Preloader
Strike in nursing college
  • بنیادی تنازع: پوسٹ گریجویٹ کالج آف نرسنگ پشاور کے طلبہ کا ہاسٹل کی عدم دستیابی اور کلینیکل پریکٹس میں درپیش مشکلات پر احتجاج۔
  • پولیس اقدام: پرامن مظاہرے کے دوران مبینہ طور پر پولیس کی مداخلا، 11 طلبہ و طالبات گرفتار، تشدد کے الزامات۔
  • تشویشناک واقعہ: پولیس کارروائی کے دوران گاڑی کی ٹکر سے خاتون طالبہ کے زخمی ہونے کی اطلاع۔
  • مطالبات: تمام گرفتار طلبہ کی فوری رہائی، مبینہ تشدد اور گاڑی کی ٹکر کے واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ۔

پشاور (صحافتی رپورٹ): خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں تعلیمی مسائل اور بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی کے خلاف آواز اٹھانے والے نرسنگ طلبہ کے خلاف انتظامیہ اور پولیس کی سخت کارروائی کے بعد صورتحال کشیدہ ہو گئی ہے۔ پوسٹ گریجویٹ کالج آف نرسنگ پشاور میں اپنے جائز تعلیمی و انتظامی مطالبات کے حق میں احتجاج کرنے والے 11 طلبہ و طالبات کو پولیس نے حراست میں لے لیا ہے، جن میں خواتین سٹوڈنٹس بھی شامل ہیں۔ واقعے کے دوران مبینہ بدسلوکی اور ایک خاتون طالبہ کے گاڑی کی ٹکر سے زخمی ہونے کی اطلاعات نے تعلیمی حلقوں اور عوام میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔

تنازع کی اصل وجہ: ہاسٹل اور کلینیکل پریکٹس کے مسائل

پوسٹ گریجویٹ کالج آف نرسنگ پشاور کے طلبہ و طالبات کا موقف ہے کہ وہ طویل عرصے سے شدید انتظامی اور تعلیمی مشکلات کا شکار ہیں، تاہم کالج انتظامیہ اور بالخصوص پرنسپل کی جانب سے ان کے مسائل حل کرنے میں کوئی سنجیدگی نہیں دکھائی گئی۔

طلبہ کے مطابق اہم ترین مسائل درج ذیل ہیں:

  1. ہاسٹل کی سہولت سے محرومی: لڑکوں کے لیے مختص ہاسٹلز مبینہ طور پر فیکلٹی ممبران اور اساتذہ کو الاٹ کر دیے گئے ہیں۔ اس فیصلے کے نتیجے میں نئے آنے والے طلبہ کو دوسرے سمسٹر تک ہاسٹل کی بنیادی سہولت سے محروم رہنا پڑتا ہے، جس سے دور دراز علاقوں سے آنے والے طلبہ شدید پریشانی کا شکار ہیں۔
  2. کلینیکل پریکٹس کا تعلیمی نقصان: نرسنگ کی ڈگری میں درکار عملی تربیت (کلینیکل پریکٹس) کے لیے نصاب کے مطابق تقریباً دو ماہ کا وقت مختص ہوتا ہے۔ لیکن انتظامی عدم توجہی کے باعث طلبہ کو اس اہم تعلیمی موقع سے بھی کماحقہُ محروم رکھا جا رہا ہے، جس سے ان کے پیشہ ورانہ مستقبل اور تعلیمی معیار پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

مذاکرات کے بجائے پولیس کارروائی: احتجاج نے طول کیسے پکڑا؟

کالج ذرائع اور عینی شاہدین کے مطابق، طلبہ نے اپنے مطالبات حکام تک پہنچانے کے لیے پہلے پہل اندرونی سطح پر درخواستیں جمع کرائیں، لیکن جب انتظامیہ کی جانب سے کوئی مثبت ردعمل نہ آیا تو انہوں نے کالج حدود میں پرامن احتجاج کا راستہ اختیار کیا۔

طلبہ کا کہنا ہے کہ وہ اپنے مطالبات کے حل کے لیے انتظامیہ کے ساتھ میز پر بیٹھ کر بات چیت کرنے کے لیے تیار تھے، لیکن مسئلے کا منطقی اور پرامن حل تلاش کرنے کے بجائے پولیس کو طلب کر لیا گیا۔ پولیس کی آمد کے ساتھ ہی ماحول میں کشیدگی پھیل گئی اور مبینہ ہتھاپائی کے بعد 11 طلبہ کو تحویل میں لے کر تھانے منتقل کر دیا گیا۔

پولیس تشدد اور خاتون طالبہ کے زخمی ہونے کا واقعہ

واقعے کی سامنے آنے والی مختلف ویڈیو فوٹیجز اور عینی شاہدین کی شہادتوں سے پتہ چلتا ہے کہ پولیس کارروائی کے دوران شدید نظم و ضبط کی خلاف ورزی اور مبینہ بدسلوکی دیکھنے میں آئی۔

