اہم نکات (خلاصہ)تاریخی کامیابی: ہوائی سے تعلق رکھنے والی چار خواتین نے مائیکرونیشیائی سمندری روایت میں پہلی بار ’پوو‘ (Pwo) یعنی “ماسٹر نیویگیٹر” کا مقدس ترین درجہ حاصل کر کے نئی تاریخ رقم کر دی ہے۔بغیر جدید آلات کی سائر و سیاحت: جدید ترین جی پی ایس (GPS) یا قطب نما کے بغیر یہ خواتین ستاروں، بادلوں کے پیٹرن اور سمندری لہروں کے دباؤ کو محسوس کرتے ہوئے کھلے سمندر میں ہزاروں میل کا سفر طے کرتی ہیں۔صدیوں پرانی ثقافتی قدغنوں کا خاتمہ: بحر الکاہل کی قدیم سمندری تاریخ میں خواتین کو کشتی رانی سے دور رکھا جاتا تھا، تاہم اس اعزاز نے صدیوں پرانی سماجی و ثقافتی پابندیوں کو توڑ دیا ہے۔آئندہ نسلوں کی تربیت: ماسٹر نیویگیٹرز کا یہ گرپ نہ صرف بحر الکاہل کے وسیع سمندروں کو تسخیر کر رہا ہے بلکہ ہوائی یونیورسٹی اور بحری تربیتی پروگراموں کے ذریعے نئی نسل کو بھی اس قدیم فن سے آراستہ کر رہا ہے۔سمندری رہنمائی کا قدسیہ لقب ’پوو‘ اور ایک نیا سحربحر الکاہل کے وسیع و عریض اور بے رحم پانیوں پر بغیر کسی جدید تکنیکی آلے کے سفر کرنا ایک ایسا کٹھن کام ہے جس کی مثال جدید دنیا میں ملنا مشکل ہے۔ مائیکرونیشیائی اور پولینیشیائی ثقافتوں میں اس قدیم فن کو “وی فائنڈنگ” (Wayfinding) کہا جاتا ہے۔ رواں برس ہوائی سے تعلق رکھنے والی چار خواتین نے اس روایتی فن میں مہارت کی بلند ترین سطح کو حاصل کرتے ہوئے ’پوو‘ (Pwo) کا مقدس لقب اپنے نام کر لیا ہے۔مائیکرونیشیائی روایات میں ‘پوو’ صرف ایک لقب یا عہدہ نہیں، بلکہ یہ سمندری رہنمائی کے ایک ایسے استاد کا درجہ ہے جسے قدرتی عناصر کا گہرا علم حاصل ہو اور جو اپنی قوم کی ثقافتی میراث کی حفاظت کرنے کا اہل ہو۔ تاریخ میں پہلی بار خواتین کو اس منصب پر فائز کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے انہیں جدید دور کی “موآنا” (Moana) قرار دیا جا رہا ہے۔چار جدید موآنا: تاریخ رقم کرنے والی باہمت خواتیناس تاریخی کامیابی کو حاصل کرنے والی چاروں خواتین سمندری سفر کی دنیا میں دہائیوں کا تجربہ رکھتی ہیں اور ہر ایک نے اپنے شعبے میں نمایاں کارنامے انجام دیے ہیں:کاؤلانی مرفی (Kaʻiulani Murphy): یہ پہلی خاتون ہیں جنہوں نے مشہور روایتی کشتی ‘ہوکولیا’ (Hōkūleʻa) کو تاہیتی سے ہوائی تک کے طویل سمندری راستے پر کامیابی سے گائیڈ کیا۔ وہ ہوائی یونیورسٹی میں روایتی سمندری علوم اور نیویگیشن کی تدریس کے فرائض بھی انجام دیتی ہیں۔پومائی برٹلمین (Pōmai Bertelmann): انہوں نے ہوائی اور بین الاقوامی سطح پر بحری مسافروں کے لیے تربیتی نصاب اور پروگرامز کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔شانٹیل ڈی سلوا (Shantell De Silva): تین دہائیوں (30 سال) سے زائد کا سمندری سفر کا تجربہ رکھتی ہیں اور نچلی سطح پر تربیت دینے میں مصروف ہیں۔لہوا کامالو (Lehua Kamalu): یہ تاریخ کی پہلی خاتون ہیں جنہوں نے کھلے سمندر کے ایک طویل اور دشوار گزار سفر میں ایک ساتھ ‘لیڈ کیپٹن’ اور ‘لیڈ نیویگیٹر’ دونوں ذمہ داریاں سنبھالیں۔قدغنوں سے آزادی: جب خواتین کا کشتیوں پر سوار ہونا ممنوع تھابحر الکاہل کے جزائر کی قدیم ثقافتی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ بیشتر روایتی سمندری معاشروں میں خواتین کا کشتیوں یا بحری جہازوں پر سفر کرنا ممنوع سمجھا جاتا تھا یا اسے ایک معاشرتی عیب (Taboo) گردانا جاتا تھا۔ نیویگیشن کو محض مردوں کی اجارہ داری سمجھا جاتا تھا اور یہ علم نسل در نسل صرف مردوں کو منتقل کیا جاتا تھا۔ان چاروں خواتین کی ’پوو‘ بننے کی رسم نے نہ صرف اس قدیم تعصب کو ختم کر دیا ہے بلکہ سمندر پر گہرے سفر کرنے کی خواہش رکھنے والی تمام خواتین کے لیے راستے کھول دیے ہیں۔ یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ روایات وقت کے ساتھ ساتھ خود کو مثبت تبدیلیوں کے مطابق ڈھال سکتی ہیں۔جی پی ایس کے بغیر راستہ تلاش کرنے کا راز: قدرتی فنیہ ماسٹر نیویگیٹرز جدید سائنس پر انحصار کرنے کے بجائے فطرت کے اشاروں کو پڑھ کر اپنے جہازوں کی سمت متعین کرتی ہیں۔ ان کی نیویگیشن میں درج ذیل قدرتی ذرائع کا استعمال کیا جاتا ہے:قدرتی ذریعہاستعمال کا طریقہ کارستاروں کا پیٹرنرات کے وقت آسمان پر ستاروں کے طلوع اور غروب ہونے کے زاویوں سے سمت کا تعین۔سمندری لہریں (Swell)بغیر دیکھے، صرف کشتی کی حرکت اور جسم پر لہروں کے دباؤ کو محسوس کر کے راستے کا اندازہ لگانا۔بادلوں کی رنگت و شکلجزائر کی موجودگی اور فاصلے کو سمجھنے کے لیے بادلوں کی نیچے سے رنگت اور پرندوں کی پرواز کا مشاہدہ۔ہوا کا دباؤموسمیاتی تبدیلیوں اور طوفانوں کی پیش گوئی کے لیے ہوا کے رخ کو سمجھنا۔‘کولینا’: محض ایک عہدہ نہیں، بلکہ ایک مقدس ذمہ دارینئی ماسٹر نیویگیٹر کاؤلانی مرفی کا کہنا ہے کہ ’پوو‘ کا لقب حاصل کرنا ان کے لیے ایک ذاتی اعزاز سے کہیں بڑھ کر ایک بڑی ذمہ داری ہے۔ ہوائی کی مقامی زبان میں اس ذمہ داری کو ‘کولینا’ (Kuleana) کہا جاتا ہے۔ایک فون انٹرویو کے دوران بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا:“پوو بننا سفر کا اختتام نہیں بلکہ یہ اس طویل سفر کا اگلا فیز (مرحلہ) ہے۔ یہ ایک ایسی مقدس ذمہ داری ہے جس کا مقصد صرف اپنے لیے علم حاصل کرنا نہیں، بلکہ اس روایتی علم کو محفوظ رکھنا اور اگلی نسل کو بحفاظت منتقل کرنا ہے۔”کاؤلانی مرفی اس وقت ہوائی یونیورسٹی میں نوجوانوں کو اس قدیم فن کی تربیت دے رہی ہیں تاکہ ٹیکنالوجی کے اس دور میں بھی یہ قدیم اور قیمتی انسانی علم زندہ رہ سکے۔مستقبل کے اثرات اور نئی نسل کی تربیتچاروں ہوائی خواتین کو ’پوو‘ تفویض کیے جانے کا اثر محض ایک تقریب تک محدود نہیں رہے گا۔ اس قدم کے پائیدار اثرات درج ذیل صورتوں میں سامنے آ رہے ہیں:نسل نو کی بحری تربیت: پومائی برٹلمین اور شانٹیل ڈی سلوا جیسے تجربہ کار نیویگیٹرز کی بدولت اب نوجوان لڑکیوں کی ایک بڑی تعداد کو روایتی کشتی رانی اور نیویگیشن میں شامل کیا جا رہا ہے۔ثقافتی بحالی: بحر الکاہل کے جزائر کی معدوم ہوتی ہوئی ثقافت اور قدیم تکنیکوں کو عالمی سطح پر پہچان مل رہی ہے۔ماحولیاتی آگاہی: یہ روایتی طریقہ کار انسان کو سمندر اور قدرت کے قریب لاتا ہے، جس سے سمندری حیات اور ماحول کو بچانے کی شعوری کوششوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔یہ تاریخی لمحہ ثابت کرتا ہے کہ جب روایت اور مساوات کا اتحاد ہوتا ہے، تو نہ صرف پرانے تعصبات ٹوٹتے ہیں بلکہ انسانی تاریخ کے وہ خوبصورت ترین باب بھی دوبارہ زندہ ہو جاتے ہیں جو وقت کی دھند میں کہیں کھو چکے تھے۔About The Author حنا خانحنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ See author's posts Post navigationجانوی کپور کا موسمِ گرما کو خوبصورت انداز میں الوداع: انسٹاگرام پر یادگار لمحات کی تصویری جھلکیاں وائرل