اہم نکات:محکمہ تعلیم کا نیا مراسلہ: حکومت پنجاب نے صوبے کے تمام سرکاری اسکولوں میں تعلیمی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ سبزیاں اگانے (کچن گارڈننگ) کی ہدایت جاری کر دی ہے۔انتظامی ذمہ داری: کاشت کاری کے اس عمل کی باقاعدہ دیکھ بھال اور نگرانی کے لیے ہر اسکول میں ایک ذمہ دار شخص (فوکل پرسن) نامزد کیا جائے گا۔منصوبے کے مقاصد: طلبا میں ماحول دوستی، عملی مہارت (Practical Skills) اور غذائی اہمیت کی شعور بیدار کرنے کے ساتھ ساتھ اسکول گراؤنڈز کو سرسبز بنانا۔تعاون اور عملدرآمد: محکمہ زراعت کے تعاون سے اسکولوں میں معیاری بیج اور تکنیکی رہنمائی کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی، جبکہ ضلعی ایجوکیشن اراکین مانیٹرنگ کریں گے۔حکومتِ پنجاب اور محکمہ اسکول ایجوکیشن نے صوبے بھر کے سرکاری تعلیمی اداروں میں نصابی تعلیم کے ساتھ ساتھ عملی تربیت اور ماحولیاتی شعور کو فروغ دینے کے لیے ایک منفرد اور اہم اقدام کا فیصلہ کیا ہے۔ جاری کردہ نئی ہدایات کے مطابق اب پنجاب کے تمام سرکاری اسکولوں میں دستیاب زمین پر سبزیاں اگائی جائیں گی۔ اس منصوبے کے تحت نہ صرف طلبا کو کچن گارڈننگ کی عملی تربیت دی جائے گی بلکہ اسکول کی سطح پر اس اقدام کی باقاعدہ دیکھ بھال اور نگرانی کے لیے ایک ناظم یا ذمہ دار شخص بھی مقرر کیا جائے گا۔محکمہ تعلیم کے اس فیصلے کا بنیادی مقصد طلبا کو کتابی علم کے ساتھ ساتھ قدرتی ماحول سے جوڑنا اور ان میں خود کفالت کی عادت پیدا کرنا ہے۔محکمہ اسکول ایجوکیشن کی سخت ہدایات اور بنیادی خدوخالمحکمہ اسکول ایجوکیشن پنجاب کی جانب سے جاری کردہ باقاعدہ مراسلے میں تمام ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹیز (DEAs) کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے زیرِ انتظام تمام پرائمری، مڈل، ہائی اور ہائر سیکنڈری اسکولوں میں اس حکم نامے پر فوری عملدرآمد یقینی بنائیں۔ہدایت نامے کے اہم نکات درج ذیل ہیں:دستیاب زمین کا استعمال: اسکولوں کے احاطے، گراؤنڈز یا اضافی زمین کو سبزیوں کی کاشت کے لیے استعمال میں لایا جائے گا۔موسمی سبزیوں کی کاشت: اسکولوں میں موسمِ سرما اور موسمِ گرما کی مناسبت سے عام استعمال کی سبزیاں جیسے پالک، دھنیا، پودینہ، ٹماٹر، مولی، شلجم اور بھیلو وغیرہ اگائی جائیں گی۔مسلسل دیکھ بھال: یہ محض ایک عارضی مہم نہیں ہوگی بلکہ اسے اسکول کی روزمرہ روٹین کا حصہ بنایا جائے گا تاکہ سال بھر تازہ سبزیاں حاصل ہو سکیں۔اسکول فوکل پرسن کا تعیّن اور انتظامی فریم ورکاس منصوبے کو کامیاب اور پائیدار بنانے کے لیے انتظامی سطح پر ایک واضح فریم ورک تشکیل دیا گیا ہے۔ ماضی میں اکثر ایسے ماحولیاتی یا زرعی منصوبے مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث ناکام ہو جاتے تھے، تاہم اس بار محکمہ تعلیم نے جواب دہی کا نظام سخت کر دیا ہے۔انتظامی ڈھانچے کے اہم پہلو درج ذیل ہیں:مسئول شخص کا تقرر: ہر اسکول کے ہیڈ ماسٹر یا پرنسپل کی یہ ذمہ داری ہوگی کہ وہ اپنے اسکول کے ایک سینئر ٹیچر، پی ٹی آئی يا لیبارٹری اٹینڈنٹ کو اس منصوبے کا “فوکل پرسن” نامزد کریں۔ذمہ داریاں: فوکل پرسن بیجوں کے حصول، زمین کی تیاری، گوڈی کرنے، پانی دینے اور فصل کی کٹائی تک کے تمام مراحل کی خود نگرانی کرے گا اور اسکول سربراہ کو رپورٹ پیش کرے گا۔طلبا کی شمولیت: فوکل پرسن اسکول کے مختلف گروپس اور سٹوڈنٹ کلبز بنا کر طلبا کو روزانہ کی بنیاد پر تھوڑا وقت اس کام کے لیے مختص کرنے کی ترغیب دے گا۔زرعی اور ماحولیاتی ماہرین کے ساتھ تعاونکچن گارڈننگ مہم کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے محکمہ اسکول ایجوکیشن، محکمہ زراعت (توسیع) پنجاب کی خدمات بھی حاصل کر رہا ہے۔