اہم نکاتبلوچستان کے اضلاع چاغی اور پشین میں سیکیورٹی فورسز کے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران 21 دہشتگردوں کو جہنم واصل کر دیا گیا۔شدید جھڑپوں کے دوران پاک فوج کے دو افسران اور چار جوانوں سمیت چھ اہلکار جامِ شہادت نوش کر گئے۔آپریشن کے دوران کسٹمز کا ایک اہلکار بھی فرض کی راہ میں شہید ہونے والوں میں شامل ہے۔عسکری ذرائع کے مطابق یہ کارروائیاں ملک میں امن و امان خراب کرنے کی سازشوں کو ناکام بنانے کے سلسلے کی ایک اہم کڑی ہیں۔تعارف اور تفصیلات بلوچستان کے دو اہم اضلاع چاغی اور پشین میں سیکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کے خلاف بھرپور اور فیصلہ کن کارروائیاں کرتے ہوئے 21 خطرناک دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق یہ کارروائیاں ملک دشمن عناصر اور ان کے سہولت کاروں کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملانے کے لیے کی گئیں۔ آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز اور دہشتگردوں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس میں بہادری کی لازوال مثالیں قائم کرتے ہوئے پاک فوج کے دو افسران اور چار جوانوں نے مادرِ وطن کے دفاع کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ اس کے علاوہ، فرض کی ادائیگی کے دوران ایک کسٹمز کا اہلکار بھی جامِ شہادت نوش کر گیا۔آپریشن کا پس منظر اور سیکیورٹی صورتحال بلوچستان طویل عرصے سے بیرونی عناصر کی پشت پناہی سے چلنے والی تخریبی کارروائیوں کا ہدف رہا ہے۔ صوبے میں پچھلے کچھ عرصے سے امن عامہ کو سبوتاژ کرنے، اقتصادی راہداری (سی پیک) کے منصوبوں کو نقصان پہنچانے اور معاشی سرگرمیوں کو کمزور کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ چاغی اور پشین کے علاقے اپنے جغرافیائی محل وقوع کے اعتبار سے انتہائی حساس مانے جاتے ہیں۔ ان علاقوں میں کالعدم تنظیمیں اور ان کے کارندے روپوش ہو کر ریاست مخالف سرگرمیوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔حالیہ انٹیلی جنس رپورٹس کی بنیاد پر سیکیورٹی فورسز نے ان علاقوں میں گھیرے تنگ کیے اور دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ عسکری حکام کے مطابق، یہ کارروائیاں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ ریاست اندرونی اور بیرونی خطرات سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور دہشتگردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے پرعزم ہے۔شہداء کی قربانیاں اور قوم کا عزم دہشتگردی کے خلاف اس جنگ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے جوانوں نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ ملکی سلامتی اور عوام کی جان و مال کی حفاظت ان کے لیے سب سے مقدم ہے۔ آئی ایس پی آر کے جاری کردہ بیان کے مطابق شہید ہونے والوں میں پاک فوج کے دو غیور افسران اور چار جوان شامل ہیں، جنہوں نے اپنی جانوں کی پرواہ کیے بغیر دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیا۔ اس کے علاوہ محکمہ کسٹمز کا ایک اہلکار بھی اس آپریشن میں شہید ہوا، جو اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ ملک کی معاشی اور سرحدی سلامتی کے اداروں کے درمیان گہرا تعاون موجود ہے۔ان شہداء کی قربانیوں نے ایک بار پھر پوری قوم کو یہ یاد دلایا ہے کہ ہمارا امن محض اتفاقی نہیں بلکہ اس کے پیچھے ہمارے سیکیورٹی اہلکاروں کا خون شامل ہے۔ حکومت اور عسکری قیادت نے شہداء کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں کو ان کے انجام تک پہنچائے بغیر چین سے نہیں بیٹھا جائے گا۔علاقے میں سرچ آپریشن اور سیکیورٹی کے سخت اقدامات چاغی اور پشین کے ان علاقوں میں جہاں یہ کارروائیاں کی گئیں، تاحال سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری تعینات ہے۔ ہلاک ہونے والے 21 دہشتگردوں کی لاشیں قبضے میں لے لی گئی ہیں جبکہ ان کے نیٹ ورک اور باقی ماندہ ساتھیوں کی تلاش کے لیے بڑے پیمانے پر کلیئرنس اور سرچ آپریشنز جاری ہیں۔مقامی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے حفاظتی انتظامات مزید سخت کر دیے ہیں۔ حساس مقامات اور شاہراہوں پر چیک پوسٹوں کی تعداد بڑھا دی گئی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ جوابی کارروائی یا تخریبی سرگرمی کو بروقت روکا جا سکے۔ ان کارروائیوں کے بعد مقامی آبادی میں بھی اطمینان کی لہر دوڑ گئی ہے اور عوام نے سیکیورٹی فورسز کے بروقت اور مؤثر اقدامات کو سراہا ہے۔معاشی اور ساسجی اثرات اس طرح کے بڑے فوجی آپریشنز کے بلوچستان کے مجموعی معاشی اور سماجی منظر نامے پر گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ صوبے میں پائیدار امن کے قیام کے بغیر ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اور غیر ملکی سرمایہ کاری کا حصول ناممکن ہے۔ جب سیکیورٹی فورسز اس طرح کے نیٹ ورکس کو ختم کرتی ہیں تو اس سے نہ صرف دہشتگردوں کی صلاحیتیں کمزور ہوتی ہیں بلکہ عوام کا ریاست پر اعتماد بھی مزید مستحکم ہوتا ہے۔ماہرینِ دفاع کا ماننا ہے کہ بلوچستان میں پائیدار امن کے حصول کے لیے صرف عسکری کارروائیاں کافی نہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ سماجی و اقتصادی ترقی، روزگار کے مواقع کی فراہمی اور احساسِ محرومی کے خاتمے کے لیے سیاسی اور انتظامی سطح پر بھی سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے۔ تاہم، موجودہ صورتحال میں سیکیورٹی فورسز کی یہ کارروائیاں ملک دشمن عناصر کے لیے ایک واضح پیغام ہیں کہ پاکستان کی سرحدوں اور اندرونی امن کے خلاف اٹھنے والے ہر ہاتھ کو توڑ دیا جائے گا۔About The Author حنا خانحنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ See author's posts Post navigationبانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی قیدِ تنہائی کے خلاف درخواستیں قابلِ سماعت قرار، فیملی ملاقات اور بیٹوں سے ٹیلی فونک رابطے کا حکم