Preloader
Reasons of flash floods in Nepal

تبت اور نیپال میں برف و چٹانوں کے تودے نے دریا ‘لیندے کھولا’ کا بہاؤ روک کر طوفانی سیلاب کو جنم دیا؛ انفراسٹرکچر تباہ، سو سے زائد بھارتی و چینی شہری بحفاظت نکال لیے گئے جبکہ سیکڑوں لاپتا

📌 خلاصہ خبر (اہم نکات):

  • تباہ کن قدرتی سانحہ: نیپال اور چین (تبت) کے سرحدی پہاڑی سلسلے میں گلیشیئر کا نچلا حصہ ٹوٹ کر گرنے سے طوفانی سیلاب (Flash Flood) نے جنم لیا۔
  • جانی نقصان: مصدقہ اطلاعات کے مطابق 359 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 1,000 سے زائد افراد تاحال لاپتا ہیں۔
  • بین الاقوامی متاثرین: لاپتا افراد میں 550 سے زائد غیر ملکی شہری شامل ہیں۔ امدادی ٹیموں نے 100 بھارتی اور 25 چینی شہریوں کو بحفاظت ریسکیو کر لیا ہے۔
  • سائنسی حقیقت: امریکی جیولوجیکل سروے (USGS) نے زلزلے کی اطلاعات کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ محسوس کیے گئے جھٹکے دراصل تودہ گرنے کی زبردست توانائی کا نتیجہ تھے۔

حادثے کی تفصیلات اور موجودہ صورتحال

نیپال اور چین کی تبت خود مختار کاؤنٹی کے سرحدی پہاڑی سلسلے میں بدھ کی صبح ایک دل دہلا دینے والا قدرتی سانحہ پیش آیا، جس نے ہمالیائی خطے کے بنیادی ڈھانچے اور آبادی کو شدید تباہی سے دوچار کر دیا ہے۔ ہمالیہ کے بلند و بالا سلسلہ کوہ میں واقع ایک قدامت پسند گلیشیئر کا نچلا حصہ غیر متوقع طور پر ٹوٹ کر وادی میں گر گیا، جس کے نتیجے میں برف، مٹی، بھاری چٹانوں اور ملبے کا ایک عظیم الشان ریلا ‘لیندے کھولا’ (Lende Khola) نامی دریا میں آ گرا۔

اس غیر معمولی تودے کے گرنے سے پیدا ہونے والے ملبے نے دریا کے بہاؤ کو پل بھر میں روک دیا، جس کے بعد بننے والے عارضی بند کے اچانک پھٹنے سے انتہائی تیز رفتار طوفانی سیلاب (Flash Flood) نے جنم لیا۔ مٹی، سنگ ریزوں اور برف پر مشتمل یہ طاقتور ریلا تبت کی ‘گئیرونگ پورٹ’ (Gyirong Port) اور نیپال کی ‘تریشولی’ وادی سے ٹکرایا۔ سیلابی ریلے نے اپنے راستے میں آنے والی تمام سڑکوں، پلوں، مواصلاتی رابطوں اور زیر تعمیر بجلی کے منصوبوں کا نام و نشان مٹا دیا، جبکہ کئی قریبی دیہات اب بھی مکمل طور پر زیرِ آب ہیں۔

سیلابی آفت کے اعداد و شمار ایک نظر میں

تفصیل / زمرہنیپال کی سرحدتبت (چین) کی سرحدمجموعی تعداد
مصدقہ ہلاکتیں359 افرادتفصیلات زیرِ جمع آوری359+ افراد
مجموعی لاپتا افرادحتمی تعداد زیرِ تعین558 افراد1,000 سے زائد
لاپتا غیر ملکی شہریتقریباً 550 غیر ملکی260 غیر ملکی800+ غیر ملکی
ریسکیو کیے گئے غیر ملکی100 بھارتی، 25 چینیامدادی کارروائیاں جاری125+ افراد

ریسکیو آپریشن اور بین الاقوامی متاثرین

نیپالی حکام کے مطابق، واقعہ کے فوراً بعد فوجی ہیلی کاپٹروں، ریسکیو اہلکاروں اور مقامی رضاکاروں پر مشتمل سرچ اینڈ ریسکیو ٹیموں کو متحرک کر دیا گیا ہے۔ نیپال کے وزیر داخلہ سدھن گرونگ نے پریس بریفنگ میں بتایا کہ حکومت کی تمام تر توجہ اس وقت وادی اور ملبے میں پھنسے ہوئے زندہ بچ جانے والے افراد کی تلاش پر مرکوز ہے۔

وزیر داخلہ کے مطابق، سخت ترین جغرافیائی حالات اور خراب موسم کے باوجود امدادی ٹیموں نے سب سے زیادہ متاثرہ علاقے ‘تریشولی’ اور اس کے گردونواح سے 100 لاپتا بھارتی شہریوں اور 25 چینی کارکنوں کو بحفاظت تلاش کر لیا ہے۔ تاہم انہوں نے تشویش ظاہر کی کہ تقریباً 550 غیر ملکی شہری اب بھی مختلف پہاڑی پٹریوں اور مواصلاتی رابطے کٹ جانے والے علاقوں میں لاپتا ہیں، جبکہ مقامی باشندوں کی لاپتا ہونے والی حتمی تعداد کا تعین تکنیکی دشواریوں کے باعث جاری ہے۔