زرعی شعبے کی جانب سے اسکولوں کو درج ذیل سہولیات فراہم کی جائیں گی:مفت یا رعایتی بیج: محکمہ زراعت کی جانب سے اسکولوں کو موسمی سبزیوں کے بیجوں کے پیکٹس فراہم کیے جائیں گے۔تکنیکی رہنمائی: زرعی ماہرین اور فیلڈ اسسٹنٹس اسکولوں کا دورہ کر کے اساتذہ اور فوکل پرسنز کو زمین کی تیاری، کھاد کے درست استعمال اور کیڑے مار ادویات کے بغیر نامیاتی (Organic) کاشتکاری کے طریقے سکھائیں گے۔پانی کی بچت کے طریقے: طلبا کو قطرہ قطرہ آبپاشی (Drip Irrigation) اور گملوں یا پرانے کنٹینرز میں پودے اگانے کی تکنیک بھی بتائی جائے گی تاکہ کم جگہ اور کم پانی میں بھی پودے اچھے طریقے سے پرورش پا سکیں۔تعلیمی، ماحولیاتی اور معاشی اثرات کا پس منظرپنجاب کے سرکاری اسکولوں میں اس نوعیت کی سرگرمی متعارف کروانے کے پیچھے گہرے تعلیمی اور سماجی اسباب کارفرما ہیں۔ جدید دور میں جہاں بچپن زیادہ تر ڈیجیٹل اسکرینز اور کتابوں تک محدود ہو کر رہ گیا ہے، وہاں مٹی اور پودوں کے ساتھ عملی کام طلبا کی جسمانی اور ذہنی نشوونما کے لیے انتہائی مفید ثابت ہوگا۔اس اقدام سے مرتب ہونے والے مثبت اثرات:ماحولیاتی شعور: طلبا میں پودوں کی اہمیت، ماحول کی پاکیزگی اور کلائمیٹ چینج (موسمیاتی تبدیلی) کے خطرات سے نمٹنے کا عملی شعور پیدا ہوگا۔صحت بخش تغذیہ کی ترغیب: بچوں کو یہ سمجھنے میں مدد ملے گی کہ تازہ اور کیمیکلز سے پاک سبزیاں کیسی اگائی جاتی ہیں، جس سے ان میں جنک فوڈ کے بجائے غذائیت سے بھرپور خوراک کی رغبت بڑھے گی۔عملی سائنس کی تعلیم: باٹنی (Botany) اور بیالوجی کے مفاہیم جیسے پودوں کا سانس لینا، فوٹوسنتھیسز اور بیج کا اگنا، طلباء اپنے سامنے عملی طور پر دیکھ سکیں گے جس سے ان کا تعلیمی معیار بہتر ہوگا۔سکولوں کے گرین ہاؤسز: کئی اسکولوں میں اگنے والی سبزیوں کو مڈ ڈے میل یا اسکول کے غریب عملے کی فلاح کے لیے استعمال کیا جا سکے گا، جو ایک معاشی معاونت کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔مانیٹرنگ اور سرپرستی کا نظامحکومتِ پنجاب نے واضح کیا ہے کہ اس حکم نامے پر عملدرآمد کے حوالے سے کسی قسم کی لاپرواہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسران (DEOs) اور اسسٹنٹ ایجوکیشن افسران (AEOs) کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے روٹین کے اسکول وزٹس کے دوران دیگر تعلیمی امور کے ساتھ ساتھ “کچن گارڈننگ” کی پیشرفت کا بھی باقاعدگی سے معائنہ کریں۔بہترین کارکردگی دکھانے والے اسکولوں، سرسبز ترین گارڈن بنانے والی ٹیموں اور فعال فوکل پرسنز کی حوصلہ افزائی کے لیے ضلع اور تحصیل کی سطح پر تعریفاتی اسناد اور انعامات دینے کا بھی منصوبہ زیرِ غور ہے تاکہ اسکولوں کے درمیان مثبت مقابلے کا رجحان پیدا ہو۔مستقبل کے امکاناتسماجی اور تعلیمی حلقوں نے حکومتِ پنجاب کے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ایک انقلابی قدم قرار دیا ہے۔ ماہرینِ تعلیم کا کہنا ہے کہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک جیسے جاپان اور فن لینڈ میں اسکول کی سطح پر زرعی و ماحولیاتی سرگرمیاں لازمی نصاب کا حصہ ہیں۔ اگر پنجاب میں اس پالیسی کو تسلسل کے ساتھ اور ایمانداری سے نافذ کیا گیا تو اس کے دور رس نتائج سامنے آئیں گے اور ایک ایسی نئی نسل تیار ہوگی جو فطرت کے قریب، محنتی اور ماحول دوست سوچ کی حامل ہوگی۔About The Author حنا خانحنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ See author's posts Post navigationریسکیو 1122 خیبرپختونخوا کی ماہانہ رپورٹ: اگست 2026 میں 18 ہزار سے زائد ایمرجنسیز میں بروقت رسپانس، ہزاروں افراد نجات پا گئے