اہم نکات:اعلیٰ سطح کا دورہ: کویتی وزیر دفاع شیخ عبداللہ علی عبداللہ الصباح کی قیادت میں اعلیٰ سطح کے دفاعی وفد کا وزراتِ دفاع راولپنڈی کا دورہ۔اعلیٰ عسکری قیادت کی شرکت: کویتی مسلح افواج کے چیف آف جنرل اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل خالد دراج سعد الشریحان بھی وفد کے ہمراہ موجود تھے۔دفاعی و سیکیورٹی تعاون: ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعلقات کی استواری، مشترکہ مشقوں، اور عسکری ٹریننگ کے شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے پر اتفاق۔علاقائی و عالمگیر ہم آہنگی: مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کی موجودہ سیکیورٹی صورتحال، پیش آمدہ چیلنجز اور باہمی دلچسپی کے امور پر یکساں موقِف کا اعادہ۔راولپنڈی: کویتی دفاعی وفد کی وزارتِ دفاع میں آمدراولپنڈی (خصوصی رپورٹ): پاکستان اور کویت کے درمیان تاریخ ساز اور دیرینہ برادرانہ تعلقات کو مزید تقویت دینے کے سلسلے میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ کویت کے وزیر دفاع شیخ عبداللہ علی عبداللہ الصباح کی قیادت میں ایک اعلٰی سطح کے کویتی دفاعی وفد نے راولپنڈی میں وزارتِ دفاع کا اہم دورہ کیا، جہاں انہوں نے پاکستان کے وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف سے تفصیلی اور باضابطہ ملاقات کی۔اس اہم ملاقات کے دوران کویتی مسلح افواج کے چیف آف جنرل اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل خالد دراج سعد الشریحان بھی اعلیٰ وفد کے ہمراہ موجود تھے۔ وزارتِ دفاع آمد پر معزز مہمانوں کا پرشور اور باوقار استقبال کیا گیا، جس کے بعد دونوں ممالک کے وزرائے دفاع کے مابین اعلیٰ سطحی وفود کی موجودگی میں مذاکرات کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ اس ملاقات کو دونوں اسلامی برادر ممالک کے مابین عسکری اور دفاعی روابط کی ایک نئی اور مضبوط کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔ملاقات کے بنیادی خد و خال اور دفاعی امور پر گفتگووزارتِ دفاع راولپنڈی میں ہونے والے اس اہم اجلاس میں پاکستان اور کویت کے مابین دفاعی پیداواور، عسکری تربیت، مشترکہ دفاعی مشقوں اور معلومات کے تبادلے (Intelligence Sharing) سمیت باہمی دلچسپت کے تمام اہم شعبوں کا احاطہ کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر کامل اتفاق کیا کہ موجودہ عالمی اور علاقائی چیلنجز کے تناظر میں عسکری تعاون کو جدید ترین خطوط پر استوار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کویتی وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور کویت کے تعلقات مشترکہ مذہبی، ثقافتی اور تاریخی اقدار پر مبنی ہیں۔ پاکستان، کویت کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافے اور تکنیکی مدد کے لیے اپنے تمام تر وسائل اور تجربات فراہم کرنے کے عزم پر قائم ہے۔ملاقات کے دوران طے پانے والے بنیادی ترجیحات:عسکری تربیت و پیشہ ورانہ صلاحیتیں: کویتی مسلح افواج کے افسران اور جوانوں کی پاکستان کے اعلیٰ عسکری اداروں میں جدید تربیت کا تسلسل برقرار رکھنا۔مشترکہ دفاعی مشقیں: بری، بحری اور فضائی افواج کے درمیان مشترکہ مشقوں کا دائرہ کار مزید وسیع کرنا۔دفاعی پیداواور میں شراکت: پاکستان کی ابھرتی ہوئی دفاعی صنعت اور ہتھیاروں کی تیاری کی صلاحیت سے کویت کی عسکری ضرورتوں کو پورا کرنا۔تکنیکی و انجینئرنگ سپورٹ: کویت کے سیکیورٹی اور دفاعی بنیادی ڈھانچے کو تکنیکی ماہرین کی فراہمی۔پاکستان اور کویت کے دیرینہ دفاعی تعلقات کا پس منظرپاکستان اور کویت کے مابین دفاعی شعبے میں تعاون کی ایک طویل اور درخشاں تاریخ ہے۔ خلیج کی جنگ (1990-1991) اور اس کے بعد کے دور میں پاکستانی مسلح افواج، بالخصوص پاک فوج کے انجینئرز نے کویت میں مائن کلیئرنس اور تباہ حال بنیادی ڈھانچے کی بحالی میں تاریخی کردار ادا کیا تھا، جسے کویت کی حکومت اور عوام آج بھی قدر کی نگاه سے دیکھتے ہیں۔