Preloader
Delhi Building Collapse

اہم نکات:

  • خوفناک حادثہ: نئی دہلی کے مشہور تعلیمی و رہائشی علاقے ستیا نکیتن میں تین منزلہ عمارت زمین بوس ہونے سے المناک حادثہ۔
  • دو طلبہ کی ہلاکت: مدھیہ پردیش سے اعلیٰ تعلیم کے لیے دہلی آنے والے دو نوانوہال، 21 سالہ ارپت جاج اور 19 سالہ اکشت یادو جاں بحق۔
  • عمارت کی مرمت میں غفلت: ابتدائی تحقیقات کے مطابق جائیداد کی غیر قانونی تعمیر اور خطرناک مرمتی کام حادثے کی بنیادی وجہ قرار۔
  • عوامی ردعمل و مطالبات: طلبہ رہائش گاہوں اور پرانے تعمیراتی ڈھانچوں میں سیفٹی آڈٹ، بلڈرز کے خلاف سخت قانونی کارروائی اور متاثرہ خاندانوں کی امداد کا مطالبہ۔

نئی دہلی (خصوصی رپورٹ): بھارتی دارالحکومت نئی دہلی کے معروف اور گنجان آباد تعلیمی مرکز ‘ستیا نکیتن’ میں ایک تین منزلہ رہائشی و تجارتی عمارت اچانک زمین بوس ہو گئی، جس کے نتیجے میں وہاں زیرِ تعلیم اور مقیم مدھیہ پردیش سے تعلق رکھنے والے دو ہونہار طلبہ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ اعلیٰ تعلیم کے حصول، روشن مستقبل کے خوابوں اور بہتر روزگار کی امید لے کر دارالحکومت آنے والے نوجوانوں کے لیے یہ سفر ایک المناک سانحے پر ختم ہوا۔

حادثے کی اطلاع ملتے ہی نیشنل ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (NDRF)، فائر برگیڈ اور مقامی پولیس کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور گھنٹوں جاری رہنے والے امدادی آپریشن کے بعد ملبے تلے دبے افراد کو باہر نکالا گیا، تاہم طبی امداد کی فراہمی سے قبل ہی دونوں طلبہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ چکے تھے۔

مقتول طلبہ کی شناخت اور آبائی پس منظر

پولیس اور حادثاتی امدادی ٹیموں کی جانب سے جاری کردہ تصدیق کے مطابق جاں بحق ہونے والے طلبہ کی شناخت درج ذیل کے طور پر ہوئی ہے:

  1. ارپت جاج (عمر 21 سال): مدھیہ پردیش کے ضلع دیواس سے تعلق رکھتے تھے اور دہلی یونیورسٹی کے قریبی علاقے میں اعلیٰ تعلیم کے لیے مقیم تھے۔
  2. اکشت یادو (عمر 19 سال): مدھیہ پردیش کے ضلع کٹنی کے رہائشی تھے اور حال ہی میں گریجویشن میں داخلے کی غرض سے دارالحکومت منتقل ہوئے تھے۔

دونوں نوجوان اپنے اپنے علاقوں کے انتہائی ہونہار طالب علم شمار کیے جاتے تھے اور ان کے خاندانوں نے اپنی تمام تر جمع پونجی ان کے تعلیمی اخراجات کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ واقعہ کی خبر جیسے ہی ان کے آبائی علاقوں میں پہنچی، دیواس اور کٹنی میں غمی کی لہر دوڑ گئی اور ان کے گھروں پر کوہِ غم ٹوٹ پڑا۔

حادثے کی تفصیلات اور امدادی کارروائیاں

ستیا نکیتن کا علاقہ دہلی یونیورسٹی کے ساؤتھ کیمپس کے بالکل قریب واقع ہونے کی وجہ سے ہزاروں طلبہ کا مسکن ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق، واقعہ کے وقت عمارت کی گراؤنڈ فلور پر شدید تعمیراتی اور مرمتی کام جاری تھا۔

  • اچانک دھماکہ خیز آواز: دوپہر کے وقت عمارت کی بنیادی دیواریں اور ستون اچانک بیٹھ گئے، جس کے ساتھ ہی پوری تین منزلہ عمارت تاش کے پتوں کی طرح ڈھے گئی۔
  • دھول اور ملبہ: عمارت گرتے ہی گرد و غبار کا طوفان اٹھا اور گلی میں افرا تفری مچ گئی۔ گلی میں موجود لوگ اپنی جانیں بچانے کے لیے بھاگے لیکن اندر موجود افراد کو باہر نکلنے کا موقع نہ مل سکا۔
  • امدادی آپریشن: این ڈی آر ایف کی ٹیموں نے جدید آلات، ہیوی کٹر اور سنفر ڈاگز (تلاشی کتوں) کی مدد سے ملبہ ہٹانے کا کام شروع کیا۔ تقریباً 3 سے 4 گھنٹے کی سخت جدوجہد کے بعد طلبہ کے اجسام کو باہر نکال کر فوری طور پر قریبی آر ایم ایل ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے ان کی موت کی تصدیق کر دی۔

