اہم نکات:دھوکہ دہی اور آن لائن رابطہ: آسٹریلین ترانسجینڈر (خواجہ سرا) کو شادی اور آسٹریلیا منتقل ہونے کے جھانسے میں پاکستان بلا کر مالی لوٹ مار کی گئی۔جعلی نکاحنامہ اور قانونی پیچیدگیاں: مبینہ طور پر بغیر تصدیق کے جعلی دستاویزات اور نکاحنامے کی بنیاد پر قانونی الجھنیں پیدا کی گئیں۔مالی نقصان: متاثرہ غیر ملکی شہری کے مطابق اس سے مختلف بہانوں سے تقریباً 4 کروڑ روپے کی رقم منتقل کروائی گئی۔قانونی کارروائی: لاہور پولیس نے مقدمہ درج کر کے مرکزی ملزم، اس کے والد اور نکاح خوان کے خلاف تحقیقات اور گرفتاریوں کا عمل شروع کر دیا ہے۔لاہور (خاص رپورٹ) بیرون ملک منتقل ہونے کی خواہش، جلدی پیسہ کمانے کی ہوس اور اخلاقی و قانونی حدود کی پامالی کا ایک انتہائی افسوسناک اور انوکھا واقعہ سامنے آیا ہے۔ لاہور میں پولیس نے ایک ایسے گروہ اور مرکزی ملزم کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے جس نے آسٹریلیا کی ویزا حاصل کرنے اور کروڑوں روپے بٹورنے کی غرض سے ایک غیر ملکی ترانسجینڈر (خواجہ سرا) شہری کو شدید دھوکے، حبس بے جا اور مالی نقصان کا نشانہ بنایا۔پولیس کی ابتدائی رپورٹ اور خاتون پولیس افسر کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق، کہانی کا مرکزی کردار خالد نامی شخص ہے جس نے سوشل میڈیا کے ذریعے آسٹریلیا کے ایک خواجہ سرا سے دوستی قائم کی اور پھر اسے مختلف تحائف، وعدوں اور شادی کے خواب دکھا کر پاکستان آنے پر آمادہ کیا۔سوشل میڈیا سے پاکستان آمد تک: سنسنی خیز پس منظرمتاثرہ غیر ملکی شہری اور پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ سلسلہ تقریباً دو سال قبل آن لائن پلیٹ فارمز پر شروع ہوا تھا۔ ملزم خالد نے آسٹریلیا کی شہریت اور وہاں کی مقیمت حاصل کرنے کے مقصد سے مذکورہ فرد کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کیے اور مسلسل رابطے میں رہا۔جب تعلقات مضبوط ہوئے تو ملزم نے شادی کی تجویز پیش کرتے ہوئے اسے پاکستان آنے کی دعوت دی۔ غیر ملکی شہری، جو ملزم کی باتوں پر مکمل بھروسہ کر چکا تھا، پاکستان پہنچا۔ یہاں ملزم نے اسے کچھ عرصے کے لیے کرائے کے ایک مکان میں رکھا اور بعد ازاں مبینہ طور پر مقامی قانونی و مذہبی تقاضوں کی آڑ میں ایک نکاح انجام دیا گیا۔جعلی نکاحنامہ اور ضوابط کی پامالیتفتیش کے مطابق اس کیس میں سب سے اہم موڑ وہ تھا جب نکاح کے وقت متعلقہ قوانین اور دستاویزات کی چھان بین کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا۔نکاح خوان اور گواہان کا کردار: الزام ہے کہ نکاح خوان اور گواہوں نے مالی فائدے کے عوض بغیر کسی تصدیق کے دستاویزات تیار کیں۔قانونی الجھن: غیر ملکی شہری پاکستان میں بطور ترانسجینڈر داخل ہوا تھا، جبکہ دستاویزات میں اسے خاتون ظاہر کر کے قانونی سقم پیدا کیے گئے۔سفری دستاویزات کا مسئلہ: جب ملزم خالد نے اس رشتے کی بنیاد پر آسٹریلیا کا ویزا حاصل کرنے کی کوشش کی، تو پاسپورٹ اور قانونی ریکارڈ میں موجود تضاد کے باعث آسٹریلین سفارتی عملے اور پاکستانی حکام کی جانب سے شدید قانونی اعتراضات اٹھائے گئے۔