اہم نکات:کیو آر کوڈ کے ذریعے فوری شکایت: نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس (NHMP) نے “ہماری آنکھیں بنیں” مہم کے تحت مسافر گاڑیوں میں کیو آر کوڈ (QR Code) اسٹیکرز چسپاں کر دیے ہیں جس سے مسافر برائے راست ڈرائیور کے خلاف شکایت درج کرا سکتے ہیں۔عوامی خود مختاری اور خاموش رپورٹنگ: مسافر اب گاڑی کے اندر سے بغیر کسی خوف یا شور شرابے کے اوور لوڈنگ، زائد کرایہ، تیز رفتاری اور بدتمیزی جیسے مسائل کی بروقت نشاندہی کر سکیں گے۔انسپکشن کی خلا کو پر کرنے کی کوشش: شاہراؤں پر چلت پھرت گاڑیوں کے اندرونی حالات کو مانیٹر کرنا پولیس کے لیے ایک بڑا چیلنج تھا، جسے مسافروں کے اس ڈیجیٹل انضمام سے آسان بنایا جا رہا ہے۔نظام کی کامیابی کا امتحان: مہم کی پائیداری اور افادیت کا انحصار پولیس کے فوری ایکشن، دائرہ اختیار (Jurisdiction) کی شفاف منتقل اور وقتاً فوقتاً عوامی ڈیٹا کے افشا پر ہوگا۔اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) پاکستان کی شاہراؤں اور موٹرویز پر مسافروں کی حفاظت کو یقینی بنانے اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں پر قابو پانے کے لیے نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس (NHMP) نے ایک جدید اور انقلابی ڈیجیٹل قدم اٹھایا ہے۔ موٹروے پولیس کی جانب سے “ہماری آنکھیں بنیں” (Be Our Eyes) کے عنوان سے ایک ملک گیر بیداری مہم کا آغاز کیا گیا ہے، جس کا بنیادی مقصد سفر کے دوران مسافروں کو براہِ راست پولیس سے جوڑنا اور انہیں ڈرائیوروں کے غیر ذمہ دارانہ رویوں کے خلاف بااختیار بنانا ہے۔اس مہم کے تحت پبلک ٹرانسپورٹ گاڑیوں کے اندر اور مختلف مسافر ٹرمینلز پر کیو آر کوڈ (QR Code) کے اسٹیکرز چسپاں کیے جا رہے ہیں، جنہیں موبائل فون کے ذریعے اسکین کر کے مسافر اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافی یا خطرناک ڈرائیونگ کی فوری شکایت درج کرا سکیں گے۔کیو آر کوڈ سسٹم کیسے کام کرتا ہے اور اس کے فوائدترجمان موٹروے پولیس سید عمران احمد کے مطابق، یہ نیا نظام شاہراؤں پر مسافروں اور موٹروے پولیس کے درمیان رابطے کو انتہائی تیز، آسان اور مؤثر بنانے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔ مرکزی ریجن کے ترجمان نے وضاحت کی کہ مسافر گاڑیوں کے اندر نصب اسٹیکرز کی بدولت اب شہری اپنے سفر کے دوران درج ذیل خلاف ورزیوں پر فوری رپورٹ درج کرا سکتے ہیں:زائد کرایہ وصولی: مقررہ سرکاری نرخوں سے زیادہ کرایہ وصول کرنے کی شکایت۔اوور لوڈنگ: گاڑی میں گنجائش سے زائد مسافروں کو بٹھانا یا اضافی سامان لوڈ کرنا۔خطرناک و غیر ذمہ دارانہ ڈرائیونگ: تیز رفتاری، غلط اور خطرناک انداز میں اوور ٹیکنگ کرنا۔عملے کا نامناسب رویہ: ڈرائیور یا بس کنڈکٹر کی جانب سے مسافروں سے بدتمیزی اور غیر اخلاقی سلوک۔دیگر ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی: دورانِ ڈرائیونگ موبائل فون کا استعمال یا سستی کے باعث مسافروں کی جان جوکھم میں ڈالنا۔علاوہ ازیں، موٹروے پولیس کی معروف ہیلپ لائن 130 بھی مسافروں کی مدد، رہنمائی اور روایتی تلافی کے لیے 24 گھنٹے دستیاب رہے گی۔شاہراؤں پر روایتی نگرانی کے چیلنجز اور مسافروں کی مجبوریاںقومی شاہراؤں اور موٹرویز پر چلنے والی پبلک ٹرانسپورٹ کی نگرانی کا نظام شہری ٹریفک کے مقابلے میں بالکل مختلف اور پیچیدہ ہوتا ہے۔ ایک پٹرولنگ آفیسر سڑک پر سے تیزی سے گزرتی ہوئی کوچ کو محض چند سیکنڈ کے لیے دیکھ پاتا ہے۔باطنی حقیقت یہ ہے کہ مسافروں کی حفاظت کو سب سے زیادہ خطرہ گاڑی کے اندرونی حالات سے ہوتا ہے—مثلاً ایک ڈرائیور جو مسلسل 14 گھنٹوں سے بغیر کسی وقفے کے گاڑی چلا رہا ہو، گاڑی کے بریکس کی روانگی سے قبل جانچ نہ کی گئی ہو، یا گاڑی میں گنجائش سے زیادہ انسان ٹھونس دیے گئے ہوں۔ یہ تمام حالات صرف گاڑی کے اندر بیٹھے ہوئے مسافروں کو نظر آتے ہیں، لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ وہی مسافر ان حالات کو بدلنے کے لیے سب سے زیادہ بے بس ہوتے ہیں۔