Preloader
How Sudan’s civil war is erasing thousands of years of cultural memory
  • سوڈان میں جاری ہولناک خانہ جنگی نے دارالحکومت خرطوم کے قومی میوزیم کو ایک خونی میدانِ جنگ اور کرائم سین میں تبدیل کر دیا ہے۔
  • ہزاروں سال پرانے مجسمے اور نوادرات تباہ، قدیم ڈھانچے اور حنوط شدہ ممیز جھلس گئیں، جبکہ سونے کے قیمتی خزانے لوٹ لیے گئے۔
  • تاریخی آثار اور نوادرات کو عالمی بلیک مارکیٹ میں فروخت کر کے جنگی مشینری اور اسلحے کی خرید و فروخت کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
  • سوڈانی تنازع کے نتیجے میں اب تک لاکھوں افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں جبکہ تقریباً 1 کروڑ 40 لاکھ شہری بے گھر ہونے پر مجبور ہوئے۔

خرطوم / قاہرہ: سوڈان میں فوج اور حریف پیراملٹری فورس (ریپڈ سپورٹ فورسز – RSF) کے درمیان جاری تباہ کن خانہ جنگی نے نہ صرف ملک کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کیا ہے بلکہ اس نے سوڈان کی ہزاروں سال پرانی تاریخ اور ثقافتی ورثے کو بھی راکھ کے ڈھیر میں بدل دیا ہے۔ دارالحکومت خرطوم میں واقع سوڈان کا قومی میوزیم (National Museum of Sudan)، جو افریقہ کے امیر ترین آثارِ قدیمہ کے ذخائر میں شمار ہوتا تھا، اب ایک خوفناک میدانِ جنگ اور سنگین کرائم سین کا منظر پیش کر رہا ہے۔

حالیہ رپورٹس کے مطابق، میوزیم کی عمارت کے اندر قدیم سڈانی تہذیب، نوبین سلطنت اور کوش کے ادوار کے نادر مجسموں کو توڑا گیا ہے، تحفے میں دیے گئے قدیم ڈھانچوں کو نظرِ آتش کیا گیا، اور سونے کے تمام محفوظ خزانے لوٹ لیے گئے ہیں۔ یہ لوٹ مار محض تخریب کاری نہیں، بلکہ تاریخی نوادرات کو غیر قانونی طور پر عالمی بلیک مارکیٹ میں فروخت کر کے جنگی ایندھن اور ہتھیار فراہم کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے۔

تاریخی ورثے کی تباہی اور لوٹ مار کی تکنیک

خرطوم کا قومی میوزیم دریائے نیل کے کنارے واقع ہے، جس کی وجہ سے جنگ کے ابتدائی ایام سے ہی یہ علاقہ سٹریٹیجک لحاظ سے شدید جھڑپوں کا مرکز بن گیا۔ عسکریت پسندوں اور مسلح گروہوں نے میوزیم کو مورچہ بندیوں کے لیے استعمال کیا، جس کے نتیجے میں صدیوں پرانی عمارت اور اس کے اندر موجود نایاب نوادرات بمباری، گولی باری اور آتشزدگی کی زد میں آ گئے۔

آثارِ قدیمہ کے عالمی ماہرین اور مقامی مؤرخین کے مطابق، میوزیم کے مضبوط تہہ خانوں اور تجوریوں کو توڑ کر قدیم نوبین بادشاہوں کے سونے کے زیورات، سکّے اور قیمتی تاج نکال لیے گئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ لوٹ مار انتہائی منظم انداز میں کی گئی ہے جہاں نایاب اشیاء کو بیرونِ ملک سمگل کرنے کے لیے پہلے سے کوریڈورز قائم کیے گئے تھے۔

ایک مقامی ماہرِ آثارِ قدیمہ نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا:

“یہ صرف ایک عمارت یا چند نوادرات کا نقصان نہیں ہے، بلکہ یہ انسانی تاریخ کی قدیم ترین تہذیبوں میں سے ایک کا قتل ہے۔ نوبین اور کوش سلطنت کے جو آثار اس میوزیم میں محفوظ تھے، وہ نہ صرف سوڈان بلکہ پوری عالمی تاریخ کی سانجھی میراث تھے۔”

بلیک مارکیٹ، بلڈ اینٹیکس اور جنگی معیشت

سودانی تاریخی نوادرات کی لوٹ مار نے ایک بار پھر عالمی سطح پر “بلڈ اینٹیکس” (Blood Antiques) کا سنگین مسئلہ سامنے لا کھڑا کیا ہے۔ جیسا کہ سابقہ ادوار میں عراق اور شام کے تنازعات کے دوران دیکھا گیا تھا، جنگجو گروہ تاریخی نوادرات کو بین الاقوامی بلیک مارکیٹ میں فروخت کر کے اپنے عسکری اخراجات، راشن اور جدید اسلاح کی خرید و فروخت کے لیے رقم اکٹھی کرتے ہیں۔

