اہم نکات:امریکی اخبار ‘واشنگٹن پوسٹ’ نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیمپ ڈیوڈ میں کابینہ کے اجلاس کے دوران وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ پر ہتھیاروں کی مبینہ قلت کے معاملے پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔رپورٹس کے مطابق گائیڈڈ میزائلوں اور فضائی دفاعی نظام (انٹرسیپٹرز) کی کمی کی وجہ سے ایران کے خلاف حالیہ دنوں میں مزید بڑے فوجی حملے نہ کرنے کا فیصلہ اثر انداز ہوا۔وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون نے اس خبر کی سخت الفاظ میں تردید کرتے ہوئے اسے “100 فیصد فیک نیوز” اور من گھڑت کہانی قرار دیا ہے۔ماہرین کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کی وجہ سے امریکی فوجی ذخائر پر پڑنے والے بوجھ نے واشنگٹن کی عالمی دفاعی پالیسی پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کے درمیان امریکی فوج کے پاس گائیڈڈ میزائلوں اور فضائی دفاعی نظام کی مبینہ قلت پر پیدا ہونے والے شدید اختلافات کی خبروں نے عالمی سیاسی و دفاعی حلقوں میں سنسنی پھیلا دی ہے۔ امریکی روزنامے ‘واشنگٹن پوسٹ’ نے ذرائع کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے کیمپ ڈیوڈ میں منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران وزیر دفاع سے سخت باز پرس کی اور یہ سوال اٹھایا کہ انہیں امریکی اسلحے کی سنگین کمی کے بارے میں پہلے سے مکمل اور درست معلومات کیوں فراہم نہیں کی گئیں۔رپورٹ کے مطابق، امریکی اسلحے کے ان خالی ہوتے ہوئے ذخائر کا راست اثر ایران کے خلاف امریکی ملٹری آپشنز پر پڑا ہے، جس کے نتیجے میں واشنگٹن کو تہران کے خلاف مزید بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیوں سے فی الحال پیچھے ہٹنا پڑا ہے۔ تاہم وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون نے ان تمام دعوؤں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ صدر ٹرمپ کو اپنے وزیر دفاع پر مکمل اعتماد ہے۔کیمپ ڈیوڈ اجلاس کا مبینہ واقعہ اور ٹرمپ کی برہمیواشنگٹن پوسٹ نے دو اہم ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ یہ تنازع گزشتہ جمعے کو کیمپ ڈیوڈ میں کابینہ کے ایک اہم اجلاس کے موقع پر سامنے آیا۔ اخبار کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس تاثر میں تھے کہ امریکی فوجی ذخائر اور دفاعی پیداوار کا مسئلہ پہلے ہی حل کیا جا چکا ہے۔ تاہم، جب انہیں یہ پتہ چلا کہ جدید دور رس گائیڈڈ میزائلوں اور پیٹریاٹ جیسے فضائی دفاعی انٹرسیپٹرز کی شدید قلت موجود ہے، تو انہوں نے وزیر دفاع پر برہمی کا اظہار کیا۔دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس موقع پر وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے اپنا دفاع کرتے ہوئے موقف اپنایا کہ انہیں معلومات کی فراہمی میں ڈپٹی سکریٹری دفاع اسٹیفن فائن برگ کی جانب سے سستی کا سامنا رہا۔ رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ کے کچھ دیگر عہدیداروں کا بھی خیال تھا کہ ہیگستھ نے ایران کے خلاف کارروائی کی ترغیب دیتے وقت ہتھیاروں کی عملی صورتحال کا صحیح اندازہ پیش نہیں کیا تھا۔ایران کے خلاف ملٹری آپشنز اور امریکی حکمت عملی پر اثراتاس خبر کا سب سے حساس پہلو یہ دعویٰ ہے کہ امریکی ہتھیاروں اور خصوصاً فضائی دفاعی میزائلوں کی کمی نے ایران کے خلاف فوجی حکمت عملی کو براہ راست متاثر کیا ہے۔رپورٹس کے مطابق:حملوں کی منسوخی: صدر ٹرمپ نے گزشتہ دنوں ایران کے خلاف جس بڑے حملے کا اشارہ دیا تھا، اسے حتمی مرحلے میں روکنے یا محدود کرنے کی ایک بڑی وجہ یہی اسلحے کی عدم دستیابی بنی۔دفاعی توازن کی ترجیح: پینٹاگون اب اپنے گائیڈڈ اور دفاعی میزائلوں کو استعمال کرنے میں انتہائی احتیاط برت رہا ہے تاکہ مشرق وسطیٰ میں قائم امریکی اڈوں کی حفاظت متاثر نہ ہو۔ٹیکنیکل ایڈجسٹمنٹ: فضائی خطرات سے نمٹنے کے لیے اب انٹرسیپٹرز کے استعمال کی شرائط اور طریقہ کار میں تبدیلی کی گئی ہے تاکہ ذخائر کو جلد ختم ہونے سے بچایا جا سکے۔واشنگٹن پوسٹ کا ڈیٹا اور امریکی دفاعی ذخائر کی صورتحالمشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور ایران کے ساتھ معرکہ آرائی کے بعد امریکی ملٹری انوینٹری پر پڑنے والے بوجھ کے حوالے سے دفاعی ماہرین کے اعداد و شمار تشویشناک ہیں۔ سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز (CSIS) اور دیگر دفاعی رپورٹوں کے مطابق:ٹوماہاک کروز میزائل: معرکے کے ابتدائی عرصے میں ہی امریکا کی جانب سے 850 سے زائد ٹوماہاک کروز میزائل فائر کیے گئے۔پیٹریاٹ انٹرسیپٹرز: امریکی فوج کے پیٹریاٹ (Patriot) اور تھاڈ (THAAD) دفاعی نظام کے ذخائر میں تقریباً 65 فیصد تک کمی دیکھی گئی ہے۔ٹیکٹیکل میزائل (ATACMS): فوج کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے تاکتیکی میزائلوں کے ذخائر اس حد تک استعمال ہو چکے ہیں کہ اب پینٹاگون کے پاس ان کی سخت قلت پیدا ہو چکی ہے۔پیداواری دورانیہ: ایک نیا پیٹریاٹ میزائل تیار کرنے میں دفاعی کمپنیوں کو 18 سے 24 ماہ کا وقت درکار ہوتا ہے، جس کی وجہ سے فوری رسد ممکن نہیں ہو پا رہی۔ان اعداد و شمار سے یہ واضح ہوتا ہے کہ مسلسل عسکری تحرک کی وجہ سے دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت کے اپنے تیار شدہ دفاعی ذخائر دباؤ کا شکار ہوئے ہیں۔وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون کی سخت تردیدواشنگٹن پوسٹ میں شائع ہونے والی اس تفصیلی رپورٹ کے فوراً بعد وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون کی جانب سے زبردست ردعمل سامنے آیا ہے۔وائٹ ہاؤس کی پریس سکریٹری کیرولین لیوٹ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اس خبر کو “100 فیصد فیک نیوز” قرار دیتے ہوئے کہا:“کیمپ ڈیوڈ کے اجلاس میں ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔ یہ کہانی محض ایک من گھڑت پروپیگنڈا ہے جو وزیر دفاع کی شخصیت کو نشانہ بنانے کے لیے گھڑی گئی ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنے وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ پر مکمل اور غیر متزلزل اعتماد ہے۔”اسی طرح پینٹاگون کے مرکزی ترجمان شان پارنل نے بھی اس خبر کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وزیر دفاع نے صدر یا کابینہ کو کسی قسم کی غلط معلومات نہیں دیں اور نہ ہی انہوں نے اپنے نائب پر کوئی ملبہ ڈالا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکی افواج اپنی تمام تر ضروریات کو پورا کرنے اور اپنے اتحادیوں کا دفاع کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں۔خود صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے بیان میں کہا کہ امریکا کے پاس کسی بھی دوسرے ملک سے زیادہ اور ضرورت سے کہیں زیادہ جدید اسلحہ موجود ہے۔ انہوں نے اس قسم کی معلومات افشا کرنے والے عناصر کو تنبیہ کی کہ غلط خبریں پھیلانے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔پس منظر اور بین الاقوامی اثراتامریکی اسلحے کی قلت کی بحث صرف ایران کے ساتھ تنازع تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کے اثرات عالمی سطح پر دیکھے جا رہے ہیں۔ یوکرین کی جنگ، ایشیا میں سیکیورٹی چیلنجز اور مشرق وسطیٰ کی پیچیدہ صورتحال کے باعث امریکی دفاعی انڈسٹری کی پیداواری صلاحیت پر مسلسل سوالات اٹھ رہے ہیں۔پینٹاگون نے ان حالات سے نمٹنے کے لیے کانگریس سے اضافی 67 ارب ڈالر کا ہنگامی دفاعی بجٹ مانگا ہے تاکہ خالی ہوتے ہوئے ذخائر کو دوبارہ بھرا جا سکے اور دفاعی مینوفیکچرنگ لائنز میں وسعت لائی جا سکے۔ تاہم، سیاسی قانون سازی میں تاخیر اور بجٹ کی منظوری میں رکاوٹوں کی وجہ سے دفاعی کمپنیوں کو اپنے پیداواری عمل کو تیز کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔مجموعی طور پر، اگرچہ ٹرمپ انتظامیہ میڈیا کی ان خبروں کی مسلسل تردید کر رہی ہے، لیکن واشنگٹن پوسٹ کی یہ رپورٹ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ امریکہ کے اندر اعلیٰ ترین سطح پر طویل عسکری مہمات کے معاشی اور لاجسٹک اثرات پر شدید مباحثے اور خدشات جنم لے چکے ہیں۔About The Author حنا خانحنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ See author's posts Post navigationپاکستان میں سود سے پاک اسلامی مالیاتی نظام کا نفاذ: اسٹیٹ بینک کا بڑا اعلان، 2027ء کا ہدف اور تکنیکی اصلاحات