دوسری جانب، چینی سرکاری نشریاتی ادارے (CCTV) کی رپورٹ کے مطابق، تبت کی ‘گئیرونگ کاؤنٹی’ میں حالات انتہائی تشویشناک ہیں۔ چینی حکام کے مطابق صرف تبت کے حدود میں لاپتا ہونے والوں کی تعداد 558 تک جا پہنچی ہے، جن میں 260 غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں۔ سرحد کے دونوں جانب سے لاشیں بہہ کر نیپال کے میدانی علاقوں تک چلی گئی ہیں، جہاں سے مقامی انتظامیہ لاشوں کی شناخت اور کوائف کی جمع آوری میں مصروف ہے۔

حادثہ کیسے پیش آیا؟ سائنسی و ارضیاتی تجزیہ

واقعے کے فوری بعد علاقے میں محسوس کیے جانے والے شدید زمین کے جھٹکوں کی وجہ سے ابتدائی اطلاعات میں یہ خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ یہ تباہی شاید کسی طاقتور زلزلے کا نتیجہ ہے۔ تاہم، امریکی جیولوجیکل سروے (USGS) اور بین الاقوامی ارضیاتی ماہرین نے تفصیلی سائنسی تجزیے کے بعد اس تاثر کی نفی کر دی ہے۔

امریکی جیولوجیکل سروے (USGS) کا بیان: “ہمالیائی خطے میں محسوس کیے گئے زلزلے جیسے جھٹکے دراصل کسی ٹیکٹونک پلیٹ کی حرکت یا زلزلے کا نتیجہ نہیں تھے، بلکہ لاکھوں ٹن برف، مٹی اور چٹانوں کے انتہائی بلندی سے وادی میں گرنے اور اس کے نتیجے میں نکلنے والی بے پناہ ارضیاتی توانائی کے باعث پیدا ہوئے تھے۔”

ماہرینِ ماحولیات کا ماننا ہے کہ ہمالیائی سلسلے میں گلیشیئرز کا اس طرح اچانک پھٹنا یا ٹوٹ کر گرنا (Glacial Lake Outburst Floods – GLOF) حالیہ سالوں میں بڑھتے ہوئے عالمی درجہ حرارت اور موسمیاتی تبدیلیوں (Climate Change) کا برا راست نتیجہ ہے۔ گرم ہوتے ہوئے موسم اور گلیشیئرز کے اندرونی ڈھانچے میں پانی کے دباؤ کے باعث برفانی تودے اندر سے کھوکھلے ہو جاتے ہیں، جو کسی بھی وقت بغیر کسی سابقہ انتباہ کے تباہی کا سبب بن جاتے ہیں۔

معاشی اثرات اور ہائیڈرو پاور منصوبوں کی تباہی

نیپال اور چین کا یہ سرحدی علاقہ نہ صرف تجارتی لحاظ سے انتہائی اہم ہے بلکہ یہاں دونوں ممالک کے اربوں ڈالر کے مشترکہ بنیادی ڈھانچے کے منصوبے بھی واقع ہیں۔ ‘گئیرونگ پورٹ’ چین اور نیپال کے درمیان خشک تجارتی بندرگاہ کا مرکزی ذریعہ ہے، جو اس وقت مکمل طور پر معطل اور زیرِ آب آ چکی ہے۔

علاوہ ازیں، تریشولی دریا کے طاس میں واقع متعدد ہائیڈرو پاور (پن بجلی) کے منصوبے اور ڈیم اس ریلے کی زد میں آ کر تباہ یا شدید متاثر ہوئے ہیں۔ بجلی کے ان منصوبوں کی تباہی سے نیپال کے قومی گرڈ کو شدید جھٹکا لگا ہے، جس کے نتیجے میں دارالحکومت کاٹھمنڈو سمیت کئی اضلاع میں بجلی کی فراہمی میں خلل پڑا ہے۔ سڑکوں اور پلوں کے بہہ جانے کی وجہ سے سرحدی تجارت روک دی گئی ہے، جس سے خطے میں غذائی اور طبی بحران کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

مستقبل کے چیلنجز اور ماہرین کی آراء

ہمالیائی خطے میں قدرتی آفات کی بار بار آمد نے چین، نیپال اور بھارت سمیت تمام ہمسایہ ممالک کے لیے سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ بین الاقوامی ماحولیاتی تنظیموں کے مطابق اگرچہ فوری ترجیح انسانی جانوں کو بچانا اور ریسکیو آپریشن ہے، لیکن طویل المدتی بنیادوں پر ہمالیائی گلیشیئرز کی مانیٹرنگ کا ایک جدید اور مشترکہ نظام قائم کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔

اگر سرحدی خطوں میں گلیشیئرز کی بروقت نگرانی اور قبل از وقت اطلاع دینے والا وارننگ سسٹم (Early Warning System) نصب نہ کیا گیا تو آنے والے سالوں میں اس قسم کے حادثات علاقائی معیشت اور انسانی آبادیوں کے لیے مزید ہلاکت خیز ثابت ہو سکتے ہیں۔

📝 ایڈیٹوریل نوٹ (معروضیت اور صحافتی پالیسی):

یہ خبر نیپالی حکومت کی پریس بریفنگز، چینی سرکاری خبر رساں ادارے (CCTV)، اور امریکی جیولوجیکل سروے (USGS) کے تصدیق شدہ بیانات کی روشنی میں تیار کی گئی ہے۔ تاحال لاپتا افراد کی تلاش کا کام جاری ہے، لہٰذا اعداد و شمار میں حتمی ریسکیو رپورٹ جاری ہونے تک تبدیلی ممکن ہے۔ صحافتی اخلاقیات کے تحت بغیر تصدیق شدہ افواہوں کی نفی کی گئی ہے۔

About The Author

Hina Khan

By حنا خان

حنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔

Glimpse of Cricket بشیر بلور پشاور جلسہ Ambani showing Vantra to Messi Pakistan U-19 The Asian Champion Jobs 14 Dec 2025