  • سمگلنگ کے راستے: لوٹے گئے نایاب نوادرات کو پڑوسی ممالک کی غیر محفوظ سرحدوں کے ذریعے ڈارک ویب اور بین الاقوامی بلیک مارکیٹ کے نیٹ ورکس تک پہنچایا جا رہا ہے۔
  • جعلی اسناد اور فروخت: غیر قانونی تاجر ان قدیم اشیاء کی اصل تصدیق کو چھپا کر یورپی اور خلیجی ممالک کے نجی خریداروں اور نیلام گھروں کو بیچنے کی کوشش کرتے ہیں۔
  • عالمی اداروں کا الرٹ: یونیسکو (UNESCO) اور انٹرپول (Interpol) نے تمام بین الاقوامی نیلام گھروں اور نوادرات کے تاجروں کے لیے ریڈ الرٹ جاری کیا ہے تاکہ سوڈانی اصل کے کسی بھی نوادرات کی خریدو فروخت کو فوری طور پر روکا جا سکے۔

سوڈانی انسانی بحران کے اہم اعداد و شمار

تاریخی اور ثقافتی تباہی کے ساتھ ساتھ سوڈان کا انسانی بحران اس وقت دنیا کا سب سے بڑا اور ہولناک ترین بحران بن چکا ہے۔ اس جنگی صورتحال سے متعلق معروضی حقائق درج ذیل ہیں:

  • ہلاکتیں: اپریل 2023ء سے شروع ہونے والی اس جنگ کے نتیجے میں اب تک 150,000 (ڈیڑھ لاکھ) سے زائد عام شہری اور اہلکار لقمہ اجل بن چکے ہیں۔
  • بے گھر افراد (Displacement): جنگ اور شدید تشدد کے باعث تقریباً 14 ملین (1 کروڑ 40 لاکھ) افراد اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں، جو دنیا میں سب سے بڑا بے گھری کا بحران ہے۔
  • غیر ملکی پناہ گزین: ان میں سے تقریباً 30 لاکھ سے زائد شہریوں نے مصر، چاڈ، جنوبی سوڈان اور ایتھوپیا جیسے پڑوسی ممالک میں پناہ لی ہے۔
  • قحط اور غذائی قلت: اقوامِ متحدہ کے انسانی امدادی اداروں کے مطابق سوڈان کی نصف سے زائد آبادی (تقریباً 25 ملین افراد) کو شدید غذائی قلت اور قحط کی صورتحال کا سامنا ہے۔

عالمی ردعمل اور یونیسکو کے اقدامات

اقوامِ متحدہ کے تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی ادارے (UNESCO) نے سوڈان کے قومی میوزیم اور دیگر ثقافتی مقامات کی تباہی پر شدید تشویش اور غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ یونیسکو نے عالمی برادری اور بین الاقوامی نوادرات کی مارکیٹ سے اپیل کی ہے کہ وہ سوڈان سے غیر قانونی طور پر لائے گئے کسی بھی نوادرات کی خریدو فروخت سے مکمل گریز کریں۔

عالمی تنظیموں کا کہنا ہے کہ 1954ء کے جنیوا کنونشن (ہالینڈ میں طے پانے والا ثقافتی جائیداد کے تحفظ کا معاہدا) کے تحت مسلح تنازعات کے دوران تاریخی سائٹس اور میوزیمز کو نشانہ بنانا یا انہیں عسکری مقاصد کے لیے استعمال کرنا ایک بین الاقوامی جنگی جرم (War Crime) ہے۔

مستقبل کے اثرات اور تاریخی شناخت کا بحران

سوڈانی معیشت اور معاشرتی تانے بانے پر اس جنگ کے اثرات دہائیوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ قومی میوزیم صرف سیاحت یا معاشی آمدنی کا ذریعہ نہیں تھا، بلکہ یہ ایک ایسے ملک کی مشترکہ قومی شناخت اور فخر کی علامت تھا جو متعدد قومی اور لسانی گروہوں میں تقسیم ہے۔

تاریخی اثاثوں کی تباہی اور لوٹ مار کے باعث سوڈان کی آنے والی نسلیں اپنی تاریخی جڑوں اور ثقافتی ورثے سے محروم ہو جائیں گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک سوڈان میں جنگ بندی اور پائیدار امن قائم نہیں ہوتا، تب تک نہ صرف انسانی جانیں کا زیان جاری رہے گا بلکہ انسانی تاریخ کے گرانقدر باب بھی یونہی راکھ بنتے رہیں گے۔

About The Author

Hina Khan

By حنا خان

حنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔

Glimpse of Cricket بشیر بلور پشاور جلسہ Ambani showing Vantra to Messi Pakistan U-19 The Asian Champion Jobs 14 Dec 2025