Preloader
Punjab started artificial intelligence Scanner

اہم نکات:

  • جدید ترین طبی ٹیکنالوجی: وزیراعلیٰ پنجاب نے صوبے کے سرکاری ہسپتالوں میں مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) پر مبنی جدید اسکیننگ سسٹم متعارف کرانے کا بڑا فیصلہ کر لیا۔
  • تیز رفتار اور جامع تشخیص: جدید ‘اے آئی اسکینر’ کے ذریعے صرف 2 منٹ کے قلیل وقت میں 10 مختلف پیچیدہ بیماریوں اور صحت کے خطرات کی بروقت تشخیص ممکن ہو سکے گی۔
  • کینسر اور دل کے امراض کی اسکریننگ: یہ ٹیکنالوجی جگر، معدے، لبلبے، غذائی نالی، بڑی آنت اور شہ رگ کے کینسر کے علاوہ دل اور خون کی شریانوں سے متعلق امراض کی پیشگی نشاندہی کرے گی۔
  • عوامی صحت پر انقلابی اثرات: بروقت تشخیص کے باعث کینسر اور دیگر مہلک امراض سے ہونے والی اموات میں نمایاں کمی اور غریب مریضوں کے لیے مہنگے ٹیسٹوں کے اخراجات سے نجات ممکن ہو گی۔
  • پنجاب کے شعبہ صحت میں انقلابی قدم

لاہور (خاص رپورٹ) حکومتِ پنجاب نے صوبے کے عوام کو عالمی معیار کی صحت کی سہولیات فراہم کرنے کی جانب ایک تاریخی اور انقلابی پیش رفت کی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے شعبہ صحت کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ہسپتالوں میں “اے آئی پاورڈ اسکینر” (AI-Powered Scanner) متعارف کرانے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) سے لیس یہ جدید طبی نظام محض دو منٹ کی مختصر مدت میں انسان کے اندرونی اعضاء کی باریک بینی سے جانچ کر کے 10 مہلک اور پیچیدہ بیماریوں کی تشخیص کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

صوبائی حکومت کے اس اقدام کو پنجاب کے طبی شعبے میں ایک بڑا بریک تھرو قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے نہ صرف مہلک بیماریوں کی ابتدائی مرحلے میں نشاندہی ممکن ہو سکے گی بلکہ مریضوں کو طویل اور مہنگے تشخیص کے مرحلے سے بھی نجات ملے گی۔

مصنوعی ذہانت اور جدید طبی اسکیننگ: ٹیکنالوجی کیسے کام کرے گی؟

دنیا بھر میں طبی سائنس میں مصنوعی ذہانت کے استعمال سے علاج اور تشخیص کے طریقے تیزی سے بدل رہے ہیں۔ حکومتِ پنجاب کی جانب سے اپنائی جانے والی اس جدید ‘اے آئی پاورڈ اسکیننگ’ ٹیکنالوجی میں جدید الگورتھمز اور ہائی ڈیفینیشن امیجنگ کا استعمال کیا جاتا ہے۔

یہ اسکینر مریض کے جسم کا گہرا جائزہ لیتے ہوئے انتہائی باریک تبدیلیوں، رسولیوں، شریانوں میں رکاوٹ اور ہڈیوں کی کثافت میں غیر معمولی تبدیلیوں کا پتہ لگاتا ہے۔ روایتی رپورٹس کی تیاری میں جہاں کئی دن یا ہفتے درکار ہوتے تھے، وہاں یہ اے آئی سسٹم صرف 120 سیکنڈز (2 منٹ) کے اندر تمام اعضاء کا ڈیٹا پروسیس کر کے جامع اور دقیق طبی رپورٹ مرتب کر دیتا ہے۔ اس سے ہسپتالوں میں ڈاکٹروں پر مریضوں کے دباؤ کو کم کرنے اور فوری طبی امداد کی فراہمی میں مدد ملے گی۔

10 مہلک بیماریوں اور صحت کے خطرات کی تفصیلات

وزارتِ صحت پنجاب کے مطابق یہ اے آئی اسکینر خاص طور پر ان بیماریوں کی اسکریننگ کے لیے تیار کیا گیا ہے جن کی تاخیر سے تشخیص اکثر مریض کے لیے جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔

اس سسٹم کے ذریعے درج ذیل 10 اہم ترین بیماریوں اور بافتی خطرات کا تجزیہ ممکن ہوگا:

