Preloader
CDF visit Wah ordinance factory

اہم نکات:

  • اعلیٰ سطح کا دورہ: آرمی چیف نے ملک کے سب سے بڑے دفاعی صنعتی کمپلیکس ‘پاکستان آرڈننس فیکٹریز’ (POF) واہ کا دورہ کیا اور پیداواری صلاحیتوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔
  • ٹیسٹ اور ٹرائلز کا مشاہدہ: مقامی طور پر ڈیزائن اور تیار کردہ جدید ہتھیاروں، اسلحہ و گولہ بارود کے ٹیسٹ اور ٹرائلز کا براہ راست مشاہدہ کیا۔
  • صنعتی توسع: دفاعی پیداوری صلاحیت اور برآمدی استعداد میں اضافے کے لیے 2 نئے صنعتی پلانٹس قائم کیے جا رہے ہیں جو رواں سال کے اختتام تک پیداوار کا آغاز کر دیں گے۔
  • اصلاحات اور کارپوریٹائزیشن: ڈی آئی پی آر اے (DIPRA) آرڈیننس کے نفاذ کے بعد پی او ایف کی کارپوریٹائزیشن اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ میں ہونے والی پیش رفت پر تفصیلی بریفنگ۔
  • آرمی چیف کا پاکستان آرڈننس فیکٹریز واہ کا دورہ

راولپنڈی / واہ کینٹ (خاص رپورٹ) پاکستان کو دفاعی پیداوار میں مکمل خود انحصاری کی طرف گامزن کرنے اور ملکی مصنوعات کی بین الاقوامی مارکیٹ میں برآمدی استعداد کو بڑھانے کے لیے اقدامات تیز کر دیے گئے ہیں۔ اس سلسلے میں پاک فوج کے اعلیٰ ترین سپہ سالار نے ملک کی سب سے بڑی اور اہم دفاعی صنعتی تنصیب ‘پاکستان آرڈننس فیکٹریز’ (POF) واہ کا اہم دورہ کیا۔

انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق اس اعلیٰ سطحی دورے کا بنیادی مقصد پی او ایف کی پیداواری صلاحیتوں، تحقیق و ترقی (R&D)، تکنیکی جدت، اور ملکی دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے اٹھائے گئے جدید اقدامات کا جامع جائزہ لینا تھا۔

پیداواری صلاحیتوں اور جدید اسلحے کے ٹرائلز کا مشاہدہ

دورے کے دوران آرمی چیف کو پی او ایف واہ کی موجودہ پیداواری صلاحیتوں اور ملکی مسلح افواج کی ضروریات پورا کرنے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

انہوں نے مقامی طور پر ڈیزائن اور تیار کیے جانے والے جدید روایتی اسلحہ، ہلکے و بھاری ہتھیاروں، اور مختلف کیلیبر کے گولہ بارود کے ٹیسٹ اور ٹرائلز کا خود مشاہدہ کیا۔ اس موقع پر تکنیکی ماہرین اور انجینئرز نے آرمی چیف کو مختلف ہتھیاروں کی درستگی، پائیداری اور جدید جنگی تقاضوں سے ہم آہنگی سے متعلق آگاہ کیا۔

آرمی چیف نے اعلیٰ معیار اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس دفاعی سازوسامان کی مقامی سطح پر تیاری میں پی او ایف کے انجینئرز، تکنیکی عملے اور بالخصوص تحقیق و ترقی سے منسلک ٹیموں کی خدمات کو سراہا۔

ڈی آئی پی آر اے آرڈیننس اور کارپوریٹائزیشن کا نیا موڑ

آئی ایس پی آر کے مطابق دورے کے دوران آرمی چیف کو DIPRA (پاکستان آرڈننس فیکٹریز کی ازسرنو تنظیم و جدید کاری) آرڈیننس کے نفاذ کے بعد ادارے کی کارپوریٹائزیشن کے عمل میں ہونے والی پیش رفت سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا گیا۔

پی او ایف میں جاری انتظامی و تکنیکی اصلاحات کی اہم تفصیلات درج ذیل ہیں:

