Preloader
Rains call emergency in Rawalpindi Islamabad

اہم نکات:

  • ریکارڈ بارش: جڑواں شہروں میں رات 3:20 سے صبح 8 بجے تک طوفانی بارش کا سلسلہ جاری رہا، جس کے دوران راولپنڈی میں 200 ملی میٹر سے زائد بارش ریکارڈ کی گئی جو گزشتہ 3 برسوں کا نیا ریکارڈ ہے۔
  • نالہ لئی میں سیلابی صورتحال: نالہ لئی اور اس سے منسلک دیگر قدرتی نالوں میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہونے اور بیک فلو کے باعث نشیبی علاقوں میں پانی گھروں اور دکانوں میں داخل ہو گیا۔
  • عوامی تحفظ اور ریسکیو: ناگہانی صورتحال سے نمٹنے، فلڈ ایمرجنسی نافذ کرنے اور ریسکیو آپریشنز میں سول انتظامیہ کی مدد کے لیے پاک فوج کے دستے طلب کر لیے گئے ہیں۔
  • ایمرجنسی اقدامات: ضلعی انتظامیہ نے شہریوں کی حفاظت کے پیشِ نظر تمام تعلیمی اداروں میں بالخصوص راولپنڈی میں آج کی تعطیل کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔

جڑواں شہروں راولپنڈی اور اسلام آباد میں رات گئے شروع ہونے والی طوفانی بارش نے شدید تباہی مچادی ہے، جس کے نتیجے میں نہ صرف تمام اہم شاہراہیں اور نشیبی علاقے جھیل کا منظر پیش کرنے لگے ہیں بلکہ تاریخی قدرتی نالے “نالہ لئی” میں سطحِ آب انتہائی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ صورتحال کی سنگینی اور ممکنہ سیلابی خطرے کے پیشِ نظر ضلعی انتظامیہ نے پاک فوج کو امدادی کارروائیوں اور فلڈ ایمرجنسی سے نمٹنے کے لیے طلب کر لیا ہے، جبکہ تمام سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں میں فوری طور پر تعطیل کا اعلان کر دیا گیا ہے۔

موسمیاتی احوال اور بارش کے ریکارڈ اعداد و شمار

محکمہ موسمیات (PMD) کے مطابق جڑواں شہروں میں مونسون کے متحرک سپیل کی وجہ سے بارش کا آغاز رات گئے تقریباً 3:20 بجے ہوا جو بغیر کسی وقفے کے صبح 8:00 بجے تک جاری رہا۔ اس دوران بادلوں کے زور دار برستے ہی جڑواں شہروں کا نکاسیٔ آب کا نظام مفلوج ہو کر رہ گیا۔

ضلعی انتظامیہ اور محکمہ موسمیات کے جاری کردہ اعداد و شمار درج ذیل ہیں:

  • کل بارش کی مقدار: راولپنڈی کے مختلف حصوں میں مجموعی طور پر 200 ملی میٹر تک بارش ریکارڈ کی گئی۔
  • سابقہ ریکارڈ کا خاتمہ: نائب کمشنر (ڈپٹی کمشنر) راولپنڈی کیپٹن (ر) ندیم ناصر کے مطابق یہ مقدار گزشتہ 3 سال کے دوران ایک ہی سپیل میں ہونے والی بارشوں میں سب سے زیادہ ہے۔
  • شدت کا وقت: سب سے زیادہ بارش رات 4:00 بجے سے صبح 7:00 بجے کے درمیان ہوئی جس نے شہری ڈرینیج کے تمام انتظام کو درہم برہم کر دیا۔

نالہ لئی میں طغیانی اور بیک فلو کا مسئلہ

بارش کے بعد تمام کیچمنٹ ایریا یعنی مارگلہ کی پہاڑیوں سے آنے والا پانی تیز رفتاری کے ساتھ نالہ لئی میں جمع ہونا شروع ہو گیا۔ پانی کے انتہائی دباؤ اور رفتار کی وجہ سے نالہ لئی میں گرنے والے دیگر چھوٹے نالوں (مثلاً آریہ محلہ، ندیم آباد، اور کاٹاریاں کے نالے) کا پانی آگے جانے کے بجائے واپس الٹا بہنے لگا جسے تکنیکی زبان میں “بیک فلو” (Backflow) کہا جاتا ہے۔

اس بیک فلو کے نتیجے میں پانی نالوں سے باہر نکل کر گلیوں اور رہائشی آبادیوں میں پھیل گیا۔ نالہ لئی کے کٹاریاں اور گوالمنڈی کے مقامات پر الرٹ جاری کر دیا گیا ہے، جہاں پانی کی سطح مسلسل خطرے کے نشان کو چھو رہی ہے۔ سائرن بجا کر قریبی رہائشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے یا گھروں کی بالائی منزلوں پر جانے کی تنبیہ کی گئی ہے۔

نشیبی علاقوں کی صورتحال اور عوامی مشكلات

بارش کے باعث راولپنڈی کے بیشتر نشیبی علاقے بشمول آریہ محلہ، ندیم آباد، ڈھوک خبا، چمن زار، گوالمنڈی، صادق آباد، اور پیرودھائی مکمل طور پر زیرِ آب آ چکے ہیں۔ پانی کا بہاؤ اتنا تیز تھا کہ متعدد علاقوں میں کھڑی گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں پانی میں تیرتی ہوئی نظر آئیں۔