روایتی انداز میں شکایت نہ کرنے کی وجوہات:سفر کا التوا اور خوف: درمیانی سفر میں موجود مسافر اس بات سے ڈرتا ہے کہ ڈرائیور سے الجھنے کی صورت میں اسے راستے میں ہی اتار دیا جائے گا یا اس کی منزل متاثر ہوگی۔معلومات کی کمی: شہریوں کو اکثر یہ علم نہیں ہوتا کہ سڑک کے کس حصے پر کس پولیس یا ادارے کا دائرہ اختیار ہے۔گاڑی کی شناخت کا مسئلہ: تیزی سے گزرتی ہوئی گاڑی کے رجسٹریشن نمبر یا ڈرائیور کی تفصیلات نوٹ کرنا ہر مسافر کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔یہ نیا کیو آر کوڈ سسٹم ان تمام رکاوٹوں کو ایک ساتھ ختم کرتا ہے۔ گاڑی کے مخصوص کوڈ کو اسکین کرنے سے پولیس کو خود بخود گاڑی کا نمبر اور لوکیشن موصول ہو جاتی ہے، اور مسافر بالکل خاموشی سے، کسی کے ساتھ بحث کیے بغیر اپنی شکایت درج کرا سکتا ہے۔موٹروے پولیس کا ساکھ اور عوامی اعتمادپاکستان میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جب بات کی جائے تو نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس کا شمار ان چند گنے چنے اداروں میں ہوتا ہے جو عوام میں اپنی شفافیت، رشوت سے پاک کلچر اور میرٹ پر قانون کے اطلاق کی وجہ سے عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔نوے کی دہائی کے آخر میں M-2 موٹروے سے قائم ہونے والی یہ ساکھ اور آن دی اسپاٹ چالان کا نو کیش کلچر (No-Cash Transaction) اس مہم کا سب سے بڑا اثاثہ ہے۔ عوام کو یہ یقین ہوتا ہے کہ اگر وہ موٹروے پولیس کو کوئی شکایت بھیجیں گے تو اسے کوڑے دان میں پھینکنے کے بجائے اس پر سنجیدگی سے عمل درآمد کیا جائے گا۔مہم کی کامیابی کا امتحان: ایڈیٹوریل تجزیہ اور درپیش سوالاتصحافتی اور ایڈیٹوریل نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو “ہماری آنکھیں بنیں” ایک انتہائی مستحسن اور دور رس اقدام ہے، لیکن اس نظام کی پائیدار کامیابی کا دارومدار دو بنیادی باتوں پر ہوگا:1. دائرہ اختیار (Jurisdiction) کا احاطہ: موٹروے پولیس کا دائرہ اختیار صرف قومی شاہراؤں (National Highways) اور موٹرویز تک محدود ہے۔ پاکستان میں پبلک ٹرانسپورٹ اکثر صوبائی سڑکوں یا شہروں کے اندرونی راستوں سے ہوتی ہوئی موٹروے پر داخل ہوتی ہے۔ اگر ایک مسافر صوبائی حد کے اندر کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے، تو کیا اس کی شکایت آگے صوبائی ٹریفک پولیس کو بروقت منتقل کی جائے گی یا اسے “خارج” (Closed) کر دیا جائے گا؟ اس ہم آہنگی کو یقینی بنانا بے حد ضروری ہے۔2. مسلسل شکایات پر تادیبی کارروائی اور ڈیٹا کا افشا: کسی ڈرائیور کے خلاف ایک واحد شکایت صرف ایک اطلاع ہو سکتی ہے، لیکن اگر ایک ہی گاڑی یا کسی مخصوص ٹرانسپورٹ کمپنی کے خلاف بار بار شکایات موصول ہوں، تو یہ ایک سنگین پیٹرن بن جاتا ہے۔ نظام کی حقیقی افادیت اس بات میں ہے کہ موٹروے پولیس ایسے بلیک لسٹڈ اپریٹرز اور ڈرائیورز کے خلاف سخت یکمشت اقدامات کرے۔علاوہ ازیں، اگر پولیس ہر ماہ یا ہر سہ ماہی پر یہ ڈیٹا جاری کرے کہ:کتنی کیو آر کوڈ شکایات موصول ہوئیں؟کتنی گاڑیوں کے خلاف جرمانے یا پرمٹ منسوخ کیے گئے؟کتنے ڈرائیوروں کے لائسنس معطل ہوئے؟تو اس سے عوام میں یہ اعتماد مضبوط ہوگا کہ ان کے فون سے اسکین کیا گیا ایک کوڈ ضائع نہیں گیا۔ شفافیت اور جوابدہی کے اس دائرے کے بغیر، کیو آر کوڈ بھی گاڑی کی کھڑکی پر چپکے ہوئے دیگر اشتہاری اسٹیکرز کی طرح محض ایک اسٹیکر بن کر رہ جائے گا۔خلاصہ یہ کہ موٹروے پولیس نے مسافروں کو بااختیار بنا کر محفوظ سفر کی سمت ایک زبردست آغاز کیا ہے۔ اب تمام تر نظریں اس بات پر ہیں کہ پولیس کا عملہ سڑکوں پر اس عوامی ڈیٹا کا استعمال کتنی مستعدی اور سختی سے کرتا ہے۔About The Author حنا خانحنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ See author's posts Post navigationمکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ: پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کا مستقل سیکرٹریٹ کے قیام اور عسکری تعاون کی توثیق کا تاریخی اعلان