مالی لوٹ مار اور حبس بے جا:ویزے کے عمل میں رکاوٹیں آنے کے بعد ملزم خالد کا رویہ تبدیل ہونا شروع ہو گیا۔ جب اسے اندازہ ہوا کہ آسٹریلیا جانا فوری طور پر ممکن نہیں، تو اس نے غیر ملکی شہری کی بینک رقم اور دیگر اثاثوں کو ہدف بنایا۔متاثرہ فرد کے مطابق اور پولیس ریکارڈ کے تحت کیس کے اہم اعداد و شمار درج ذیل ہیں:مجموعی مالی نقصان: تقریباً 4 کروڑ روپے جو مختلف بینک ٹرانسفرز اور نقد شکل میں منتقل کروائے گئے۔حبس بے جا کی مدت: متعدد ہفتوں تک ایک محدود مکان میں قید رکھا گیا تاکہ وہ کسی سے رابطہ نہ کر سکے یا پولیس تک نہ پہنچ سکے۔کیس کی مدت: یہ پوری کہانی اور دھوکہ دہی کا سلسلہ تقریباً 2 سال کے عرصے پر محیط رہا۔قید سے فرار اور پولیس کا تحرککئی ہفتوں تک قید رہنے اور اپنے اکاؤنٹ سے رقم منتقل ہونے کے بعد، متاثرہ غیر ملکی شہری کسی طرح ملزم کی تحویل سے نکلنے میں کامیاب ہوا اور لاہور کے متعلقہ پولیس اسٹیشن پہنچ کر اپیل دائر کی۔لاہور پولیس کی خاتون افسر نے میڈیا کو بتایا کہ معاملے کی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری طور پر انکوائری کا حکم دیا گیا۔ متاثرہ شخص کے بیان، بینک سٹیٹمنٹس اور دیگر ثبوتوں کا جائز جائزہ لینے کے بعد کارروائی تیز کر دی گئی ہے۔مقدمہ درج، گرفتاریوں کا سلسلہ اور موجودہ صورتحالپولیس نے کارروائی کرتے ہوئے مرکزی ملزم خالد، اس کے والد اور اس غیر قانونی نکاح میں ملوث نکاح خوان کے خلاف مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔گرفتاریاں: کیس میں نامزد کچھ افراد کو حراست میں لے کر تفتیش شروع کر دی گئی ہے جبکہ مرکزی ملزم سے مزید برآمدگی کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔رقم کی واپسی: متاثرہ غیر ملکی شہری نے حکام سے اپیل کی ہے کہ اس کی لوٹی گئی رقم واپس کروائی جائے اور ملوث عناصر کو سخت سے سخت سزا دی جائے۔سفارتی رابطہ: معاملے میں غیر ملکی شہری کے ملوث ہونے کے باعث متعلقہ سفارتی ذرائع کو بھی آگاہ کیا جا رہا ہے تاکہ قانونی کارروائی شفاف طریقے سے مکمل ہو سکے۔اخلاقی اور قانونی اثراتیہ واقعہ جہاں آن لائن دوستی اور جعلی شادیوں کے ذریعے ہونے والے فراڈ کی عکاسی کرتا ہے، وہیں یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور نکاح کے رجسٹرڈ اداروں کو دستاویزات کی پڑتال کے معاملے میں کتنا محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمے کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا تاکہ مستقبل میں کوئی شخص بیرون ملک جانے یا پیسے کمانے کے لیے ایسے غیر قانونی اور شرمناک ہتھکنڈے استعمال نہ کر سکے۔About The Author حنا خانحنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ See author's posts Post navigationپشاور میں بڑا پولیس مقابلہ: تین صوبوں اور اسلام آباد پولیس کو مطلوب ‘میجر گینگ’ کے 4 ملزمان ہلاک، 2 فرار سرحد یونیورسٹی واقعہ: تعلیمی بدعنوانی، ہراسانی کے الزامات اور بپھرے ہجوم کا تصادم — تفصیلات سامنے آ گئیں