اہم نکات:ایران نے جنوبی کوریا کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ مل کر تہران کے خلاف کسی قسم کی عسکری یا بحری کارروائی میں حصہ لیا تو اسے “سنگین نتائج” کا سامنا کرنا پڑے گا۔یہ تنبیہ ان رپورٹس کے بعد سامنے آئی ہے جن میں کہا گیا ہے کہ سیول آبنائے ہرمز کی امریکی بحری ناکہ بندی میں اپنا بحری دستہ شامل کرنے پر غور کر رہا ہے۔ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے دونوں ممالک کے 64 سالہ سفارتی تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے سیول کو امریکی یکطرفہ کارروائیوں کا حصہ نہ بننے کا مشورہ دیا ہے۔آبنائے ہرمز میں امریکی ناکہ بندی کے باعث ایران کی خام تیل کی برآمدات اور عالمی توانائی کی قیمتوں پر شدید اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔تہران / سیول: ایران نے جنوبی کوریا کو واضح اور سخت الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ اگر سیول حکومت نے امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جاری تنازع میں کسی بھی قسم کی مداخلت یا عسکری معاونت کی تو اسے اس کے سنگین سفارتی اور معاشی نتائج بھگتنا ہوں گے۔ تہران کا یہ سخت موقف ان اطلاعات کے بعد سامنے آیا ہے جن کے مطابق جنوبی کوریا آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) میں امریکی بحری فورسز کی طرف سے ممکنہ ناکہ بندی میں اپنا اتحاد شامل کرنے پر غور کر رہا ہے، جس کا مقصد ایرانی تیل کی برآمدات کو محدود کرنا ہے۔ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سماجی رابطے کی سائٹ ‘ایکس’ (سابقہ ٹویٹر) پر جاری اپنے ایک بیان میں کہا کہ ایران اور جنوبی کوریا کے درمیان گزشتہ 64 سال سے دوطرفہ احترام اور باہمی مفادات پر مبنی مضبوط سفارتی تعلقات قائم ہیں۔ تاہم، اگر جنوبی کوریا نے امریکی اقدامات کا ساتھ دیا تو یہ دیرینہ تعلقات شدید متاثر ہوں گے۔ایرانی وزارتِ خارجہ کا بیان اور سفارتی انتباہترجمان اسماعیل بقائی نے تہران کے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ایران اس وقت اپنے دفاع کا بنیادی حق استعمال کر رہا ہے۔ انہوں نے امریکہ کی جانب سے اٹھائے گئے حالیہ عسکری اقدامات کو “پریشر اور جارحیت” قرار دیا اور الزام عائد کیا کہ اس تنازع میں خواتین اور بچوں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ایرانی ترجمان کے بیان کا مرکزی اقتباس درج ذیل ہے:“ایران اور جنوبی کوریا کے مابین 64 سال سے زائد عرصے پر محیط تعلقات کی ایک تاریخی اہمیت ہے اور تہران اس دوستی کی قدر کرتا ہے۔ لیکن اگر سیول حکومت ان امریکی عسکری اقدامات اور ناکہ بندی میں شراکت دار بنتی ہے، جن کا مقصد ایران کو گھیرنا ہے، تو تہران کے پاس اپنے قومی مفادات کا تحفظ کرنے کے لیے مناسب اور سنگین جواب دینے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہے گا۔”آبنائے ہرمز کی بحری ناکہ بندی اور اس کا جغرافیائی پس منظرآبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی سطح پر روزانہ کھپت ہونے والے خام تیل کا تقریباً پانچواں حصہ (20 فیصد) گزرتا ہے۔ حالیہ عرصے میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے اس گزرگاہ میں ناکہ بندی کے سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ تہران کی جانب سے سمندری راستوں سے کی جانے والی تیل کی درآمدات و برآمدات کو ناکام بنایا جا سکے۔سیول کے اس ممکنہ فیصلے کے پیچھے امریکی انتظامیہ کا وہ سفارتی دباؤ ہے جس کے تحت وہ اپنے مشرقی ایشیائی اور مغربی اتحادیوں کو اس بحری اتحاد کا حصہ بننے کی ترغیب دے رہا ہے۔ جنوبی کوریا کے پاس جدید بحری ٹیکنالوجی اور ‘اینٹی پائریسی’ (قزاق پیشگی مخالف) ٹاسک فورس موجود ہے، جسے آبنائے ہرمز یا خلیجِ عمان میں تعینات کیا جا سکتا ہے۔