سانحے کی بنیادی وجوہات: انتظامی غفلت اور غیر قانونی تعمیرات

ابتدائی تحقیقات اور دہلی میونسپل کارپوریشن (MCD) کے خدشات کے مطابق، حادثے کی بنیادی وجہ عمارت کی ساختی کمزوری اور بغیر اجازت جاری مرمتی کام تھا۔

حادثے سے جڑے اہم ڈیٹا پوائنٹس اور حقائق درج ذیل ہیں:

  • خامیوں کا نوٹس: ایم سی ڈی کی جانب سے مالکِ مکان کو پہلے ہی عمارت کی خطرناک حالت اور غیر قانونی تعمیرات سے متعلق نوٹس جاری کیا جا چکا تھا۔
  • حفاظتی تدابیر کا فقدان: نوٹس اور خطرے کے باوجود مالکِ مکان اور مقامی ٹھیکیدار نے عمارت میں بوجھ اٹھانے والے ستونوں کو ہٹا کر تزئین و آرائش شروع کر رکھی تھی۔
  • طلبہ کی بے خبری: عمارت میں رہائش پذیر طلبہ اور کرائے داروں کو اس بات کا علم ہی نہیں تھا کہ جس چھت کے نیچے وہ سو رہے ہیں، وہ کسی بھی وقت تباہی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔

دہلی کے اسٹوڈنٹ ہاؤسنگ سیکٹر کے درپیش چیلنجز

اس سانحے نے ایک بار پھر دہلی کے ان گنجان علاقوں پر سوالات اٹھا دیے ہیں جہاں لاکھوں طلبہ ملک کے کونے کونے سے آ کر پے نگ گیسٹ (PG) یا کرائے کے مکانات میں رہتے ہیں۔

  1. غیر قانونی تجارتی استعمال: زیادہ کرایہ حاصل کرنے کے چکر میں مالکان بغیر کسی نقشے، فائر سیفٹی پرمٹ یا سٹرکچرل انٹیگریٹی (ساختی مضبوطی) کے ٹیسٹ کے چھوٹی جگہوں پر کئی منزلیں تعمیر کر دیتے ہیں۔
  2. سیفٹی آڈٹ کا فقدان: طلبہ کی رہائش گاہوں کی باقاعدہ جانچ کا کوئی موثر طریقہ کار موجود نہیں، جس کی وجہ سے طلبہ سستے اور غیر محفوظ مکانات میں رہنے پر مجبور ہیں۔
  3. منافع خوری بمقابلہ انسانی زندگی: حادثات کے بعد چند دن کارروائی کا غوغا ہوتا ہے لیکن اس کے بعد نظام دوبارہ پرانی طرز پر واپس آ جاتا ہے۔

قانونی کارروائی اور حکومتی ردعمل

دہلی پولیس نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے عمارت کے مالک اور ٹھیکیدار کے خلاف غفلت کے نتیجے میں موت واقع ہونے اور لاپرواہی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔

تھانہ ساؤتھ ڈسٹرکٹ کی پولیس کے مطابق ملوث افراد کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ دوسری جانب مدھیہ پردیش کی صوبائی حکومت نے بھی دہلی انتظامیہ سے رابطہ کر کے واقعے کی شفٹ تحقیقات، خاطیوں کو سخت سزا دینے اور جاں بحق طلبہ کی میتوں کو باحرمت ان کے آبائی علاقوں تک پہنچانے کے تمام تر انتظامات مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔

آگے کا راستہ: اصلاحات کی اشد ضرورت

ارپت جاج اور اکشت یادو کی یوں اچانک اور المناک موت نے پورے تعلیمی حلقے کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ یہ حادثہ محض ایک عمارت کا گرنا نہیں ہے بلکہ اس انتظامی غفلت کا نتیجہ ہے جو انسانی زندگیوں سے زیادہ منافع خوری کو ترجیح دیتی ہے۔

حکومت اور شہری انتظامیہ کے لیے اب یہ لازمی ہو چکا ہے کہ دہلی کے تمام تر اسٹوڈنٹ ہبس—بشمول ستیا نکیتن، مکھرجی نگر، اور وجے نگر—میں موجود تمام پی جیز اور عمارتوں کا فوری ایمرجنسی سیفٹی آڈٹ کرایا جائے تاکہ آئندہ کسی اور طالب علم کے تعلیمی خواب یوں ملبے تلے نہ دبیں۔

About The Author

Hina Khan

By حنا خان

حنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔

Glimpse of Cricket بشیر بلور پشاور جلسہ Ambani showing Vantra to Messi Pakistan U-19 The Asian Champion Jobs 14 Dec 2025