اس کے علاوہ، دہائیوں سے پاکستانی عسکری ماہرین، ڈائریکٹوریٹ آف ملٹری ٹریننگ، اور طبی و تکنیکی عملہ کویتی دفاعی اداروں میں اپنی خدمات سرانجام دیتا رہا ہے۔ کویتی وزیر دفاع کے اس موجودہ دورے کو اسی تاریخی تسلسل کی تجدید اور اکیسویں صدی کے نئے سیکیورٹی چیلنجز کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔علاقائی سیکیورٹی صورتحال اور مشترکہ چیلنجزملاقات کے دوران دونوں وفود نے صرف دوطرفہ تعلقات پر ہی بات نہیں کی بلکہ مشرقِ وسطیٰ، خلیجی خطے اور جنوبی ایشیا کی مجموعی امن و امان کی صورتحال پر بھی گہرے خلوص کے ساتھ تبادلہ خیال کیا۔ خصوصاً خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، maritime security (سمندری حدود کے تحفظ) اور بین الاقوامی دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمتِ عملی پر مفصل گفتگو ہوئی۔علاقائی امن کے لیے مشترکہ اہداف:شعبہپاکستان کا موقفکویت کا موقفخلیجی خطے کا امنخلیجی ممالک کی سلامتی اور خودمختاری کو پاکستان اپنی سلامتی سمجھتا ہے۔خلیج میں استوار امن و امان کے لیے پاکستان کے کلیدی کردار کا اعتراف۔دہشت گردی کا خاتمہسرحد پار سے جاری سیکیورٹی خطرات کا مقابلہ مشترکہ انٹیلی جنس سے ممکن ہے۔دہشت گردی کے خلاف پاک افواج کی قربانیوں اور کامیابیوں کی پذیرائی۔سمندری حدود کا تحفظبحیرہ عرب اور خلیجِ فارس میں تجارتی راستوں کو محفوظ بنانے کے لیے تعاون۔پاکستان نیوی کی علاقائی بحری سیکیورٹی پیٹرولنگ کی حمایت۔دفاعی صنعت اور ٹیکنالوجی کی منتقلی میں پیش رفتاس ملاقات کا ایک اور انتہائی اہم پہلو پاکستان کی دفاعی پیداواری صنعت (Defense Production Sector) میں دونوں ممالک کی متوقع پیش رفت ہے۔ پاکستان ڈیفنس ایکسپو (IDEAS) اور دیگر بین الاقوامی نمائشوں کے ذریعے پاکستان نے ملکی سطح پر تیار کردہ دفاعی آلات، جی ایف-17 تھنڈر طیاروں، ٹینکوں اور جدید چھوٹے ہتھیاروں کی صلاحیت کا لوہا منوایا ہے۔کویتی وفد نے پاکستان کی دفاعی پیداواور کی ترقی میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔ کویتی چیف آف جنرل اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل خالد دراج سعد الشریحان نے پاکستانی عسکری اداروں کے دورے کے دوران پاک افواج کے اعلیٰ ترین پیشہ ورانہ معیار اور تکنیکی مہارت کی تعریف کی۔ دفاعی ماہرین کے مطابق اس دورے کے نتیجے میں آنے والے دنوں میں دونوں ممالک کے درمیان اہم دفاعی معاہدے (Defense Pacts) اور آلات کی خریدو فروخت متوقع ہے۔سیاسی و معاشی اثرات اور آئندہ کا لائحہ عملکویت اور پاکستان کے درمیان عسکری اور دفاعی سطح پر بڑھتی ہوئی یہ ہم آہنگی نہ صرف سیکیورٹی بلکہ دونوں ممالک کے معاشی اور سیاسی تعلقات پر بھی انتہائی مثبت اثرات مرتب کرے گی۔ پاکستان کی موجودہ معاشی حکمتِ عملی کے تحت خلیجی ممالک کے ساتھ “سپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل” (SIFC) کے ذریعے بھی سرمایہ کاری کو فروغ دیا جا رہا ہے، اور دفاعی سفارت کاری اس مقصد کو حاصل کرنے میں ایک بہترین بنیاد فراہم کرتی ہے۔مستقبل کے مثبت اثرات:سفارتی استحکام: دونوں ممالک کے بین الاقوامی فورمز (او آئی سی، اقوامِ متحدہ) پر ایک دوسرے کی کی حمایت کا اعادہ۔افرادی قوت کے لیے مواقع: کویت کے دفاعی اور طبی شعبے میں پاکستانی ہنر مندوں کے لیے روزگار کے نئے روزن کھلنا۔اسٹریٹجک شراکت داری: خطے میں توازنِ برقرار رکھنے اور بحرانوں کے حل کے لیے مضبوط حکمتِ عملی کا قیام۔گورنر، وزراء اور عسکری قیادت کا ماننا ہے کہ اس اعلٰی سطحی وزارتی و عسکری ملاقات سے دونوں ممالک کے برادرانہ تعلقات ایک نئے دور میں داخل ہوں گے۔ ملاقات کے اختتام پر یادگاری شیلڈز کا تبادلہ کیا گیا اور دونوں جانب سے دوطرفہ ملاقاتوں کے اس تسلسل کو جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔About The Author حنا خانحنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ See author's posts Post navigationسان فرنانڈو ویلی میں خواتین کی ملکیت میں قائم اومنیا ویلنس سینٹر کی پروقار افتتاح، اینسینو کی کمیونٹی کا پرجوش استقبال