مشرقِ وسطیٰ اور مشرقی ایشیا کا معاشی و سفارتی تناظرجنوبی کوریا اور ایران کے درمیان سفارتی و تجارتی تعلقات کی تاریخ دہائیوں پر محیط ہے، لیکن امریکی پابندیوں اور مشرقِ وسطیٰ کے حالیہ بحران نے ان تعلقات کو ایک مشکل موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔اس تنازع اور اس سے جڑے معاشی حقائق درج ذیل اہم پوائنٹس کے ذریعے سمجھے جا سکتے ہیں:توانائی کا انحصار: جنوبی کوریا اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے خلیجی ممالک کے خام تیل اور مائع قدرتی گیس (LNG) پر بھاری انحصار کرتا ہے، جس کا ایک بڑا حصہ اسی آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے۔منجمد ایرانی اثاثے: ماضی میں بھی جنوبی کوریا کے بینکوں میں اربوں ڈالر کے ایرانی تیل کے اثاثے امریکی پابندیوں کے باعث منجمد رہے تھے، جو طویل عرصے تک دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تناد کا سبب بنے۔عالمی تیل کی قیمتیں: اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھتی ہے یا ناکہ بندی کا عمل تیز ہوتا ہے، تو عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہو سکتا ہے جس کا براہِ راست اثر ایشیائی معیشتوں پر پڑے گا۔ایشیا-مشرقِ وسطیٰ تعلقات: جنوبی کوریا کے اس ممکنہ قدم سے خلیجی خطے اور ایشیائی ملکوں کے درمیان توازنِ برقرار رکھنا دشوار ہو جائے گا۔جنوبی کوریا کے لیے درپیش سفارتی اور سیاسی دھرم کاٹجنوبی کوریا کے صدر اور ان کی کابینہ اس وقت ایک انتہائی باریک سفارتی لکیر پر چل رہے ہیں۔ ایک طرف سیول اپنے سب سے بڑے فوجی اور سیکیورٹی اتحادی، امریکہ، کی درخواست کو نظر انداز نہیں کر سکتا، جبکہ دوسری طرف وہ تہران کے ساتھ کسی براہِ راست تصادم سے بچنا چاہتا ہے۔جنوبی کوریا کے معاشی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر سیول امریکی بحری اتحاد میں باضابطہ طور پر شامل ہوتا ہے، تو خلیجِ فارس میں موجود اس کے تجارتی جہازوں اور تیل بردار برتنوں کو شدید سیکیورٹی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سیول انتظامیہ نے ابھی تک اس معاملے پر کوئی حتمی اور علانیہ فیصلہ جاری نہیں کیا ہے اور وہ تمام پہلوؤں کا بغور جائزہ لے رہی ہے۔عالمی معیشت پر اثرات اور آئندہ کا لائحہ عملاگر ایران اور جنوبی کوریا کے درمیان سفارتی سطح پر تناد مزید بڑھتا ہے یا آبنائے ہرمز میں ناکہ بندی کے نتیجے میں کوئی عسکری حاد ثہ پیش آتا ہے، تو اس کے اثرات محض ان دو ممالک تک محدود نہیں رہیں گے:سپلاٗئی چین کے مسائل: خلیج سے ایشیا کو ہونے والی خام تیل کی ترسیل میں تاخیر یا رکاوٹ پیدا ہوگی، جس سے پیٹروکیمیکل اور پروڈکشن انڈسٹریز شدید متاثر ہوں گی۔سفارتی تناؤ: بین الاقوامی برادری، بشمول اقوامِ متحدہ اور دیگر ایشیائی ممالک، خلیجِ فارس میں بحری جہاز رانی کی آزادی کی حمایت کرتے ہیں، تاہم کسی بھی یکطرفہ ناکہ بندی کو بین الاقوامی قانون کے تحت چیلنج کیا جا سکتا ہے۔عالمی سفارت کاری کا امتحان: تہران کا یہ ردِعمل اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ وہ اپنے خلاف بننے والے کسی بھی عالمی یا علاقائی اتحاد کو روکنے کے لیے سخت سفارتی اور سیاسی راستے اختیار کرے گا۔آئندہ چند روز میں سیول حکومت کا باضابطہ ردِعمل اور وائٹ ہاؤس کے ساتھ اس کے مذاکرات یہ طے کریں گے کہ آیا جنوبی کوریا اس بحری ناکہ بندی کا حصہ بنتا ہے یا تہران کے ساتھ اپنے 64 سالہ سفارتی تعلقات کا پاس رکھتے ہوئے اس تنازع سے دور رہنے کا راستہ منتخب کرتا ہے۔About The Author حنا خانحنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ See author's posts Post navigationہالی ووڈ اسٹار اینجلینا جولی کا شدید بمباری سے متاثرہ یوکرینی شہر خارکیو کا غیر متوقع دورہ، مقامی باکسنگ کلب میں آمد نائن الیون کے 25 سال: نیویارک سٹی کے میئر زہران ممدانی کا نچلے مین ہٹن کی ہوا کی معیار کی تحقیقات سے متعلق اہم دستاویزات عام کرنے کا فیصلہ