معروف اداکارہ اشمیتا بخشش نے انٹرٹینمنٹ انڈسٹری میں اداکاروں پر ظاہری روپ اور جسمانی جسامت کو برقرار رکھنے کے شدید دباؤ پر کھل کر گفتگو کی ہے۔آئی اے این ایس (IANS) کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں اشمیتا کا کہنا تھا کہ پروڈیوسرز اور ڈائریکٹرز اکثر اداکاروں کو مخصوص کرداروں کے لیے جسمانی ساخت تبدیل کرنے کی ہدایت دیتے ہیں، جس سے اداکاروں کے خود اعتمادی کو سخت دھچکا پہنچتا ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ انڈسٹری میں ہر قسم کے جسمانی خد و خال اور لُک رکھنے والے فنکاروں کی گنجائش اور طلب موجود ہے، بشرطیکہ اداکاری میں سچائی ہو۔اس انٹرویو نے بالی ووڈ اور شوبز انڈسٹری میں “باڈی شیپنگ” اور غیر حقیقی بیوٹی سٹینڈرڈز کے خلاف ایک نئی فکری بحث کا آغاز کر دیا ہے۔ممبئی: انٹرٹینمنٹ اور فلمی دنیا میں ظاہری خوبصورتی، وزن کی کمی بیشی اور مخصوص جسمانی سانچوں میں ڈھلنے کا دباؤ کوئی نیا موضوع نہیں ہے، تاہم وقت کے ساتھ ساتھ اب انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے خود فنکار اس پر کھل کر بات کر رہے ہیں۔ بھارتی شوبز انڈسٹری سے تعلق رکھنے والی اداکارہ اشمیتا بخشش نے انٹرٹینمنٹ کی دنیا میں پرفارمرز پر لُکس اور باڈی امیج کے حوالے سے پائے جانے والے نادیدہ اور شدید دباؤ پر اپنی خاموشی توڑ دی ہے۔نیوز ایجنسی ‘آئی اے این ایس’ (IANS) سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے اشمیتا بخشش نے کہا کہ انڈسٹری میں ہر قسم کے جُسامت، روپ اور لُک والے فنکاروں کے لیے کھلی جگہ اور مواقع موجود ہیں، تاہم بعض اوقات پروڈیوسرز یا ڈائریکٹرز کی جانب سے اداکاروں کو ایک مخصوص سانچے میں ڈھلنے کی فرمائشیں ان کی ذاتی خود اعتمادی اور ذہنی صحت کو نقصان پہنچاتی ہیں۔پروڈیوسرز اور ڈائریکٹرز کی فرمائشیں اور اداکاروں کا اعتماداشمیتا بخشش نے انٹرویو میں شوبز کے اس تلخ سچ سے پردہ اٹھایا جسے اکثر اداکار اور اداکارائیں کیریئر کے خوف سے زبان پر نہیں لاتے۔ ان کا کہنا تھا کہ بہت سے فنکاروں کو ان کے ابتدائی یا درمیانی کیریئر میں ڈائریکٹرز اور ہدایت کاروں کی طرف سے یہ کہا جاتا ہے کہ اگر انہیں فلاں کردار چاہیے تو انہیں اپنا وزن کم کرنا ہوگا، چہرے کے زاویے بدلنے ہوں گے یا مخصوص فیشن ڈریسنگ اپنانی ہوگی۔اشمیتا بخشش کے مطابق:“جب کسی فنکار کو یہ کہا جاتا ہے کہ اس کی صلاحیت سے زیادہ اس کا ظاہری لُک یا باڈی ٹائپ اہمیت رکھتی ہے، تو اس سے اس کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں پر شک پیدا ہوتا ہے۔ یہ دباؤ رفتہ رفتہ فنکار کے اعتماد کو مجروح کرتا ہے اور وہ اپنی اداکاری کے بجائے اپنے وزن اور چہرے کے خد و خال کو لے کر ذہنی کشمکش کا شکار ہو جاتا ہے۔”انہوں نے زور دیا کہ فلم اور ڈراما حقیقت کا عکاس ہوتا ہے، اور حقیقت میں دنیا کا ہر انسان ایک جیسے وزن، قد یا لُک کا حامل نہیں ہوتا۔ اسی لیے اسکرین پر بھی مختلف لُکس اور باڈی ٹائپس کے لوگوں کا ہونا کہانی کو زیادہ فطری اور جاندار بناتا ہے۔شوبز انڈسٹری اور بیوٹی سٹینڈرڈز کا پس منظرہالی ووڈ سے لے کر بالی ووڈ اور ایشیائی تفریحی صنعتوں تک، دہائیوں سے ایک خاص قسم کے باڈی امیج (Body Image) کو خوبصورتی اور کامیابی کا معیار تسلیم کیا جاتا رہا ہے۔ ماضی میں ہیروئن کے لیے انتہائی پتلا (Zero Size) ہونا اور ہیرو کے لیے مسکولر یا سکس پیک باڈی رکھنا ایک غیر تحریری قانون کی حیثیت رکھتا تھا، جس کے باعث بے شمار صلاحیتوں سے مالا مال اداکار انڈسٹری کے کنارے کر دیے جاتے تھے۔تاہم، گزشتہ چند سالوں میں او ٹی ٹی (OTT) پلیٹ فارمز کی آمد اور مواد پر مبنی (Content-Driven) سنیما کے فروغ نے ان روایتی معیارات کو چیلنج کیا ہے۔ اب کھانچوں سے ہٹ کر بنائی جانے والی فلموں اور ڈراموں میں حقیقت پسندانہ کرداروں کو پذیرائی مل رہی ہے، جہاں ظاہری چمک دمک کے بجائے اداکار کی کارکردگی (Performance) کو اولیت دی جاتی ہے۔باڈی امیج پریشر اور شوبز انڈسٹری کے حقائقشوبز انڈسٹری میں جسمانی سائز اور لُکس کے حوالے سے پائے جانے والے حقائق اور شماریاتی جائزہ درج ذیل اہم پوائنٹس کے ذریعے سمجھا جا سکتا ہے:ذہناؤ اور ذہنی صحت: ایک سروے کے مطابق تفریحی صنعت سے وابستہ تقریباً 65 فیصد سے زائد نووارد اداکار روایتی بیوٹی سٹینڈرڈز پر پورا اترنے کی کوشش میں اینگزائٹی اور ایٹنگ ڈس آرڈرز (Eating Disorders) کا شکار ہو جاتے ہیں۔او ٹی ٹی پلیٹ فارمز کی آمد: ڈجیٹل اور او ٹی ٹی پلیٹ فارمز کے آنے سے روایتی ہیرو/ہیروئن کا تصور بدلا ہے، جس کے باعث مختلف باڈی ٹائپس والے اداکاروں کی مانگ میں پچھلے 5 سالوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔سوشل میڈیا کا منفی اثر: سوشل میڈیا پر ٹرولنگ اور باڈی شیمنگ (Body Shaming) بھی اداکاروں پر مزید ذہنی دباؤ بڑھاتی ہے، جہاں ان کی معمولی سی وزن کی تبدیلی پر بھی تنقید کی جاتی ہے۔تنوع (Diversity) کی ضرورت: عالمی اور علاقائی سطح پر سنیما کے ناظرین اب پریوں کی کہانیوں کے بجائے ایسے کرداروں کو زیادہ پسند کرتے ہیں جو حقیقی زندگی کے عام انسانوں جیسے دکھائی دیتے ہوں۔سائیکولوجیکل اثرات اور سوشل میڈیا کا کردارکسی اداکار یا اداکارہ کے لیے باڈی ٹائپ کو لے کر ملنے والی تنقید محض کیریئر تک محدود نہیں رہتی بلکہ اس کے گہرے نفسیاتی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ سوشل میڈیا کے دور میں جب ہر تصویر اور ویڈیو پر لاکھوں لوگ تبصرے کرتے ہیں، تو کسی فنکار کو “وزن زیادہ ہونے” یا “فٹ نہ ہونے” کے طعنے دینا ان کی پرائیویٹ اور پروفیشنل دونوں زندگیوں کو زہر آلود کر دیتا ہے۔اشمیتا کا ماننا ہے کہ اگر انڈسٹری کے سینیئر لوگ، ہدایت کار اور پروڈیوسرز کھلے دل سے مختلف باڈی ٹائپس کو قبول کریں تو ناظرین کا نقطہ نظر بھی تیزی سے بدلے گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اداکاروں کو بھی اپنی سچی شخصیت اور جینیاتی بناوٹ پر شرمندہ ہونے کی بجائے اپنی اداکاری کی مہارت کو نکھارنے پر توجہ دینی چاہیے۔انڈسٹری کے لیے ایک مثبت پیغام اور آئندہ کا لائحہ عملاشمیتا بخشش کے اس انٹرویو نے ان تمام نئے اداکاروں کے لیے ایک امید کی کرن فراہم کی ہے جو اپنے لُک یا جسمانی بناوٹ کی وجہ سے ہچکچاہٹ کا شکار رہتے ہیں۔ ان کا بیان اس بات کا روشن ثبوت ہے کہ اب شوبز انڈسٹری میں تنوع (Diversity) اور شمولیت (Inclusivity) کی باتیں کیمرے کے سامنے اور پیچھے دونوں جگہ ہو رہی ہیں۔فلمی تجزیہ کاروں اور معتبر ناقدین کا کہنا ہے کہ پروڈکشن ہاؤسز اور کاسٹنگ ڈائریکٹرز کو چاہیے کہ وہ کاسٹنگ کے دوران محض بیرونی خوبصورتی اور جسمانی ناپ تول دیکھنے کی بجائے اداکار کے جذبات، تاثرات اور ڈائیلاگ ڈیلیوری کی صلاحیت کو پرکھیں۔ جب تک سکرپٹ کی ضرورت کے بغیر باڈی شیپ بدلنے کا دباؤ ختم نہیں ہوگا، تب تک فنکار کھلے ذہن اور مکمل تخلیقی آزادی کے ساتھ پرفارم نہیں کر سکیں گے۔اشمیتا بخشش کی یہ صدا انٹرٹینمنٹ انڈسٹری میں ایک مثبت تبدیلی کی طرف اشارہ کرتی ہے، جہاں فن اور صلاحیت کو جسمانی سانچوں پر فوقیت ملنا شروع ہو رہی ہے۔About The Author حنا خانحنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ See author's posts Post navigationشوٹنگ کے سیٹ پر اصلی ذائقے: ہندوستانی اداکارہ میرا دیوستھالے کا ڈراما سیریز ‘حسرتیں’ اور کھانا پکانے کے شوق سے متعلق خصوصی گفتگو