رہائشیوں کے مطابق صبح کے وقت پانی اچانک ان کے گھروں، صحنوں اور دکانوں میں داخل ہونا شروع ہوا جس کی وجہ سے قیمتی سامان، فرنیچر اور برقی آلات کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ اسلام آباد کی مرکزی شاہراہوں بشمول سری نگر ہائی وے، آئی جے پی روڈ اور فیض آباد انٹرچینج پر بھی گھٹنوں گھٹنوں پانی کھڑا ہونے سے ٹریفک کا نظام گھنٹوں معطل رہا اور کئی گاڑیاں پانی میں بند ہو گئیں۔

پاک فوج کی طلب اور ریسکیو آپریشنز

حالات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ضلعی انتظامیہ نے آرٹیکل 245 کے تحت پاک فوج کی مدد حاصل کرنے کا فیصلہ کیا۔ پاک فوج کے انجینیئرنگ اور ریسکیو دستے بوٹوں (Boats) اور بھاری مشینری کے ساتھ فوری طور پر متاثرہ علاقوں بالخصوص نالہ لئی کے قریبی محلے جات میں پہنچ گئے ہیں۔

ریسکیو 1122، واسا (WASA)، اور ضلعی انتظامیہ کے اہلکار مشترکہ طور پر امدادی کارروائیاں سرانجام دے رہے ہیں۔ کشتیوں کے ذریعے ان افراد کو نکالنے کا کام جاری ہے جو گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔ ڈی ڈبلیو ایم اے اور واسا کی تمام ڈی واٹرنگ پمپس اور سکشن گاڑیاں شاہراہوں اور آبادیوں سے پانی نکالنے کے لیے دن رات متحرک ہیں۔

تعلیمی اداروں میں تعطیل اور انتظامی احکامات

کمشنر راولپنڈی اور ڈپٹی کمشنر کی ہدایت پر شہر میں فوری طور پر ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ تمام پرائیویٹ اور سرکاری سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کو آج کے لیے بند کر دیا گیا ہے تاکہ طلباء اور اساتذہ کو کسی بھی حادثے یا ٹریفک کے دباؤ سے بچایا جا سکے۔

ضلعی انتظامیہ نے شہریوں کے لیے درج ذیل احتیاطی تدابیر جاری کی ہیں:

  1. غیر ضروری سفر سے گریز: شہری کسی بھی ہنگامی ضرورت کے بغیر گھروں سے باہر نکلنے اور سفر کرنے سے پرہیز کریں۔
  2. برقی تنصیبات سے دوری: کھمبوں، بجلی کے ٹرانسفارمرز، اور ننگے تاروں سے دور رہیں تاکہ کرنٹ لگنے کے واقعات سے بچا جا سکے۔
  3. نالوں کے کنارے نہ جائیں: نالہ لئی اور دیگر برساتی نالوں کے کناروں پر کھڑے ہو کر سلفیاں لینے یا تماشا دیکھنے سے سخت منع کیا گیا ہے۔

جڑواں شہروں میں اربن فلڈنگ کا پس منظر

راولپنڈی اور اسلام آباد میں اربن فلڈنگ (Urban Flooding) کوئی نیا واقعہ نہیں ہے، تاہم حالیہ برسوں میں بے ہنگم شہری آبادی، قدرتی نالوں پر تجاوزات اور ڈرینیج کے پرانے نظام کی وجہ سے یہ مسئلہ سنگین تر ہوتا جا رہا ہے۔ سال 2001 میں راولپنڈی میں آنے والا تاریخی سیلاب آج بھی شہریوں کے ذہنوں میں تازہ ہے جب نالہ لئی میں پانی کا لیول 40 فٹ سے تجاویز کر گیا تھا اور درجنوں قیمتی جانیں ضائع ہوئی تھیں۔

اگرچہ گزشتہ چند سالوں میں واسا اور راولپنڈی انتظامیہ کی جانب سے مونسون سے قبل نالہ لئی کی صفائی (Dredging) کے اقدامات کیے جاتے رہے ہیں، لیکن 200 ملی میٹر جیسی غیر معمولی بارش کی صورت میں قدرتی نکاس کے راستوں میں رکاوٹیں پیدا ہو جاتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق جب تک نالہ لئی ایکسپریس وے اور ڈرینیج کے جدید ترین انفراسٹرکچر پر جامع کام نہیں ہوگا، ایسے موسمیاتی واقعات جڑواں شہروں کے لیے مستقل خطرہ بنے رہیں گے۔

موجودہ صورتحال اور آئندہ کا امکان

اس وقت بارش کا سلسلہ تھم چکا ہے اور ریسکیو ٹیمیں پانی کی نکاسی میں مصروف ہیں۔ تاہم محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کی ہے کہ مونسون کی یہ ہوائیں آئندہ 24 سے 48 گھنٹوں کے دوران مزید بارشیں لا سکتی ہیں، جس کے باعث نالہ لئی میں پانی کی سطح دوبارہ بلند ہونے کا خدشہ موجود ہے۔

ضلعی کنٹرول روم کو مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے اور اعلیٰ حکام خود تمام آپریشن کی نگرانی کر رہے ہیں۔ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں ریسکیو 1122 یا واسا کی ہیلپ لائن پر فوری رابطہ کریں۔

About The Author

Hina Khan

By حنا خان

حنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔

Glimpse of Cricket بشیر بلور پشاور جلسہ Ambani showing Vantra to Messi Pakistan U-19 The Asian Champion Jobs 14 Dec 2025