اہم نکات (خلاصہ)ہائیڈل توانائی میں سرفہرست: خیبر پختونخوا پاکستان کی مجموعی ہائیڈل بجلی کا 70 فیصد سے زائد حصہ نیشنل گرڈ کو فراہم کرتا ہے۔ایل پی جی میں خودکفالت: صوبے میں روزانہ 850 ٹن ایل پی جی پیدا ہوتی ہے، جبکہ مقامی یومیہ کھپت 600 ٹن ہے، جس کے بعد 250 ٹن ایل پی جی سرپلس بچتی ہے۔وزیر اعلیٰ کا سخت موقف: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے واضح کیا ہے کہ صوبے کے قدرتی وسائل پر آئینی حقوق کا عدم حصول کسی صورت قابل قبول نہیں ہے۔معاشی و انتظامی اثرات: صوبائی حکام کا مؤقف ہے کہ وسائل کی منصفانہ تقسیم اور رائلٹی کی بروقت ادائیگی سے صوبے کی معاشی صورتحال میں نمایاں بہتری آسکتی ہے۔پشاور (نمائندہ خصوصی)خیبر پختونخوا کے قدرتی وسائل اور وفاق سے صوبائی حقوق کے حصول کے معاملے پر صوبائی حکومت نے اپنے مؤقف کو ایک بار پھر واضح اور سخت انداز میں پیش کیا ہے۔ پشاور میں منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے اعلیٰ حکام کی جانب سے دی گئی تفصیلی بریفنگ کے بعد اعلان کیا ہے کہ صوبے کے قدرتی و مالیاتی وسائل سے اس کا جائز اور آئینی حق نہ ملنا کسی طور قابل قبول نہیں ہوگا۔اجلاس کے دوران صوبے میں توانائی کی پیداوار، گیس اور ایل پی جی کے ذخائر، اور نیشنل گرڈ کو فراہم کی جانے والی بجلی کے حوالے سے اہم اعداد و شمار پیش کیے گئے۔توانائی اور ہائیڈل پاور کا شعبہ: صوبے کا کلیدی کردارخیبر پختونخوا پاکستان کا وہ اہم صوبہ ہے جو ملک کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ اعلیٰ سطحی بریفنگ میں یہ حقیقت سامنے لائی گئی کہ:نیشنل گرڈ کو فراہمی: ملک کی مجموعی ہائیڈل (پن بجلی) پیداوار کا 70 فیصد سے زائد حصہ تنہا خیبر پختونخوا فراہم کر رہا ہے۔بجلی کے منصوبے: صوبے کے مختلف اضلاع بالخصوص ملاکنڈ اور ہزارہ ڈویژن کے دریاؤں اور ندی نالوں پر قائم ہائیڈرو پاور پروجیکٹس سستی اور ماحول دوست بجلی پیدا کر رہے ہیں۔ملکی معیشت کے لیے ریلیف: اگر صوبہ یہ سستی بجلی فراہم نہ کرے تو ملک کو گرانی اور مہنگے تھرمل یا ائل سے چلنے والے پاور پلانٹس پر انحصار کرنا پڑے۔وزیر اعلیٰ نے اس امر پر زور دیا کہ اتنی بڑی مقدار میں سستی بجلی فراہم کرنے کے باوجود صوبے کو بجلی کی لوڈشیڈنگ اور نیٹ ہائیڈل پرافٹ (NHP) کی مد میں بقایا جات کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جو کہ ناانصافی ہے۔ایل پی جی اور خام تیل کی پیداوار: کھپت سے زیادہ پیداوارصوبے میں تیل و گیس کے شعبے کی کارکردگی کے حوالے سے پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا ایل پی جی (لیکویفائیڈ پیٹرولیم گیس) کی پیداوار میں نہ صرف خودکفیل ہے بلکہ دیگر صوبوں کی ضروریات بھی پوری کر رہا ہے۔اجلاس میں پیش کیے گئے نمایاں اعداد و شمار درج ذیل ہیں:تفصیلمقدار (یومیہ)کل ایل پی جی پیداوار850 ٹنصوبے کی یومیہ کھپت600 ٹناضافی (سرپلس) پیداوار250 ٹنبریفنگ میں بتایا گیا کہ صوبہ اپنی ضرورت سے 250 ٹن زائد ایل پی جی پیدا کر رہا ہے۔ اس کے باوجود مقامی آبادی اور صنعتی شعبے کو گیس اور ایل پی جی کی عدم دستیابی یا بلند قیمتوں کی شکایات کا سامنا رہتا ہے۔پس منظر: صوبائی حقوق اور آئینی دفعاتپاکستان کے آئین کی 18ویں ترمیم اور آرٹیکل 158 کے تحت جس صوبے سے قدرتی گیس یا وسائل حاصل ہوتے ہیں، اس کے مقامی عوام کا پہلا حق بنتا ہے کہ ان کی ضروریات پوری کی جائیں۔ خیبر پختونخوا کے ضلع کرک، کوہاٹ اور ہنگو گیس اور تیل کی پیداوار کے اہم مراکز ہیں۔ماضی میں بھی صوبائی حکومتیں اور مقامی آبادی یہ مؤقف اپناتی رہی ہیں کہ:نیٹ ہائیڈل پرافٹ: اے آر قاضی فارمولے کے تحت خیبر پختونخوا کو ہائیڈل بجلی کا منافع بروقت ادا کیا جائے۔گیس کی فراہمی: صوبے کے ان اضلاع کو ترجیحی بنیادوں پر گیس نیٹ ورک فراہم کیا جائے جہاں سے گیس اور تیل نکلتا ہے۔صنعتی ترقی: سستی بجلی اور گیس کی مقامی سطح پر فراہمی سے خیبر پختونخوا میں صنعت کاری کو فروغ دیا جا سکتا ہے جس سے بے روزگاری میں کمی آئے گی۔وزیر اعلیٰ کی ہدایت اور مستقبل کی حکمت عملیاجلاس کے دوران وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام اور انتظامیہ کو ہدایت کی کہ صوبے کے جائز حقوق اور بقایا جات کا معاملہ وفاقی حکومت اور متعلقہ اداروں کے سامنے بھرپور انداز میں اٹھایا جائے۔وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا قومی ترقی میں اپنا پورا حصہ ڈال رہا ہے، اس لیے وفاق کی بھی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ صوبے کی مالیاتی اور توانائی کی ضروریات کا احترام کرے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ صوبائی حکومت قدرتی وسائل سے حاصل ہونے والی امداد اور رائلٹی کو عوام کی فلاح و بہبود اور بنیادی ڈھانچے (انفراسٹرکچر) کی ترقی کے لیے شفاف انداز میں استعمال کرنے کے لیے پرعزم ہے۔معاشی اثرات اور ماہرین کی رائےمعاشی ماہرین کے مطابق اگر خیبر پختونخوا کو اس کی ہائیڈل بجلی کا پور منافع اور گیس و ایل پی جی کے شعبے سے جائز آئینی حصہ باقاعدگی سے ملے، تو صوبہ اپنے مالیاتی خسارے پر قابو پا سکتا ہے۔صوبے کی موجودہ معاشی صورتحال میں قدرتی وسائل کی درست قیمت اور بروقت وصولی سے نہ صرف صوبائی بجٹ کو سہارا ملے گا بلکہ تعلیم، صحت اور امن و امان کے شعبوں میں ترقیاتی کاموں کی رفتار بھی تیز کی جا سکے گی۔ وفاق اور صوبے کے درمیان ان مسائل کے پرامن اور آئینی حل کو ملک کی مجموعی معاشی استوار کاری کے لیے ضروری قرار دیا جا رہا ہے۔About The Author حنا خانحنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ See author's posts Post navigationبلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کا بڑا آپریشن: 21 دہشتگرد ہلاک، دو افسران سمیت 6 جوان شہید