  • جدید انتظامی ڈھانچہ: روایتی بیوروکریٹک انداز کے بجائے ادارے کو جدید کارپوریٹ اصولوں پر استوار کرنا تاکہ فیصلوں میں تیزی لائی جا سکے۔
  • تحقیق و عدم (R&D) کا فروغ: عالمی معیار کے دفاعی تجربہ گاہوں کی قائم کاری اور مقامی سائنسدانوں کے لیے مواقع۔
  • بین الاقوامی برآمدات (Exports): دوست ممالک اور عالمی منڈیوں میں پاکستانی دفاعی مصنوعات کی برآمدات کو بڑھانا تاکہ قومی خزانے کو زرمبادلہ حاصل ہو سکے۔
  • پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ: مقامی صنعتی شعبے کو دفاعی پیداوار کی سپلائی چین میں شامل کرنا۔

دو نئے صنعتی پلانٹس کی تنصیب: پیداوار میں بڑا اضافہ

پی او ایف واہ کی توسیعی منصوبوں سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے حکام نے بتایا کہ دفاعی پیداوار کو مزید وسعت دینے اور جدید ٹیکنالوجی کو تیزی سے منتقل کرنے کے لیے دو نئے جدید صنعتی پلانٹس قائم کیے جا رہے ہیں۔

ان نئے پلانٹس کے حوالے سے اہم اعداد و شمار اور تکنیکی تفصیلات درج ذیل ہیں:

  • تخمیناتی شروعات: دونوں صنعتی پلانٹس کے رواں سال کے اختتام تک باقاعدہ پیداوار کا آغاز کرنے کا امکان ہے۔
  • مقامی ٹیکنالوجی کی انتقال پذیری: جدید مشینری کے ذریعے ہائی ٹیک ہتھیاروں اور سمارٹ ایمونیشن (Smart Ammunition) کی مقامی تیاری۔
  • برآمدی استعداد میں اضافہ: نئے پلانٹس فعال ہونے سے پی او ایف کی بین الاقوامی منڈیوں میں ہتھیار اور گولہ بارود فراہم کرنے کی صلاحیت دوگنی ہو جائے گی۔

پاکستان آرڈننس فیکٹریز کا تاریخی پس منظر اور دفاعی اہمیت

پاکستان آرڈننس فیکٹریز (POF) کی بنیاد قیامِ پاکستان کے فوراً بعد 1951 میں رکھی گئی تھی اور یہ ملک کا سب سے بڑا دفاعی صنعتی ادارہ ہے۔ واہ کینٹ میں قائم اس کمپلیکس میں 14 سے زائد مختلف فیکٹریاں اور متعدد معاون ادارے کام کر رہے ہیں، جو پاکستان کی بری، بحری اور فضائی فورسز کے لیے ہر قسم کے روایتی ہتھیار، بم، گرانائیڈ، اور گولہ بارود تیار کرتے ہیں۔

ماضی میں پاکستان کو اپنی دفاعی ضروریات کے لیے مکمل طور پر بیرون ملک پر انحصار کرنا پڑتا تھا، لیکن پی او ایف کی مسلسل جدت کے باعث آج پاک فوج کی روایتی ہتھیاروں کی زیادہ تر ضروریات مقامی سطح پر پوری کی جا رہی ہیں۔ عالمی سیاسی صورتحال اور علاقائی سیکیورٹی چیلنجز کے تناظر میں پی او ایف کی خود انحصاری کی پالیسی ملکی سلامتی کا اہم ستون ثابت ہوئی ہے۔

خود انحصاری اور تکنیکی خودکفالت کا قومی عزم

آرمی چیف کا یہ دورہ پاکستان کے دفاعی شعبے میں “بیرونی انحصار ختم کرنے” کی جامع پالیسی کا حصہ ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق موجودہ دور میں وہی ممالک اپنے استقلال اور خودمختاری کا دفاع کر سکتے ہیں جو اپنے دفاعی سازوسامان کی تیاری میں خود کفیل ہوں۔

دورے کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ پاکستان اپنی دفاعی صلاحیتوں کو نہ صرف مقامی ضروریات کے مطابق ہم آہنگ رکھے گا بلکہ خطے اور عالمی منڈی میں ایک معیاری، قابلِ اعتماد اور جدید دفاعی مصنوعات تیار کرنے والے ملک کے طور پر ابھرے گا۔ پی او ایف واہ میں جاری جدت، نئے پلانٹس کی تنصیب اور کارپوریٹائزیشن کا یہ عمل ان مقاصد کے حصول میں اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔

About The Author

Hina Khan

By حنا خان

حنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔

Glimpse of Cricket بشیر بلور پشاور جلسہ Ambani showing Vantra to Messi Pakistan U-19 The Asian Champion Jobs 14 Dec 2025