  • 1. جگر کا کینسر (Liver Cancer): جگر میں ابتدائی خلیاتی تبدیلیوں اور نادیدہ رسولیوں کی بروقت شناخت۔
  • 2. معدے کا کینسر (Stomach Cancer): معدے کی اندرونی جھلی کی غیر معمولی ساخت اور السری کینسر کی نشاندہی۔
  • 3. لبلبے کا کینسر (Pancreatic Cancer): لبلبے میں پائے جانے والے نادیدہ نقائص جو روایتی الٹراساؤنڈ سے نظر نہیں آتے۔
  • 4. غذائی نالی کا کینسر (Esophageal Cancer): گلے اور معدے کو جوڑنے والی نالی میں کینسر کی علامات کا جائزہ۔
  • 5. بڑی آنت کا کینسر (Colon Cancer): آنتوں کے اندرونی نظام میں رسولیوں یا پولیپس کی پیشگی اسکریننگ۔
  • 6. شہ رگ کا کینسر (Aortic Malignancies): جسم کی مرکزی شریان (Aorta) کے ارد گرد یا اندرونی ساختی نقائص کا تجزیہ۔
  • 7. دل اور شریانوں کے امراض (Cardiovascular Risks): دل کی نالیوں کی تنگی، اینجائنا اور ہارٹ اٹیک کے ممکنہ خطرات کا پیشگی جائزہ۔
  • 8. جگر پر چربی (Fatty Liver Disease): جگر میں چربی کی سطح، سوزش اور اس کے سبب ہونے والے جگر کے سکڑاؤ کی نشاندہی۔
  • 9. عضلات اور چربی کا تناسب (Muscle & Body Fat Health): پٹھوں کی مضبوطی اور جسمانی چربی کی صحت بخش تقسیم کا سائنسی مطالعہ۔
  • 10. ہڈیوں کی کمزوری (Osteoporosis & Bone Density): ہڈیوں کے بربرے پن کی بروقت تشخیص، علاج کے پلان اور مینجمنٹ میں معاونت۔

پنجاب میں صحت کی موجودہ صورتحال اور نئے اقدام کی ضرورت

پاکستان بالخصوص پنجاب میں کینسر، دل کے عوارض اور جگر کے امراض کی شرح میں گزشتہ چند دہائیوں کے دوران تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق ہمارے ہاں اموات کی ایک بڑی وجہ بیماری کی دیر سے تشخیص ہونا ہے۔

اکثر مریض کینسر یا دل کے عوارض کے آخری مراحل (Stage 3 یا 4) میں ہسپتال کا رخ کرتے ہیں، جب بیماری کا مکمل علاج ناممکن یا انتہائی دشوار ہو چکا ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان کی ایک بڑی آبادی پرائیویٹ لیبارٹریوں اور سٹی اسکین جیسے مہنگے ٹیسٹوں کے اخراجات اٹھانے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔

وزیراعلیٰ پنجاب کا اے آئی اسکینر متعارف کرانے کا فیصلہ اس تمام صورتحال کے تناظر میں ایک سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے۔ اس سے غریب اور متوسط طبقے کو سرکاری ہسپتالوں کی چھت تلے مفت یا انتہائی کم قیمت پر عالمی معیار کی تشخیص دستیاب ہوگی۔

عوامی صحت پر دور رس اثرات اور فوائد

طبی ماہرین، کینسر اسپیشلسٹس اور سرجنز نے حکومتِ پنجاب کے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے صحت عامہ کے شعبے میں انقلابی پیش رفت قرار دیا ہے۔ اس منصوبے کے ممکنہ اثرات درج ذیل ہیں:

  1. اموات کی شرح میں کمی: کینسر اور دل کی بیماریوں کی اگر پہلے مرحلے (Early Stage) میں ہی نشاندہی ہو جائے تو مریض کے صحتیاب ہونے کے امکانات 80 سے 90 فیصد تک بڑھ جاتے ہیں۔
  2. علاج کے اخراجات میں بچت: ابتدائی مرحلے پر بیماری پر قابو پانے سے مریض اور حکومت دونوں کو کیموتھراپی، ریڈی ایشن اور پیچیدہ سرجریوں پر ہونے والے لاکھوں روپے کے اخراجات سے بچایا جا سکے گا۔
  3. ہسپتالوں کی کارکردگی میں بہتری: 2 منٹ کی تیز رفتار اسکریننگ سے ہسپتالوں میں طویل قطاروں اور مہینوں بعد کی ٹیسٹنگ ڈیٹس کا خاتمہ ہوگا، جس سے ایمرجنسی اور او پی ڈی بلاکس میں رش کم ہوگا۔

مستقبل کا لائحہ عمل اور عمل درآمد کا طریقہ کار

ذرائع کے مطابق یہ جدید اے آئی اسکیننگ سسٹم پہلے مرحلے میں صوبے کے بڑے ٹیچنگ اور ٹرشری کیئر ہسپتالوں (مثلاً راولپنڈی، لاہور، ملتان اور فیصل آباد) میں نصب کیے جائیں گے، جس کے بعد اس کا دائرہ کار ضلع اور تحصیل کی سطح کے ہسپتالوں تک بڑھایا جائے گا۔

حکومتِ پنجاب اس منصوبے کی کامیابی کے لیے ریڈیولوجسٹس، آنکولوجسٹس اور تکنیکی عملے کو جدید ترین سافٹ ویئر آپریشنز سے متعلق خصوصی تربیت بھی فراہم کرے گی۔ طبی برادری پرامید ہے کہ اگر اس منصوبے پر مکمل شفافیت اور تسلسل کے ساتھ عمل درآمد کیا گیا تو یہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے میں پبلک ہیلتھ سیکٹر کے لیے ایک مثال بن جائے گا۔

About The Author

Hina Khan

By حنا خان

حنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔

Glimpse of Cricket بشیر بلور پشاور جلسہ Ambani showing Vantra to Messi Pakistan U-19 The Asian Champion Jobs 14 Dec 2025