سب سے زیادہ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ پولیس اور طلبہ کے درمیان کشمکش اور مبینہ دھکم پیل کے دوران ایک پولیس گاڑی کی ٹکر سے ایک خاتون طالبہ شدید متاثر ہوئی۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے مناظر اور مقامی طلبہ کی جانب سے پیش کیے جانے والے موکل کے مطابق، خاتون طالبہ کو ہتھاپائی کے دوران گاڑی نے ٹکر ماری جس سے وہ زخمی ہو گئی۔ طلبہ تنظیموں اور انسانی حقوق کے حقوق العباد اداروں نے اس واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔

طلبہ اور مظاہرین کے مطالبات

واقعے کے بعد نرسنگ سٹوڈنٹس اور مختلف ذیلی تعلیمی تنظیموں نے اپنے مطالبات کا چارٹر پیش کیا ہے، جس میں حکومت اور اعلیٰ حکام سے فوری مداخلت کی اپیل کی گئی ہے:

  • گرفتار شدگان کی بلا مشروط رہائی: زیرِ حراست تمام 11 طلبہ و طالبات، بالخصوص خواتین سٹوڈنٹس کو فوری طور پر اور بغیر کسی جھوٹے مقدمے کے رہا کیا جائے۔
  • واقعے کی شفٹ انکوائری: پولیس کی جانب سے طلبہ پر مبینہ تشدد، بدسلوکی اور خصوصاً خاتون طالبہ کو گاڑی کی ٹکر لگنے کے واقعے کی غیر جانبدارانہ جوڈیشل یا اعلیٰ سطحی انکوائری کرائی جائے۔
  • انتظامیہ کا محاسبہ: کالج پرنسپل اور متعلقہ انتظامی عہدیداروں کی عدم توجہی اور ہاسٹلز کی مبینہ غلط الاٹمنٹ کی تحقیقات کی جائیں۔
  • بنیادی سہولیات کی فراہمی: لڑکوں کے ہاسٹلز فوری طور پر خالی کرا کر طلبہ کے حوالے کیے جائیں اور نصاب کے مطابق مکمل کلینیکل پریکٹس کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔

حکومتی و انتظامی موقف اور درپیش چیلنجز

اس پوری صورتحال پر پشاور پولیس اور کالج انتظامیہ کا موقف جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ پولیس ذرائع کا دعویٰ ہے کہ نظم و ضبط کی صورتحال برقرار رکھنے اور امن و امان کی خراب صورتحال سے بچنے کے لیے لا اینڈ آرڈر کی بنیاد پر اقدام کیا گیا، تاہم گاڑی کی ٹکر سے خاتون طالبہ کے زخمی ہونے اور بدسلوکی کے الزامات پر تاحال کوئی رسمی تفصیلی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔

طبی اور تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ نرسنگ جیسا شعبہ جو ملک کے صحت کے نظام کی ریڑھ کی ہڈی شمار ہوتا ہے، وہاں کے سٹوڈنٹس کو سڑکوں پر لانا اور ان کے ساتھ تشدد کا عناد رکھنا تعلیمی ماحول کے لیے زہرِ قاتل ہے۔ طلبہ کو تعلیمی سہولیات سے محروم رکھنا اور پرامن احتجاج پر طاقت کا استعمال نہ صرف طلبہ کے ذہنی سکون کو متاثر کرتا ہے بلکہ مستقبل میں نرسنگ کی پیشہورانہ کارکردگی کو بھی نچلے درجے پر دھکیل دیتا ہے۔

آگے کا راستہ: مسئلہ حل کیسے ہو؟

پوسٹ گریجویٹ کالج آف نرسنگ کا یہ واقعہ محض ایک تعلیمی ادارے کا اندرونی معاملہ نہیں رہا بلکہ یہ صوبائی تعلیمی انتظامیہ اور پولیس اصلاحات پر بھی سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔ مسئلے کے فوری حل کے لیے ضروری ہے کہ:

  1. صوبائی وزرائے تعلیم و صحت فوری طور پر معاملے کا نوٹس لیں۔
  2. گرفتار طلبہ کو بلا تاخیر رہا کر کے ان کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کیا جائے۔
  3. واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کے ذریعے ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے تاکہ مستقبل میں کسی بھی تعلیمی ادارے میں پولیس فورس کے بے جا استعمال اور طلبہ پر تشدد کو روکا جا سکے۔

About The Author

Hina Khan

By حنا خان

حنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔

Glimpse of Cricket بشیر بلور پشاور جلسہ Ambani showing Vantra to Messi Pakistan U-19 The Asian Champion Jobs 14 Dec 2025