ معلومات کی بنیاد پر کامیاب کارروائیاں کیں۔بھاری جانی نقصان: انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران مجموعی طور پر 11 دہشت گرد ہلاک؛ جن میں فتنہ الخوارج کے 7 اور فتنہ الہندوستان کے 4 شرپسند شامل ہیں۔جدید تکنیکی صلاحیت: بلوچستان کے علاقے خضدار میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر کواڈ کاپٹر سے بمباری اور بنوں میں بارودی مواد سے لیس ٹھکانے کی تباہی۔عزمِ استحکام ویژن: سیکیورٹی ذرائع کا اعادہ کہ ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے اور عوامی جان و مال کے تحفظ تک بلا امتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی۔دہشت گردی کے خلاف سرجیکل سٹرائیکسپاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردی کے خاتمے اور ملک میں پائیدار امن کے قیام کے لیے اپنے عزم کو دہراتے ہوئے خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں انٹیلی جنس پر مبنی تین بڑے آپریشنز کی تفصیلات جاری کی ہیں۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ان کارروائیوں کے دوران فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے 11 خطرناک دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے ہیں جبکہ ان کے محفوظ ٹھکانوں، اسلحہ اور گولہ بارود کے بڑے ذخائر کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے۔ان تمام آپریشنز کی خاص بات یہ رہی کہ سیکیورٹی فورسز نے انتہائی پیشہ ورانہ حکمتِ عملی اپنائی جس کی بدولت مقامی آبادی اور عام شہریوں کا جانی و مالی نقصان صفر رہا۔خیبر پختونخوا میں فتنہ الخوارج کے خلاف فیصلہ کن کارروائیاںخیبر پختونخوا کے دو حساس ترین اضلاع بنوں اور جنوبی وزیرستان میں فورسز نے خوارج کی نقل و حرکت کا پیشگی سراغ لگا کر گھیر لیا۔بنوں آپریشن: بنوں کے نچلے اور پسماندہ سرحدی علاقے میں سیکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاع پر ایک انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا۔ کارروائی کے دوران 2 غیر ملکی و مقامی خوارج ہلاک ہوئے۔ سیکیورٹی فورسز نے فتنہ الخوارج کے تیار کردہ ایک بڑے ٹھکانے کو، جہاں بارودی مواد اور جدید خودکار اسلحہ ذخیرہ کیا گیا تھا، دھماکے سے ناکارہ بنا دیا۔جنوبی وزیرستان (لدھا) آپریشن: جنوبی وزیرستان کے تحصیل لدھا کے جنگلاتی و پہاڑی علاقے میں فتنہ الخوارج کے ایک اور گروہ کی نقل و حرکت کی اطلاع فورسز کو ملی۔ سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے دہشت گردوں کو چاروں طرف سے گھیر لیا۔ فریقین کے درمیان شدید فائرنگ کے تبادلے میں 5 خوارج ہلاک ہوئے۔ موقع سے بھاری تعداد میں نائٹ ویژن چشمے، کلاشنکوفیں اور ہینڈ گرنیڈز برآمد کر لیے گئے۔بلوچستان (خضدار) میں فتنہ الہندوستان کی سرکوبیبلوچستان میں دیرپا امن کو نقصان پہنچانے اور سرحد پار سے مالی و تکنیکی معاونت حاصل کرنے والے عناصر (فتنہ الہندوستان) کے خلاف ضلع خضدار کے علاقے ساسول میں کارروائی کی گئی۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق اس علاقے میں دہشت گردوں نے ایک پیچیدہ پہاڑی غار میں روپوشی اختیار کر رکھی تھی۔ فورسز نے زمینی کارروائی کے ساتھ ساتھ جدید ٹیکنالوجی کا موثر استعمال کیا۔ کواڈ کاپٹر (Quad-copter) کے ذریعے دہشت گردوں کے ٹھکانے کی نشاندہی کی گئی اور پھر پن پوائنٹ ٹارگٹنگ کے ذریعے کارروائی کی گئی جس میں 4 دہشت گرد موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔کارروائیوں کے اہم اعداد و شمار اور تفصیلاتدہشت گردی کے خلاف انجام دیے گئے ان تینوں آپریشنز کے اہم ڈیٹا درج ذیل ہیں:آپریشن کا علاقہہلاک دہشت گردمتعلقہ کالعدم گروہاستعمال شدہ ٹیکنالوجی / طریقہ کاربنوں (خیبر پختونخوا)02فتنہ الخوارجبارودی ٹھکانے کی تباہی و گھیراؤجنوبی وزیرستان (لدھا)05فتنہ الخوارجگھیراؤ اور بروقت زمینی کارروائیخضدار، ساسول (بلوچستان)04فتنہ الہندوستانکواڈ کاپٹر اور سرجیکل سٹرائیکمجموعی تعداد11مشترکہ خطراتصفر شہری نقصانآپریشنز کا پس منظر اور ملکی امن پر اثراتپاکستان گزشتہ کچھ عرصے سے سرحد پار محفوظ پناہ گاہوں سے منظم ہونے والی دہشت گردانہ کارروائیوں اور تخریب کاری کا سامنا کر رہا ہے۔ بالخصوص پاک افغان سرحدی پٹی اور بلوچستان کے اضلاع کو نشانہ بنانے کے لیے بیرونی سرپرستی میں کام کرنے والے گروپ متحرک رہے ہیں۔ان حالات سے نمٹنے کے لیے قومی سلامتی کمیٹی کے فیصلے اور عزمِ استحکام ویژن کے تحت سیکیورٹی اداروں کو واضح ہدایات دی گئی ہیں کہ انٹیلی جنس بیسڈ نیٹ ورکس کو مکمل طور پر ختم کیا جائے۔ حالیہ کامیابیاں ظاہر کرتی ہیں کہ پاکستانی فورسز کا انٹیلی جنس اور ٹیکنالوجیکل ڈھانچہ اس حد تک مضبوط ہو چکا ہے کہ دہشت گردوں کے تانے بانے کو آپریشنل مرحلے سے پہلے ہی کاٹ دیا جاتا ہے۔خضدار اور وزیرستان میں حالیہ حملوں کی ناکامی سے جہاں خطے میں معاشی سرگرمیاں اور سی پیک منصوبوں کی پیشرفت محفوظ رہے گی، وہاں مقامی قبائل کا سیکیورٹی اداروں پر اعتماد بھی مزید پختہ ہو گا۔سیکیورٹی اداروں کا عزم اور آئندہ کا لائحہ عملسیکیورٹی ذرائع نے اس عزم کو دہرایا ہے کہ سیکیورٹی فورسز ملکی سرحدوں اور عوام کے تحفظ کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔ عزمِ استحکام کا مقصد صرف گولی کا جواب گولی سے دینا نہیں بلکہ دہشت گردوں کے نیٹ ورکس، ان کے سہولت کاروں اور انہیں مالی امداد فراہم کرنے والے مالیاتی نیٹ ورکس کو بھی جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہے۔فورسز کا کہنا ہے کہ جب تک ملک کے اخری دہشت گرد کا خاتمہ نہیں ہو جاتا اور ریاست پاکستان کا پرچم ہر انچ پر مکمل امن و سلامتی کے ساتھ نہیں لہراتا، انٹیلی جنس پر مبنی آپریشنز بلا تعطل اور روزانہ کی بنیاد پر جاری رہیں گے۔About The Author حنا خانحنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ See author's posts Post navigationصوبائی رحمت للعالمین ﷺ کانفرنس: سیرتِ طیبہ مشعلِ راہ، ناموسِ رسالت ﷺ پر کسی مصلحت کی گنجائش نہیں، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا خطاب پاکستان میں میری ٹائم ریفارمز کا نیا دور: بندرگاہوں کی جدید کاری اور بلیو اکانومی سے معاشی انقلاب کی جانب پیشرفت